ہم واقعی بڑے سیانے ہیں


اس دنیا کے رنگ کمال ہیں، اور اس پر انسانوں کے رنگ، مہا کمال ہیں۔ یہاں کئی انواع اور اقسام کے انسان ہیں، ایک طرف چلاتے ہوئے مظلوم ہیں تو دوسری جانب چنگھاڑتے ہوئے ظالم، تیسری سمت میں خاموش اور سہمے ہوئے تماشائی اور ان سب سے اوپر براجمان ہیں مظلوم کا ٹھٹھہ لگانے والے، تضحیک کرنے والے بے درد اور ان کے اندر وہ بھی جو اوپر سے تو مظلوم کے ساتھ کا دم بھرتے ہیں مگر ان کی اگر، مگر، چوں کہ، چناں چہ ظالم کے ساتھ ہوتی ہے۔

نور مقدم کے کیس میں ایسا مواد پڑھنے کو ملا تھا جس میں مرحومہ و مغفورہ کے جنت میں جانے کی راہ میں الفاظ کے بیریر لگائے جا رہے تھے تا کہ اگر خدا تعالیٰ نے جنت میں لے جانا بھی ہے تو بائے ائر لے جائے۔

ساتھ ہی وہ قبیلہ ہے جو ہر وقت یہ کہتا رہتا ہے کہ ”ہاں، یہ تو غلط ہوا مگر اس پہ اتنی بات کیوں ہو رہی ہے، وہ فلاں واقعہ بھی تو ہوا تھا، اس پہ کیوں بات نہیں ہو رہی۔“ اس سمجھ داری کے کچھ نمونے ملاحظہ کریں :

”ملالہ کی بڑی بات ہو رہی ہے، اعتزاز کی تو نہیں ہو رہی، جو فوت ہو گیا۔ ( یاد رہے کہ ہمارے ہاں فوت ہونا بہت ضروری ہے۔ )

”نواز شریف میں کیا خوبی ہے کہ لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں جب کہ شہباز شریف کے پیچھے نہیں چلتے۔“
”فلاں کو لوگ چندہ دے رہے ہیں مگر فلاں اور فلاں تو زیادہ دیانت دار ہیں ان کو نہیں۔“

”وہ تو نالائق تھا پھر بھی سلیکٹ ہو گیا مگر میں اس سے کئی گنا زیادہ ذہین ہوں، مجھے سیلیکٹ نہیں کیا گیا، ضرور پیسے دیے ہوں گے۔“

ان سب اقسام سے ہٹ کر محرم میں آپ کو ایک اور قسم بھی ملے گی جو سارا سال تو چپ رہتی ہے مگر محرم میں انھیں حضرت امام حسین کے علاوہ سب ہستیاں یاد آ جاتی ہیں۔ جب بھی امام حسین کا تذکرہ کرو گے وہ اپنی کتاب لے کے آ جائیں گے جس میں موازنے، تقابل وغیرہ ہوں گے۔

ایک اور قسم بھی ہے، ناری نفرت کی رچھانی والے۔ ابھی 8 مارچ آنے والا ہے، جب بھی آپ خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں، کئی اقسام کے بریگیڈ اپنی رچھانیاں (پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں موبائل حجام کے قینچی استرا رکھنے کے لیے چمڑے کا تھیلا ) اٹھا کے آ جاتے ہیں۔ چیدہ چیدہ یہ ہیں۔

1۔ فحاشی اور عریانی بریگیڈ: ان کا موقف یہ ہے کہ جب بھی خواتین کو کنسینٹ یا مرضی کرنے کا حق دیں گے وہ لازمی طور پہ فحاشی اور عریانی پھیلائیں گی۔

2۔ عورت مرد فرق بریگیڈ : یہ فوراً سے اپنی رچھانی سے عورت اور مرد کے جسمانی فرق کی فہرست نکالتے ہیں اور جھاں جھاں شروع کر دیتے ہیں۔ بوقت ضرورت سائنس کی نام نہاد ریسرچ کا حوالہ بھی دے لیں گے۔

3۔ برابری بریگیڈ: یہ جھٹ سے شروع ہو جائیں گے کہ اگر عورت کو برابری چاہیے تو بسوں کی چھتوں پہ سفر کریں، گاڑی کے ٹائر بدلیں۔

4۔ عورت کے مظالم بریگیڈ: یہ بدلہ بریگیڈ ہے۔ دنیا میں جب بھی کہیں کوئی عورت کسی جرم میں ملوث ہو۔ فراڈ یا تشدد کرے یا ہراسمنٹ کا جھوٹا الزام لگائے تو یہ تالی بجاتے ہوئے ہسٹیریا ڈانس میں لگ جاتے ہیں۔ دیکھا! دیکھا! عورت یہ، عورت وہ، اب بھی کہو ان کو حقوق نہیں ملے۔

5۔ مغربی ایجنڈا بریگیڈ: فیمن ازم مغربی ایجنڈا ہے۔ اسلام نے عورت کو سب حقوق دیے ہیں، عالم کفر مسلمان عورت کو بے لباس کر کے ہمارے مقدس خاندانی نظام پہ حملہ کے درپے ہے۔ مغرب میں بھی عورت کو حقوق حاصل نہیں، وہ مردانہ زندگی گزارنے میں فخر کر رہی ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ نے اپنے خاندان کی لڑکی کو پڑھنے بھیجنا ہو تو نیو یارک اور لندن زیادہ محفوظ سمجھیں گے یا کوئی بھی مشرقی مسلم شہر؟ (جیسے کابل)

یہ سب بریگیڈ دراصل ایک ہی ایجنڈے پہ ہیں اور وہ ایجنڈا ہے عورت پہ ملکیت، حکم اور ناری نفرت کا ایجنڈا۔

بھئی کتنی سادہ سی بات ہے کہ خواتین کی بہت بڑی تعداد بطور صنفی گروہ گھریلو تشدد، معاشی محرومی، سماجی دباؤ و محرومی، جنسی تشدد اور نظریاتی پروپیگنڈا کا شکار ہے۔ ہمیں اس کی بہتری کی بات کرنی ہے اور عمل بھی کرنا ہے۔ اب اگر کوئی بے چارہ نا انصافی کے بوجھ تلے دبا ہو اور ایسے نعرے لگائے جو آپ کی نازک ایگو کو زخمی کر دیں تو ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ وہ تو بے چاری مجبور صرف نعرہ لگا رہی ہے اصولاً تو بے انصافی کے اس نظام کو ڈنڈے سے گرا دینا چاہیے۔

ایک سادہ بات ہے کہ برابر تو سب مرد بھی نہیں ہوتے۔ کچھ مرد ریسلر ہوتے ہیں جب کہ کچھ سے چلا بھی نہیں جاتا۔ عورتوں میں بچے پیدا کرنے کا نظام ہے تو اس کا یہ مطلب کب ہے کہ وہ ہر سال بچہ پیدا کرے جب کہ دوسری جانب آپ کہتے ہیں کہ مرد مشقت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مرد کو ریڑھوں کے آگے ہی جوت دو؟ حقیقت یہ ہے کہ کھیتوں میں پانی لگانے سے لے کر سڑک پہ روٹی ڈھونے تک سب کام عورتیں کرتی ہی ہیں۔ اپنے خاندان کے مردوں کے ساتھ۔

ان سماجی، نام نہاد مذہبی اور گنجلک نظریاتی چورن بیچنے والوں کو پہچانیں اور ان کو شٹ اپ کال دیں۔ اور سیدھی و سادہ بات یہ ہے کہ مردو عورت کو زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے مساوی مواقع ملنے چاہئیں اور اپنی زندگی کے بارے فیصلہ کرنے کے بھی مساوی مواقع ملنے چاہئیں بلکہ جہاں مردوں کو بھی طاقت ور طبقوں کی جانب سے نا انصافی کا سامنا ہے وہاں ان کے حق کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ہم واقعی بڑے سیانے ہیں

  • 13/02/2022 at 7:49 شام
    Permalink

    Cheetah

Comments are closed.