بہترین کارکردگی والے وزرا اور حکومتی گھبراہٹ
وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے وزرا میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے اب سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ عوام کے ساتھ مذاق ہے یا وزرا کے ساتھ۔ ملک کی صورتحال مکمل طور پر واضح ہے اس کے باوجود عمران خان کے وزرا کی زبان ایک بار پھر دراز ہو گئی ہے۔ بیانات کا سلسلہ جاری ہے دھمکیاں بھی اسی طرح دی جا رہی ہیں، جیسے سابقہ سارے حکمران گرفتار کرلئے گئے اور ان سے رقم حاصل کر کے ملکی خزانے میں بھی ڈال دی گئی ہو۔ وزرا کے بیانات اور عمران خان کی باڈی لینگویج بتا رہی ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے۔ اس گھبراہٹ کی وجہ کیا اپوزیشن ہے؟ یا پھر عدم اعتماد کی تحریک کے چرچے؟
شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کو منانے کی کوشش شروع کی تو آصف زرداری جیسے تیار بیٹھے تھے اگلے ہی لمحوں میں شہباز شریف سے ملنے پہنچ گئے۔ آصف زرداری بلاول بھٹو کے ہمراہ شہباز شریف کے پاس پہنچے اور انہیں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مشورہ دیا۔ شہباز شریف بھی اس تجویز کو خوش دلی سے قبول کر بیٹھے اور بڑے میاں صاحب سے مشورے کے بعد جواب دینے کا کہا۔ مسلم لیگ نون کے ساتھ ماضی میں پیپلز پارٹی نے جو کچھ کیا اسے بھول کر نون لیگ ایک بار پھر پی پی قیادت کی باتوں میں آ گئی۔ شاید شہباز شریف مل کر حکومت بنانے والی بات کو دل پر لے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم بننے کے سپنے دلوں میں سجائے اور زوم پر نواز شریف سے مشاورت بھی شروع کردی۔
ان تمام تر باتوں کے باوجود اب بھی اپوزیشن متحد نہیں۔ یہ حکومت کو گرانا ہی نہیں چاہتے اور ان کے پاس اس معاملے پر کوئی حکمت عملی بھی نہیں۔ میاں نواز شریف ملک آنے کو تیار نہیں۔ وہ ڈیل چاہتے ہیں لیکن اپنی مرضی سے ایسے میں ڈیل ہونا ممکن نہیں۔ اہم عہدہ کا معاملہ آیا تو میاں شہباز شریف او ر مریم نواز کا گروپ بھی الگ ہو گا۔ پیپلز پارٹی کی بات کریں تو اب ان کے ہاتھ میں پورا سندھ بھی نہیں رہا۔ اپوزیشن کے اتحاد میں سب سے اہم رکاوٹ مولانا فضل الرحمان ہوں گے۔
پیپلز پارٹی نے ماضی میں ایسے کام کیے ہیں جس سے ان کے اور پیپلز پارٹی کے درمیان دوریاں بڑھ گئی ہیں یہ دوریاں کم ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ ظاہر ہے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کے اتحادی بھی اپوزیشن کو اپنی باتیں منوائے بغیر مستحکم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ ساری صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ جماعتیں بھی چاہتی ہیں کہ عمران خان پانچ سال مکمل کریں بس عوام کے سامنے سرکس کا تماشا لگائے رکھا جائے تا کہ انہیں یہ احساس ہو کہ اپوزیشن کو ہماری بہت فکر ہے۔ اس تمام تر صورتحال سے حکومت بھی واقف ہے۔
اب یہاں سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اس صورتحال سے واقف ہے تو پھر گھبراہٹ کس بات کی؟ حکومت کو سب سے بڑی گھبراہٹ عوام سے ہے۔ مہنگائی اور وعدوں کی تکمیل نہ ہونے سے عوام اب یہ فیصلہ کر بیٹھے ہیں کہ انتخاب میں جو غلطی ہوئی اسے دوبارہ نہ دہرایا جائے۔ عوامی حلقوں میں جتنے بھی سروے ہوئے وہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کی مقبولیت عوام میں کم ہو رہی ہے۔ دوسری جانب اب عمران خان سے قربت رکھنے والے میڈیا کہ لوگ بھی عوام عوام کو سچ بتانے لگ گئے ہیں۔
عمران خان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ان کی ماضی کی تقاریر اور موجود حقائق ہیں۔ حقائق سب سے زیادہ عوام کے سامنے میڈیا کے لوگ ہی رکھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنان ان افراد کی سوشل میڈیا پر جتنی چاہے کردار کشی کریں ان کی رپورٹس عوام میں مقبول ہو رہی ہیں جس سے تحریک انصاف کا گراف گرتا جا رہا ہے۔ عمران خان کے بڑے مخالفین شہباز شریف، مریم نواز، آصف زرداری آزادانہ گھوم رہے ہیں جس سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اداروں میں بیٹھے عمران خان کے سپورٹر بھی اب حالات سے تنگ آچکے ہیں یا پھر یہ لوگ بالکل ایماندار تھا ان پر صرف الزامات لگائے گئے تھے۔
تحریک انصاف اس وقت سب سے زیادہ جہانگیر ترین اور ان کے گروپ سے گھبرا رہی ہے۔ جہانگیر ترین کا جہاز ابھی فضا میں ہی لیکن چونکہ اب خلا بھی عمران خان کے ساتھ نہیں لہذا یہ جہاز کہیں بھی لینڈ کر سکتا ہے۔ عمران خان یہ بھی جانتے ہیں ایم کیو ایم اور چوہدری برادران جنہیں عمران خان ماضی میں چور کہا کرتے تھے ان پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا چھوٹی جماعتوں کو ہمیشہ بہتر آپشن کی تلاش رہتی ہے، یہ پنچھی کسی بھی وقت عمران خان کے آنگن سے اڑ سکتے ہیں۔ فیصل واوڈا کی نا اہلی بھی بتاتی ہے کہ الیکشن کمیشن میں تبدیلی آ گئی ہے۔
آپ نے گھبرانا نہیں ہے کا درس دینے والے عمران خان اب خود گھبرا رہے ہیں۔ ان کی گھبراہٹ واضح نظر آ رہی ہے۔ سیاسی شخصیات کا انداز بتا رہا ہے کہ وہ انہیں بس پریشان کریں گے لیکن پانچ سال مکمل کرنے سے قبل سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے۔ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے آنے والوں کے لئے مشکلات زیادہ ہوں گی۔ عمران کو اب فیصلہ کرنے سے قبل اچھی طرح سوچنا ہو گا ورنہ گھبرائی عوام کا جینا آنے والے وقتوں میں مزید مشکل ہو جائے گا۔


