میڈیا اور مافیاز
کہا جاتا ہے کہ آج کا دور میں میڈیا کا دور ہے۔ میڈیا کے اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ کچھ دہائیاں قبل میڈیا جتنا محدود تھا معاشرہ کسی نہ کسی سمت میں ضرور تھا۔ مگر میڈیا جتنا لامحدود ہوا اتنا ہی معاشرہ ہجوم کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ معاشرہ پہلے ٹھیک تھا، مگر میڈیا کی آزادی سے معاشرے میں جو اثرات آرہے ہیں ان کی طرف سے توجہ مبذول کروانا ہے۔ ہمارے سماج میں آزادی سے ہمیشہ غلط مطلب نکالا جاتا ہے۔ جب کہ ترقی یافتہ معاشرے میں آزادی کو لبرٹی کے تصور جوڑا جاتا ہے۔ جس کا سادہ سا مطلب ہے ہر شخص قانون کے دائرے میں آزاد ہے۔
آج کل میڈیا پر ایک نیا رجحان نظر آ رہا ہے، میڈیا پر سنز، میڈیا سے زیادہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بنتے نظر آرہے ہیں۔ برائی کو روکنا برائی کو عوام الناس کے سامنے لانا۔ جیسا کہ سڑک کے کنارے چلتی لڑکی کو جسم فروش ثابت کرنے کی کوشش کرنا۔ کسی گیسٹ ہاؤس پر چھاپہ مار کر جسم فروش لڑکیوں کے غیر اخلاقی کام کو روکنا۔ پر افسوس اس بات کا ہے کہ دلیل اور ثبوت سے زیادہ زور زبردستی اور گالم گلوچ سے کام لیا جاتا ہے۔ واضح نظر آتا ہے کہ برائی کو روکنے یا اجاگر کرنا نہیں بلکہ اپنی میڈیا ریٹنگ بڑھانا ہے۔
مثال کے طور پر، ایک گیسٹ ہاؤس پر چھاپہ مارا جاتا ہے۔ لڑکی اپنا منہ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے مگر میڈیا والے زبردستی اس کا نقاب اترنے کی کوشش کر رہے ہیں ہیں۔ زبردستی اس سے ایڈریس پوچھا جا رہا ہے۔
میڈیا پرسن: غلط کام کیوں کر رہی ہو؟
لڑکی: حالات اور غربت کی وجہ سے۔
میڈیا پرسن: ہاتھ پاؤں سلامت ہیں کوئی کام کیوں نہیں کرتی؟ لڑکی، کام کر رہی ہوں مگر تنخواہ سے گزارا نہیں ہو پاتا بہت مہنگائی ہے۔ اب یہاں میڈیا والا بجائے سوال اٹھاتا سسٹم پر، معاشرے میں ظلم پر، یا پھر پرائیویٹ اداروں میں تنخواہ دار طبقہ جس حوالے سے ذلیل اور خوار کیا جاتا ہے۔ میڈیا والا بات پلٹ دیتا ہے۔ کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ کیا تمہارے گھر والوں کو پتہ ہے؟
میڈیا کا کام صرف اور صرف غیر جانبدار رہ کر معاشرے کو شعور پہنچانا ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سوال اٹھانا۔ معاشرے میں برائی کب، کیوں اور کیسے پیدا ہوتی ہے؟ اور معاشرہ کیسے سے ایک باقاعدہ چینل کے ذریعے برائی کو ختم کر سکتا ہے۔ اس میں عوام، عدلیہ، میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کیا کردار ہو سکتا ہے مگر ہمارے ہاں میڈیا غیر اخلاقی رول ادا کر رہا ہے ( معذرت کے ساتھ) میڈیا کا کام یہ نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔
انتہائی غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ طریقے سے کسی کی عزت کو مجروح کرنا یہ کہاں کا انصاف اور سچ ہے۔ واضح نظر آ رہا ہوتا ہے کہ برائی کو سسٹم سے جوڑنے کے بجائے کسی کی ذات، شخصیت یا عزت سے جوڑا جا رہا ہے۔ کوئی بھی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور انسانیت کے ناتے معاشرے میں سب قابل عزت ہیں۔ عدلیہ کے بعد میڈیا کو ہی قانون کا رکھوالا سمجھا جاتا ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ منشیات فروش کون ہیں، کرپشن کون کرتا ہے۔ بس اور مظلوم عورتوں کو دھندا کروانے والا یہ سسٹم اور اس سسٹم کو چلانے والے مافیاز کون ہیں۔ مگر میڈیا کو کبھی یہاں سچ نظر آئے گا
نہ انصاف اور نہ برائی۔ اپنے اپنے مفادات کی خاطر کچھ حکومت کی گود میں بیٹھے نظر آئیں گے اور کچھ اپوزیشن سے سودا بازی کرتے۔ خود میڈیا کے اپنے سسٹم میں کتنا ظلم ہو رہا ہے۔ سچ بولنے والوں پر رستے تنگ اور چاپلوس۔ غریب ملازم بولنے کی ہمت کرے تو نوکری سے فارغ اگر کوئی طاقتور ہو تو مک مکا۔
کچھ سال قبل سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا والوں نے ایک کانسٹیبل کو بھلا پھسلا کر ذلیل اور خوار کیا۔ اور خوب واہ واہ کمائی۔ مگر کبھی اسمبلی میں بیٹھے مافیاز اور ظالم سسٹم کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں کی کہ جس کی وجہ سے وہ غریب کانسٹیبل رشوت لینے پر مجبور ہوا۔ ذرا ذرا سوچئے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میڈیا خود اک مافیا بنتا جا رہا ہے؟


