کیش کی حقیقی موت میں "راست” کا کردار

کیا آپ نے کبھی تصور کیا کہ ترقی یافتہ دنیا کے بعد ہی صحیح مگر کبھی پاکستان میں بھی ”کیش“ یعنی کرنسی نوٹوں اور سکوں کی حقیقی موت واقع ہو جائے گی؟ اگر نہیں سوچا تو یقین کر لیں کہ ایسا ہونے میں اب صدیوں کا فاصلہ نہیں رہا، بلکہ شاید چند ہی سال اور لگیں گے۔ آئیے اس کے محرکات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
کیش کی موت یافتہ یا ”کیش لیس“ سوسائٹی سے مراد ایسی معیشت ہے جس میں موجودہ دور کے سکے اور کرنسی نوٹ بالکل ایسے ہی ختم ہو جائیں گے جیسے سونے چاندی کے سکوں نے بارٹر سسٹم (اشیاؤ خدمات کا تبادلہ اشیاؤ خدمات سے کرنے کا قدیمی نظام) کو منظر سے غائب کر دیا تھا، اور پھر کاغذ کے نوٹوں نے سونے چاندی کے سکوں کو فنا کر دیا تھا۔ بالکل ایسے ہی اب پلاسٹک زر (اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈز وغیرہ) ، انٹرنیٹ اور بینکنگ ایپلیکیشنز، الیکٹرانک و سافٹ فائلز، ڈیجیٹل یعنی کرپٹو کرنسی وغیرہ سب مل کر موجودہ زر یعنی کیش کی حقیقی موت کا سبب بننے والے ہیں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جو ”راست“ سہولت فراہم کی ہے وہ نہ صرف کاروبار کی ترقی میں مددگار ہو گی بلکہ معیشت کو ”کیش لیس“ کرنے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ سونے پر سہاگہ انٹرنیٹ کی 5 G ٹیکنالوجی بھی ایک انقلاب برپا کرنے کے لیے مسلسل دستک دے رہی ہے۔
معیشت کے لیے ”راست آئی ڈی“ کی سہولت کے انفرادی و اجتماعی فوائد اور کیش کی ممکنہ موت میں اس کے کردار کا جائزہ لینے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ فرد سے فرد رقم کی منتقلی کی ”راست آئی ڈی“ آخر ہے کیا اور کیسے کام کرتی ہے؟ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے متعارف کردہ ”راست سہولت“ تمام بینکنگ صارفین کو ان کے رجسٹرڈ موبائل نمبر کو ہی ان کے بینک اکاؤنٹ نمبر کے طور پر استعمال کرنے کی سہولت ہے۔ جس سے ناصرف اکاؤنٹ نمبر یاد رکھنے کا جھنجھٹ ختم ہو جائے گا بلکہ ایک ”راست آئی ڈی“ سے دوسری ”راست آئی ڈی“ کو رقم کی منتقلی بیس سیکنڈ کے کم ترین وقت میں ممکن ہو گی۔ ایسا کرنے کے لئے جس شخص کو پیسے بھیجنے ہوں اس کا اکاؤنٹ نمبر بھی یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ موبائل نمبر پر ہی رقم بھیجی جا سکے گی۔
اسٹیٹ بینک نے اپنے زیراثر تمام کمرشل بینکوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اپنی تمام آن لائن بینکنگ، موبائل ایپلیکیشنز اور برانچ کاؤنٹرز پر صارفین کو یہ سہولت دیں کہ وہ اپنے موبائل نمبر کو ہی ”راست آئی ڈی“ میں آسانی سے تبدیل کر سکیں اور انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ سسٹم یعنی IBAN سے بھی لنک کر سکیں۔ ایسا کر کے صارفین ایک وقت میں معمولی چارجز کے ساتھ دو لاکھ روپے تک کی رقم ٹرانسفر کر سکیں گے۔ یہ کالم لکھنے سے پہلے میں اپنے بینک اکاؤنٹ کی ایپلیکیشن سے ہی اپنے موبائل نمبر کو ”راست آئی ڈی“ بنا چکا ہوں۔
اب مجھے جہاں کم ترین وقت اور نہایت معمولی چارجز کے ساتھ کسی بھی راست اکاؤنٹ میں پیسے بھیجنے کی سہولت مل گئی ہے تو نقصان یہ ہوا ہے کہ اب میں کیوں کہ ایک بینک اکاؤنٹ کو ایک موبائل نمبر کے ساتھ لنک کر چکا ہوں تو میرے باقی بینک اکاؤنٹس اب اس موبائل نمبر کے ساتھ لنک نہیں ہو سکیں گے۔ یوں کہ لیں کہ میرا آئندہ تمام مالی لین دین ایک بینک اکاؤنٹ اور ایک موبائل نمبر تک محدود ہو گیا ہے۔ کسی ایک اور بینک اکاؤنٹ کی الگ ”راست آئی ڈی“ لینے کے لیے مجھے ایک اور موبائل نمبر کو اپنے نام رجسٹر کروانا ہو گا۔
معیشت کے لیے ”راست آئی ڈی“ کے نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اس سے اکانومی کو ڈیجیٹلائز کرنے، کاروباری نظام کو رجسٹر کرنے اور انڈرگراؤنڈ اکانومی کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ٹیکسوں کا نظام موثر بنانے میں مدد ملے گی۔ انفرادی سطح پر اشیاؤ خدمات کے لین دین میں بینک چارجز میں کمی کے ساتھ ٹرانزیکشنز برق رفتار یا پلک جھپکتے ہی ہو جایا کریں گی۔ جس سے لوگوں کے کاروبار کو وسعت ملے گی، ملک میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھنے کے ساتھ کامرس اور اکنامکس کی تعلیم کی اہمیت بھی زیادہ ہو گی۔
یوں کہ لیں کہ جوں جوں راست اکاؤنٹس سے کاروبار بڑھے گا تو انفرادی اور اجتماعی سطح پر سبھی معاشی فائدہ اٹھائیں گے مگر کیش یا کرنسی نوٹ پہلے گھٹن محسوس کریں گے، پھر ڈیجیٹل اکانومی، ڈیجیٹل کرنسیز اور ڈیجیٹل ورلڈ مل کر اس کا گلا گھونٹ دیں گے اور تمام ملکوں کے مرکزی بینک اور حکومتیں ڈیجیٹل یا سافٹ کرنسیز کو ناصرف تسلیم کر رہے ہوں گے بلکہ نئے زری نظام اور قوانین کی تشکیل میں مصروف ہو جائیں گے۔ یقین کیجئے کہ ایسا پاکستان میں بھی ہو گا، مگر ترقی یافتہ ملکوں کے بعد ۔

