پنجاب کے کھیل جو شاید اب بھی کہیں کھیلے جاتے ہوں



یادیں باقی رہ جاتی ہیں کبھی کھانوں کی صورت کبھی کھیلوں تو کبھی رشتوں کی صورت۔ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں کمرے میں بندھے ہونے کا ایک فائدہ بھی ہے کہ بندہ اور کچھ نہیں تو یادیں سنجوگ لے اور کہانیاں بن لے۔ میں انسٹاگرام پر لوگوں کی تصویری کہانیاں دیکھ رہی تھی کہ ایک کھیل کی ویڈیو نظر سے گزری جو مجھے میرے سکول لے گئی جہاں جماعت چہارم سے جماعت ہفتم تک میں نے کھیل نہیں کھیلے بے فکر زندگی جی ہے۔ ان دنوں میرا گھر کچا ہوا کرتا تھا۔ بیٹھک پر لیپا پوتی ہوا کرتی تھی۔ البتہ فرش چائینہ مٹی کا ہوا کرتا تھا جو شاید اب نہ ہو کہ گھر کے خدوخال اتنے یاد نہیں ہیں۔ پر لال فرش مجھے بڑا بھاتا تھا کہ گھر میں ایک ہی جگہ تھی جہاں رنگ آباد تھے، اسی لال فرش کو میں بڑے پیار سے دھو مانجھ کر بہت سے لالی نما شیڈز بنایا کرتی تھی۔ سکول میں زیرو پیریڈ کا چلن تھا اور ہم سکھیاں سہیلیاں زیرو پیریڈ سے بھی پہلے سکول میں چڑیوں کے جاگتے ساتھ پہنچ جایا کرتی تھیں۔ میرے گھر کے سامنے سکول کی عمارت تھی اور دور دراز گاوٴں سے آنے والیاں تاروں کی چھاؤں میں ہی تیار ہو کر گھر سے اسکول کو چلا کرتی تھیں۔ یوں سورج کے اگتے ہم اسکول میں راضیہ چاچی اور ولیم چاچا کی صفائی دھلائی دیکھنے کے ساتھ ساتھ شیدو دادی کو لوہا اکٹھا کرتے اور ریت چھانتے دیکھتے اور اپنی کھیلوں میں مصروف رہتے۔ میری تو دادی کی آنکھ کھلتی، پراٹھا تیار ہوتا اور مجھے ڈھونڈنے دادی گھر سے نکلتی۔ نواری کونے تک ہر روز قبروں کو سلام کرتے سکول کے پچھلے دروازے کی جانب مڑ آتی کہ اس کو یاد آتا کہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ اسکول میں کھیلتی ہی ملوں گی۔ پھر کیا ہونا تھا۔ جو میں درخت کے ساتھ بندھی مل جاوٴں تو وہ ڈوئی سے کٹ پڑتی اور منہ دھلوا، بالوں میں فٹافٹ تیل ڈال دو بڑی بڑی چوٹیاں بنا زبردستی کھانا کھلا یہ جا وہ جا۔ دادی کو صبح سویرے اس بات پر شدید غصہ آتا کہ میں ان کے جاگنے سے پہلے نماز ختم کرنے سے پہلے ہی گھر سے بھاگ کر سکول آ دھمکتی ہوں اور زیرو پیریڈ سے پہلے ہی کپڑے یوں کر دیتی ہوں جیسے صدیوں کی میل جم گئی ہو۔
ہم جو کھیل کھیلتے تھے مجھے ان کے نام یاد نہیں اور جن چہروں کے ساتھ کھیلتی تھی وہ بھی یاد نہیں۔ بس کوئی ایک ادھا نام ہے جو یاد کے نہاں خانوں میں گونجتا ہے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کھیلنے والیاں شادیاں کر کے گھر بسا چکی ہوں گی یا نوکریاں کرتے ہوئے کہیں نہ کہیں بیٹھی شاید یاد کرتی ہوں کہ ایک شرارتی رانو (میرا خطاب) تھی جس کی بوڑھی دادی اسے روٹی کھلانے سکول آتی اور مجال جو گیٹ کیپر وسیم مائیکل کی ہمت ہو دادی کو اسکول آنے سے روکنے کی۔
دن مہینوں میں بدلے اور مہینے سال ہوئے۔ وہ کھیل کھیلنے والے جوان ہوئے اور کھیل کی باقیات بھی نہیں رہیں۔ پر یونیورسٹی میں لگے ڈھیروں درخت ڈھیر ساری کہانیاں سناتے ان چناروں کی اوٹ میں چپ چاپ چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دو پل کو بیٹھو اور ذہن پر کچھ زور ڈالو، سوچو کہ کیا کھیل کھیلا کرتے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کسی ایک لڑکی کی باری لگتی تھی اور اس کو درخت کے ساتھ باندھا جاتا تھا رسی کے دونوں سروں کو درخت سے گزارتے ہوئے ایک گرہ ادھر اور دوسری ادھر کو بندھتی ہے پھر یعنی رسی پنجرے کا کام کرتی تھی اور پنجرے میں درخت اور انسان قید کیے جاتے تھے۔ مگر ایسی صورت بخشی جاتی تھی کہ درخت کے اطراف گھوما جا سکے۔ پھر ایسا بھی کھیلا ہے کہ درخت کے گرد دائرہ لگا دیتے تھے چھڑی سے اور لڑکی اس دائرے سے باہر پیر نہیں نکال سکتی روکنے کے لیے۔ اور پھر دوسری کھلاڑی کو دور سے بھاگ کے آنا ہوتا تھا اور درخت کر چھونا ہوتا تھا اگر وہ کامیاب ہو جائے تو جیت جاتی تھی۔ تو میں کبھی بھاگ کر درخت چھونے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی، ہمیشہ گر جاتی تھی۔ مگر میں درخت کے ساتھ بندھی ہوں تو پتہ نہیں کدھر سے اتنی طاقت آتی تھی کہ نشانے پر ہلکے سے دھکے سے بھگا دیتی تھی۔
جماعت ششم میں تو باڈی یا ڈابی کھیلتے تھے سردیوں کی صبحوں میں جب کہرے کی چادر جمی ہوتی تھی ایسے میں اپنی نیلی جرسیاں اتارے صرف یونیفارم پہنے پسینے میں شرابور کھیلتے تھے۔ بہت سے خانے ہوتے تھے جسے پار کرنا ہوتا تھا۔ میں تو بس بھاگ کے 5 منٹ میں کھیل ختم کر لیتی تھی اور میرے علاوہ سونیا سونیا سونیا ہوا کرتی۔ سونیا اکرم اور سونیا وکرم۔ دونوں کلاس میں ہوا کرتی تھیں اور دونوں بیسٹ فرینڈز تھیں۔ کسی کو ہم بڑی بھی کہتے تھے کیونکہ وہ مہینے کا ایک ہفتہ نہیں کھیلتی تھی اور اکثر دھوپ میں بیٹھی رہتی۔ کلاس ٹیچرز اس کو کلاس دینے اس کے پاس جایا کرتی تھیں تو کبھی پوری کلاس ہی دھوپ میں بٹھائی جاتی تھی۔ تب مجھے سن برن بہت ہوتا تھا۔ ہمیشہ ہی منہ لال ہوا کرتا اور پھر ایک دن وہ بھی تھا جب مجھے استانیوں نے بھی ٹماٹر کہہ کر پکارا اور میں روتے روتے گھر بھاگ آئی۔ اگلے دن میں انہیں استانیوں کے ساتھ ڈابی کھیل رہی تھی۔ ایک یاد یہ بھی ہے کہ مس عمارہ اور مس ثمینہ ایک تو دونوں پٹھانی جو پشتو میں کچھ نہ کچھ بولے جا رہی ہیں اور ہمارے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ دونوں دیورانی جیٹھانی سے ہم 2-2 کے ساتھ برابر رہے تھے۔ دونوں اتنے شاندار کھلے کھلے اور ڈھیر سارے رنگوں سے بھرے کپڑے پہنا کرتی کہ ہماری تو ان پر سے نظر نہیں ہٹتی تھی۔ ایک تو میری ہمنام تھی۔ پر کھیل میں مس عمارہ کا نام ہم زیادہ پکارا کرتے تھے۔ بریک میں مالٹے اور لوکاٹ بھی درختوں سے توڑ توڑ کے انہیں کے ساتھ ہم کھاتے تھے۔
یادوں کی بارات اور کہاں کہاں تک چلے گی۔ یاد سے جڑی ایک اور یاد یوں آئی کہ ہم کلیجی توے پر صرف نمک لگا کر ڈھکتے تھے اور پانچ منٹ میں بھنی ہوئی کلیجی تیار۔ بہت مزا آتا تھا مگر کلیجیوں سے سنکے توے کی پچھلی جانب بہت سی اگ میں اگی لال چیونٹیاں چلا کرتیں جسے ہم کہا کرتے ستارے چاند کی بارات لیے نیلم پری کے گھر جا رہے ہیں۔ اور یوں ہم داستانوں سے نکل نیند کی وادی میں ہر رات کھو جایا کرتے۔ چاند کی روشنی اجلی ہوا کرتی تھی۔ سرد راتوں میں چاند کی کھلی کھلی روشنی پیر پنجال رینج کے پہاڑوں پر پڑتی تو ہماری داستانوں میں بھیڑیا معصوم سا جانور بن کر آیا کرتا جو ہمارے ساتھ وہی کھیل کھیلا کرتا جو نیلی پیلی لال چنبیلی روشنی کے کھلتے ہی منہ ہاتھ دھو، فٹافٹ یونیفارم پہن، تیار ہو کر بھاگم بھاگ یہ جا وہ جا اسکول کے میدان میں کنوئیں کے پاس جمع ہو درخت سے رسی باندھ ہم یونہی روزانہ کھیلا کرتے تھے۔ سنا ہے عمار فیض انہیں کھیلوں کا ارکائیو بنا رہے ہیں۔ مولا خوش رکھے۔ داستانیں تو ان کے بچپن کی بھی جڑی ہوں گی پر یہ وہ کھیل ہیں جو اب گلی کوچوں میں دور دور تک دکھائی نہیں پڑتے۔ اب تو آئی پیڈ اور آنکھیں سجا دینے والے کھیل جو صرف کمپیوٹر پر کھیلے جاتے ہیں۔ چھوٹا ابھی ابھی نوکری لگا ہے، اس کی اسپیشلائیزیشن یہی کھیل ہیں۔ مگر امید نہیں ہے کہ ان کھیلوں کو زندہ کیا جائے گا۔ امید یہ ہے کہ یہ کھیل کسی نہ کسی یاد کی صورت ہماری اجتماعی یاد داشت کا حصہ رہیں گے۔ نہ بھی رہیں تو ہم ہیں نا کہانی سنانے کے واسطے ۔ ہاں مگر کھیل جیت جانے پر ہمیں اب کنگری والا روپیہ ہمیں کوئی نہیں دے گا۔

Facebook Comments HS