سوشل میڈیا کا استعمال


جدید دور کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی بڑھتی ہوئی ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ گھر بیٹھے سیکنڈ میں انسان کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ اس نے بہت آسانیاں پیدا کی ہی ہیں۔ سات سمندروں کی دوریاں لمحوں میں سمیٹ کر رکھ دی ہیں۔ گھر بیٹھے لاکھوں لوگوں کی روزی کا سبب بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت اکیسویں صدی میں ایسی ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں جن کا انسان نے نہ کبھی سنا نہ سوچا۔ جہاں اس کے فائدے ہیں وہیں اس کا بے دریغ استعمال ملک و قوم کے لئے وبال جان بھی ہے۔

پچاس فیصد سے زائد جرائم جدید ٹیکنالوجی سے کیے جاتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کا ایک استعمال انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بھی ہے۔ جو کہ سب سے زیادہ استعمال ہو رہا ہے ہر عام و خاص کی پہنچ میں بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی چیز کی زیادتی جان لیوا ہے اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لئے جان لیوا ہی ہے۔ سب سے اہم اور لمحہ فکریہ ہماری نوجوان نسل کا سوشل میڈیا کا ایڈکٹ ہونا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں سارٹ فون اور دنیا جہان کی رسائی ہے۔

بچے معصوم ہوتے ہیں نا سمجھ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا ہمارے بچوں کی معصومیت کو ناکارہ اور فحاش مواد کے ذریعے نوچ رہا ہے۔ طالب علم اپنا قیمتی وقت سوشل میڈیا پر ضائع کر رہے ہیں۔ نصابی اور غیر نصابی صحت مندانہ سر گرمیوں کا گلہ سوشل میڈیا نے گھونٹ دیا ہے۔ مسلمان اس لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی نے یوں ہی نہیں کہا تھا کہ ”اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے تباہ کرنا چاہتے ہو تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی عام کر دو۔“

اور ایسا ہی ہو رہا ہے دن بدن سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ہماری جڑوں میں گھر کر رہا ہے۔ فحش مواد نہ صرف نوجوانوں میں زنا جیسے جرائم کو عام کر رہا ہے بلکہ اس کے بہت سے نقصانات، نظر کی کمزوری، سر درد، بے سکونی اور دوسری بہت سی نفسیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ، وقت کا ضیاع، اسلامی تعلیمات سے دوری ہیں۔ طالبہ کی تعلیمی ناکامی کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے جس کے نتیجے میں کئی طالبعلم خود کشی جیسا حرام قدم اٹھا چکے ہیں۔

کسی ملک میں اتنی کم قیمت پر انٹرنیٹ میسر نہیں جتنے سستے انٹرنیٹ پیکجز پاکستان میں ہیں۔ بچے اور نوجوان جسمانی سرگرمیوں سے کوسوں دور سوشل میڈیا سے مفلوج ہوتے جا رہے ہیں۔ بچوں کو سیکھنے کا موقع نہیں مل رہا اور نہ طالبعلموں کو اپنی ذہانت اور قابلیت نکھارنے کی فرصت۔ سوشل میڈیا کے لحاظ سے وقت کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے اور حسب ضرورت اور صحت مندانہ استعمال کی بچوں میں آگاہی پیدا کی جائے۔

Facebook Comments HS