خوش آمدید آسٹریلیا


پانچ بار ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر پہ سجانے والی آسٹریلین کرکٹ ٹیم کو دنیا کی ایک نمبر کرکٹ ٹیم مانا جاتا ہے کیونکہ ٹریک ریکارڈ کے مطابق ٹیم آسٹریلیا کی فتوحات کا تناسب کسی بھی دیگر ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں میں سب سے بہترین ہے۔

ٹیسٹ میچز ہو یا ون ڈے مقابلے یا پھر ٹی ٹونٹی کا رنگا رنگ میلا ہو، کسی بھی فارمیٹ میں آسٹریلیا کو ہرانا چنداں آسان نہیں ہے اور اگر آسٹریلیا کو ہوم گراؤنڈز کا ایڈوانٹیج بھی مل جائے تو پھر آسٹریلین باؤلرز اور بیٹسمینوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ابھی حال ہی میں انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو ایشز سیریز میں 4۔ 0 کی عبرت ناک شکست سے دوچار کرنا اس کی روشن مثال ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی کسی بھی ٹیم کا دورہ آسٹریلیا ہمیشہ سے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ آسٹریلیا کو اس کے ہوم گراؤنڈز میں مشکل ترین حریف مانا جاتا ہے، آسٹریلیا کی گھاس سے بھرپور سر سبز پچز پر ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آتی شارٹ پچ بالز کو کھیلنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ آسٹریلیا کی سر زمین پہ آسٹریلین باؤلرز کی چکر دیتی گیندوں کا مقابلہ کرنا اور سنچری سکور کرنا کسی بھی بیٹسمین کا خواب ہوتا ہے۔

لیکن آسٹریلیا اپنے ملک سے باہر بھی کوئی آسان حریف نہیں ہے اور خاص طور پر بڑے ایونٹس کے اہم ترین میچز میں آسٹریلیا کا کم بیک کمال کا ہوتا ہے۔ ابھی چند مہینوں پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کے خلاف آسٹریلیا کی رن چیز کون بھول سکتا ہے جس میں اہم ترین وکٹیں گنوانے کے بعد بھی میتھیو ویڈ کے شاہین آفریدی کو لگائے چھکوں نے میچ کا فیصلہ ہی کر ڈالا۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین ہونے والے ٹیسٹ میچز کے ریکارڈ پر نظر دوڑائیں تو آسٹریلیا کو واضح برتری حاصل ہے۔ اب تک ہونے والے 66 میچز میں سے 33 میں کینگروز نے فتح حاصل کی، 15 بار فتح پاکستان کا مقدر بنی اور 18 مقابلے بنا ہار جیت کے ختم ہو گئے۔ 104 بار ون ڈے انٹرنیشنل مقابلوں میں جوڑ پڑا جن میں 68 میچز میں آسٹریلیا کو فتح حاصل ہوئی اور 32 مقابلوں میں پاکستان فتحیاب ہوا۔

آسٹریلین کرکٹ ٹیم نے آخری بار 1998 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں پاکستان کو 1۔ 0 کی شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا اور اسی طرح تین ون ڈے انٹرنیشنلز میں بھی 3۔ 0 سے شکست ہوئی تھی۔ آسٹریلین کرکٹ ٹیم پاکستان کو ہوم گراؤنڈز اور کراؤڈ کی موجودگی میں مات دے کر رخصت ہو گئی تھی اور پھر اس کے بعد آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کبھی پاکستان نہ آئی۔ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر ہر بار ہوم سیریز کو متحدہ عرب امارات کے گراؤنڈ میں کروانا پڑا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو وطن عزیز میں کرکٹ کو زندہ رکھنے اور اچھے دنوں کی امید پہ یہ کڑوا گھونٹ کئی بار پینا پڑا کہ اپنی ہوم سیریز یو اے ای میں جاکر کروانا پڑیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کامیابی کا کریڈٹ دینا ہو گا کہ مشکل ترین حالت میں بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرکٹ کو کسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھا۔

لیکن 2022 اس لحاظ سے خوشی کا سال ہے کہ اس سال آسٹریلین کرکٹ بورڈ نے اپنی کرکٹ ٹیم کو 24 سال کے بعد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا، آسٹریلیا نے بالآخر آئندہ دورہ پاکستان کے لیے اپنے مکمل سکواڈ کا اعلان بھی کر دیا ہے اور وعدے کے مطابق سپر اسٹارز کی اکثریت کو شامل کر لیا گیا ہے۔ پیٹ کمنز تین ٹیسٹ میچوں کے تاریخی دورے میں آسٹریلوی ٹیم کی قیادت کریں گے اور ان کے ساتھ جوش ہیزل ووڈ، ڈیوڈ وارنر، مچل سٹارک، سٹیو اسمتھ کے نامور نام بھی ہوں گے۔

یہ بات بتانے کے قابل ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کا اس دورے سے باہر نہ نکلنا، جس کا پہلے اندازہ تھا، پاکستان کرکٹ اور اس کی گورننگ باڈی کے لیے اعتماد کا ایک بڑا ووٹ ہے۔ ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ 4 سے 8 مارچ تک راولپنڈی میں کھیلا جائے گا، دوسرا ٹیسٹ 12 سے 16 مارچ تک کراچی اور تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ 21 سے 25 مارچ تک لاہور میں کھیلا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق محدود اوورز کی سیریز کے لیے ٹیم کا اعلان ٹیسٹ سیریز کی تکمیل سے قبل کیا جائے گا۔ کرکٹ آسٹریلیا (CA) نے پہلے ہی بنیادی حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا تھا اور ان کی واپسی پر مثبت آراء پیش کی تھیں۔

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کی راہ میں حائل رکاوٹیں آہستہ آہستہ دور ہوتی جا رہی ہیں، آسٹریلیا جیسی بڑی اور مضبوط ٹیم کی آمد کو ایک بڑا بریک تھرو کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ دورہ آسٹریلیا اور پاکستان دونوں کے لیے اپنی اپنی جگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن وطن عزیز پاکستان کے لیے تو اس کی اہمیت کھیل سے کہیں آگے کی بات ہے۔ شکریہ آسٹریلیا گڈ لک پاکستان

Facebook Comments HS