پہلے عوام اپنا کام کریں
آئی ایم ایف کوئی فلاحی ادارہ نہیں ہے، نہ ہی اس کا کام غریبوں اور مسکینوں کی فلاح کے لیے کام کرنا ہے۔ یہ ایک کاروباری ادارہ ہے جو ایسے ممالک کو اپنے لیے سود پر قرضہ دیتا ہے جو اپنے ملک کو بہتر انداز میں چلا نہیں پا رہے ہوتے تاکہ وہ ان پیسوں کی مدد سے بحران سے نکل سکیں اور عوام کے لئے افادیت پیدا ہو اور اس کا بہتر استعمال کر کے اپنے سسٹم کو بہتر انداز میں چلانے کے اہل ہو سکیں۔
آئی ایم ایف کا قرض دینے کے پیچھے مفاد وہ سود ہے جو اس پیسے کے بدلے باقاعدہ معاشی ابتری کا شکار ممالک سے وصول کیا جاتا ہے۔
جیسے کہ ہم لوگ جانتے ہیں اور بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ سودی نظام ایک بے رحمانہ نظام ہے۔ اس میں رحم کی امید نہیں کرنی چاہیے اور آپ جس سے پیسہ لے رہے ہیں ظاہر ہے اس کے قوانین اور شرائط ماننا بھی آپ پر فرض ہے۔
اگر آپ سانپ گھر میں پالیں گے تو اس سے یہ امید نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ آتے جاتے آپ کے ہاتھ پاؤں چومے گا اور کاٹے گا نہیں۔ انسان پہلے اتنا گرے ہی نہیں کہ سانپ پالنے یا ان سے دوستیاں کرنے کی نوبت آئے۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ آئی ایم ایف کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کام کرے گا یا گورنر ان کا ہو گا تو حقیقت یہ ہے کہ جس سے قرض لے کر آپ پیسے رکھتے ہیں اس کی نظر پیسوں پر ضرور ہوتی ہے وہ دیکھتا ہے کہ آپ ان پیسوں کا استعمال کس طریقے سے کرتے ہیں، کسے پیسے لیے اور دیے جا رہے ہیں۔
آپ کا پیسے واپس کرنے کا ریکارڈ آگے ہی انتہائی برا ہے اور آپ اس سے لگاتار قرض لے رہے ہیں اور اب اسے یہ شک پڑ رہا ہے کہ یہ قرضہ واپس نہیں کریں گے اور میرا پیسہ ڈوب جائے گا۔ اب میں اس سے نچوڑ کر تو پیسہ نکالنے سے رہا۔ مجھے ایسی شرائط لگانا پڑیں گی تاکہ وہ انہیں مانے اور میرا پیسہ واپس آتا رہے۔
اس کا پہلا قدم انہوں نے یہ اٹھایا کہ حکومت کی بے جا مداخلت سٹیٹ بینک کے ساتھ بند کی جائے کیونکہ سیاست دان تو پاکستان کے تھے مگر آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے پیسوں کو سیاسی مقاصد اور جن معاملات میں سیاسی قد کاٹھ کی بڑھوتری ہونا مقصود ہو وہاں پر خرچ کرتے تھے یا خاندانی مقاصد پورا کرنے کے لیے قرض لیتے تھے اور بظاہر عوام کو یہی دکھاتے تھے کہ تمام معاملات مثالی طریقے سے چل رہے ہیں جبکہ تمام معاملات سود پر چل رہے تھے اور خطرہ یہ تھا کہ قرض جب بند ہو گا اور اپنے سپورٹ سسٹم پر چلنے کی کوشش کریں گے تو بربادیاں نظر آئیں گی۔
پہلے آئی ایم ایف کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ سیاستدان قرض کو اس مقصد کے لئے استعمال کرتے تھے مگر جیسے ہی انہیں ان معاملات کی خبر ہوئی انھوں نے سب سے پہلے یہ رابطہ منقطع کیا تاکہ اس پیسے کو سیاسی خاندانوں کے معاشی استحکام کے بجائے عوام پر لگایا جائے تاکہ وہ اس قابل ہو سکیں کہ کاروبار کر سکیں اور پیسے واپس آئیں۔
اس سب میں یہ بات قابل غور ہے کہ آئی ایم ایف کا ہمارے ملک کی فلاح سے کوئی تعلق نہیں اس کی دلچسپی صرف اس کی پیسے کی وصولی میں ہے۔
دوسرا ان سب کو برا بھلا کہنے، آئی ایم ایف اور اسٹیٹ بینک کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کے بجائے ملک کے فلاح و بہبود میں ہمیں اپنا عملی حصہ ڈالنا چاہیے۔ جس کا سب سے آسان طریقہ کار ووٹ کا صحیح استعمال ہے۔
اگلے الیکشن میں پھر سے یہی سیاستدان ہمارے پاس آئیں گے اور ہمیں ہمارا لیڈر تیرا لیڈر کے لڑائی جھگڑے میں ڈال کر ووٹ لینا چاہیں گے۔ چاہے وہ آپ کا لیڈر ہے یا مخالف پارٹی کا وہ اسی بنیاد پر آپ سے ووٹ لے گا کہ وہ غلط ہے اور میں صحیح ہوں اور آپ بھی اسی ڈرامے پر مجرا کرتے پھریں گے کہ وہ غلط ہے اور تم صحیح ہو اور ووٹ دے دیں گے یہ کرنا غلط ہے۔
ایسے لیڈر سے پوچھنا چاہیے کہ ہم پر جو لاء اینڈ آرڈر، سیکیورٹی اور اکانومی کے مسائل آ رہے ہیں کن طریقہ کار پر عمل کر کے تم انہیں ٹھیک کرو گے؟
ہمیں خواب مت دکھاؤ نہ ہمارے ساتھ پاکیزگی کے ڈرامے کرو ہم سب دیکھ چکے ہیں اور بربادی کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ ہمیں عملی حل بتاؤ کہ اس طریقے سے تمام مسائل کو حل کرو گے یہ فلمیں مت چلاؤ کہ معیشت کو ادھر لے جاؤں گا ملک کو پیرس یا لندن بنا دوں گا۔
اگر ہمارے پاس ایک مذہبی لیڈر آ کر یہ دعویٰ کرے کہ میں سودی نظام کے بغیر حکومت چلاؤں گا تو ان سے سوال کریں کہ ہمیں حقائق سے آگاہ کرو کہ کس طریقے سے اس نظام کے بغیر ملک کو چلایا جا سکتا ہے؟ ہمارے اوپر قرض کا اتنا سود چڑھا ہے اگر تم سودی نظام نہیں چلاؤ گے تو سود والا قرض واپس کیسے کرو گے؟
اس کا کیا طریقہ کار ہے؟
اسلامی اکانومی کے اندر ایسی قوم جس پر بے پناہ سود چڑھ گیا ہو سودی نظام کو اپنائے بغیر کس طریقے سے وہ قرض واپس کر سکتی ہے؟
اگر کوئی لیڈر آپ کے پاس آ کر یہ دعویٰ کرے کہ میں ملک کو پیرس یا لندن بنا دوں گا تو اس سے سوال کریں کہ ملک کے سیوریج سسٹم کو کیسے بہتر کریں گے؟
اس کا ریونیو کہاں سے لاؤ گے؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟ ہمیں کیسے پتا چلے گا کس تاریخ کو کون سی مشینری یہاں استعمال ہوگی؟ کس کمپنی کے مشین استعمال کی جائے گی؟
کس طریقے سے نیٹ ورکنگ ٹھیک ہوگی؟ جب وہ نالیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گی تو کن طریقہ کار پر عمل کر کے انھیں ٹھیک کرو گے؟
کس طریقے سے ایسے کاموں کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ان فنڈز کو انہی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا؟
اپنے لیڈر سے جسے آپ ووٹ دینے لگے ہیں ہر چیز کے بارے میں سوال کریں اور تسلی بخش جواب ملے بغیر ووٹ نہ دیں۔
اس سے طریقہ پوچھیں کہ مجھے طریقہ بتاؤ جس طریقے سے میرے شہر میرے گھر بار میرے کاروبار کے مسائل حل ہوں گے اور حکومت اس معاملے میں عوام کی مدد کس طرح کرے گی۔
یہ ڈرامے، خواب اور کہانیاں دیکھنا دکھانا بند کریں۔ پریکٹیکل ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کو سانپوں سے نہ دوستی کرنی پڑے گی، نہ سانپ پالنے پڑیں گے نہ ہی کسی شیر یا گیدڑ کو اپنے سر پر لا کر بٹھانا پڑے گا بلکہ آپ انسانوں میں رہنا سیکھ جائیں گے اور آنے والے وقتوں میں ملک کبھی ایسی شدید معاشی بدحالی کا شکار نہ ہو گا۔


