حرف صداقت لکھنا


انسانیت نے شاید ہی زمین پر عمراں خان سے بڑا مسخرہ حکمران دیکھا ہو۔ اپنی ناکامیوں پر شرمندہ ہونے اور قوم سے معافی مانگنے کی بجائے عمران خان اپنے وزراء میں کارکردگی کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہے ہیں۔ پوری قوم کل سے سکتے میں ہے کہ آخر کون سی ایسی کارکردگی دکھا دی ہے اس حکومت نے کہ تعریفی اسناد تقسیم ہو رہی ہیں۔ ؟

حقیقت یہ ہے کہ ملک پاکستان اس وقت بحرانوں، ناکامیوں، مایوسیوں اور مشکلات کی دلدل میں گوڈے گوڈے پھسا ہوا ہے۔ اندرونی اور بیرونی ادارے اور ماہرین ہر سطح پر حکومتی ٹولے کی ناکامی کا طبل بجا رہے ہیں۔ جب کہ مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن، لا قانونیت، انتشار، عدم استحکام، غذائی قلت اور بیڈ گورننس اس حکومت کی پہچان بن چکے ہیں تو ایسے میں کارکردگی کی باتیں؟

عمران خان شاید اس قوم کو جاہل سمجھتے ہیں۔ کون سی کارکردگی پر ڈینگیں مار رہے ہیں؟

بین الاقوامی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کے تحقیقی ادارے ’انٹیلی جنس یونٹ‘ نے دنیا بھر میں جمہوریت کے حوالے سے سال 2021 کی رینکنگ جاری کی ہے اور جمہوریت انڈیکس میں 167 ممالک میں پاکستان کا 104 واں نمبر ہے، رپورٹ میں پاکستان کو ”نیم جمہوریت یا ہائبرڈ حکومت“ کے درجے میں رکھا گیا ہے۔ جبکہ بھارت کا رینکنگ میں 46 واں اور بنگلادیش کا 75 واں نمبر ہے۔

دوسری طرف بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی تین پوائنٹس کم ہونے کے بعد 124 سے گر کر 140 تک پہنچ گئی ہے۔ اور گزشتہ 11 برسوں میں یہ پاکستان کی سب سے بری درجہ بندی رہی ہے۔

پاسپورٹ کی درجہ بندی جاری کرنے والی تنظیم ہینلے اینڈ پارٹنرز  نے 2022 کے لیے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس جاری کر دیا جس میں پاکستانی گرین پاسپورٹ کا شمار دنیا کے بد ترین پاسپورٹوں میں کیا گیا ہے۔ انڈیکس میں پاکستان شمالی کوریا، صومالیہ اور یمن سے بھی نیچے 108 ویں نمبر پر ہے۔

ادھر وزیر اعظم پاکستان کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے سابق رکن اور ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق ملکی قرضے کا حجم صرف 13 برسوں میں 50 ہزار ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔ فرخ سلیم کے مطابق 2008 میں جو قرضہ چھ ہزار ارب تھا وہ 10 برسوں میں 30 ہزار ارب تک جا پہنچا جبکہ موجودہ حکومت کے صرف 39 مہینوں میں اس قرضے میں 20 ہزار ارب کا اضافہ ہوا اور اس کا حجم 50 ہزار سے اوپر جا پہنچا۔ انھوں نے بتایا ہے کہ موجودہ حکومت ہر روز 17 ارب روپے کا قرضہ لے رہی ہے۔

سرکاری اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق نیازی کے دور حکومت میں غربت دگنا ہو گئی، بے روزگاری بڑھی، روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، زکوۃ لینے والوں کی تعداد تین گنا ہو گئی، تجارتی خسارہ بڑھ گیا، مجموعی قومی پیداوار سکڑ گئی اور فی کس آمدنی میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔

یہی نہیں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین اور روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا، ملک میں چینی، گندم کی قلت ہو گئی، پاکستان زرعی شعبے میں خود کفیل سے 100 فی صد درآمدات پر منحصر ملک بن گیا، گیس کی قلت ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے، پیٹرول کبھی غائب تو آج تو 2018 سے تین گنا قیمت پر مل رہا ہے، چینی کی قیمت بھی 3 گنا ہو گئی، یہی حال ادویات، خوردنی تیل اور دیگر اجناس کا ہے اور اسٹاک مارکیٹ زبوں حالی کا شکار ہے۔

پنجاب سمیت پاکستان میں 3 سال سے خان صاحب 10 ارب درخت لگانے کی مہم چلا رہے ہیں مگر اس دوران لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر بن گیا۔

پشاور گندے ترین شہروں کی فہرست میں پہلے دس شہروں میں شامل ہے، کراچی، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان کوڑے کرکٹ اور گندگی کے ڈھیروں سے اٹے پڑے ہیں۔

پاکستان کے نامور معاشی تجزیہ کار سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بعض اہم منصوبوں پر کام سست روی کا شکار ہے اور مدت پوری ہونے کے باوجود بعض منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔

گزشتہ سال حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں 30 فیصد تک کٹوتی کی جس کی وجہ سے پاکستان نے جو رقم سی پیک سے منسلک منصوبوں پر خرچ کرنی تھی وہ جاری نہیں ہو سکی اور یہ ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے جن میں ملتان سکھر موٹروے بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان اور چین نے 9 ایس ای زیز پر اتفاق کیا تھا لیکن ماہرین کے مطابق ایک کو بھی اب تک آپریشنل نہیں کیا جا سکا ہے۔

عمران خان کو کوئی سمجھائے کہ یا تو دعوے غلط ہیں یا اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دوسرے ملکی و بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس غلط ہیں۔

ملک دیوالیہ ہونے کو ہے اور یہ لوگ کارکردگی کا جشن منا رہے ہیں۔

اور اگر سرٹیفیکیٹ بانٹنے ہی ہیں تو بے شرمی، ڈھٹائی اور مسخرہ پن کے سرٹیفیکیٹ بانٹیے۔ قوم کو بیوقوف بنانا چھوڑ دیں۔

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا!
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا!

Facebook Comments HS