کیا عمران خان قومی اسمبلی ”تحلیل“ کر دیں گے؟
کسی بھی جمہوری ملک میں پارلیمانی نظام میں ارکان کی اکثریت کی حمایت سے محروم ہونے والی حکومت کے خلاف اپوزیشن ”تحریک عدم اعتماد“ لاتی ہے یا پھر کوئی حکومت سالانہ مالیاتی بجٹ منظور کرانے میں ناکامی پر مستعفی ہو جاتی ہے۔ صدر مملکت بھی اکثریتی ارکان کی حمایت سے محروم ہونے پر وزیر اعظم کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں ایسا بھی ہوتا ہے جب وزیر اعظم خود محسوس کرے کہ اسے ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی وہ خود ہی قومی اسمبلی کو تحلیل کر کے ”فریش مینڈیٹ“ حاصل کرنے کے لئے عوام کی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے
مجھے یاد نہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر کسی حکومت کا خاتمہ ہوا ہو۔ شاید ہی کوئی حکومت عدم اعتماد کی صورت میں گھر بھجوائی گئی ہو البتہ ایک دو بار اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد اور صدر مملکت کی براہ راست مداخلت سے صوبوں میں ”تحریک عدم اعتماد“ سے حکومتوں کا خاتمہ ممکن ہوا اس کی تازہ ترین مثال بلوچستان کی دی جا سکتی ہے جہاں تحریک عدم اعتماد کی صورت میں وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا اس تحریک عدم اعتماد کے پیچھے ان قوتوں کا عمل دخل بھی شامل تھا جو وزیر اعلیٰ کو لائی تھیں ان کی ناقص کارکردگی پر ان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ اسی طرح نواب ثنا اللہ زہری کو ہٹانے کے لئے تحریک عدم اعتماد کا ”ڈرامہ“ رچایا گیا۔
پاکستان میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ دو تہائی اکثریت کی حامل حکومت نہیں چلنے دی گئی۔ جب تک صدر مملکت کے پاس آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار تھا منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھجوایا جاتا رہا۔ جب آئین سے یہ شق ختم ہو گئی تو وزرائے اعظم کو عدلیہ سے نا اہل قرار دلوا کر حکومتیں ختم کی جاتی رہی ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کی مثال ہمارے سامنے ہے لیکن عمران خان کی حکومت جو اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران اسے ”دست شفقت“ کی وجہ سے گرنے نہیں دیا گیا۔ اکثر و بیشتر عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے تحریک اعتماد کا ”شوشہ“ چھوڑا جاتا رہا ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے اپوزیشن نے اس بارے میں کبھی سنجیدگی سے ہوم ورک ہی نہیں کیا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا شروع دن سے موقف رہا ہے کہ ”راولپنڈی“ والوں کی آشیر باد کے بغیر کوئی تحریک عدم اعتماد کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ اس سلسلے میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی مثال دی جاتی ہے جہاں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوئی لہذا مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ جب تک تحریک عدم اعتماد کی 200 فیصد کامیابی کا یقین نہیں ہو گا اس وقت تک تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی غلطی نہیں کی جائے گی۔
سوال یہ ہے وہ کون سا ”اشارہ“ ہے جس کے بعد آصف علی زرداری او ر نواز شریف اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لئے تمام آئینی و قانونی ”آپشن“ استعمال کرنے پر متفق ہو گئے ہیں یہ سیاسی فیصلہ اس وقت کیا گیا جب وزیر اعظم عمران خان عوامی جمہوریہ چین کے دورے پر تھے دورہ چین کے دوران انہیں اپوزیشن کی لمحہ بہ لمحہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا جاتا رہا جس کے باعث ان کے دورے کے دوران تمام تر توجہ پاکستان میں اپوزیشن کے ”میل ملاپ“ پر مرکوز رہی۔ جوں ہی ان کی عوامی جمہوریہ چین کے دورہ سے واپسی ہوئی انہوں نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور ترجمانوں کا اجلاس طلب کر لیا بظاہر وزیر اعظم نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا لیکن حکومتی ترجمان فواد چوہدری نے پشاور میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی ہوں یا کوئی اور جو بھی عمران خان کو چھوڑے گا زیرو ہو جائے گا۔
فواد چوہدری نے در اصل اتحادی جماعتوں کو دھمکی دی ہے کہ ”اگر کوئی عمران خان کو چھوڑنے کا سوچ رہا ہے تو اس کی سیاست ختم ہو جائے گی“ ۔ دلچسپ امر یہ ہے انہوں نے یہ وارننگ اس وقت دی ہے جب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد کی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کر رہے تھے قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری اپنے سیاسی جانشین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ چوہدری برادران سے ملاقات کر چکے تھے۔ چوہدری برادران ”مہمان نوازی“ کی شہرت رکھتے ہیں۔ اب معلوم نہیں انہوں نے آصف علی زرداری کے دامن میں کچھ ڈالا بھی ہے کہ نہیں؟
چوہدری پرویز الہی نے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات کے بعد معنی خیز بات کہی ہے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”اپوزیشن ہی تحرک عدم اعتماد بارے بہتر طور پر بتا سکتی ہے لیکن خدو خال سامنے آ جائیں، کوئی چیز سامنے آ جائے، تو بات ہو سکتی ہے۔ ابھی تو باورچی خانہ میں سامان اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ابھی پکنا شروع نہیں ہوا ہے۔ آپ کی سوچ ہے کہ کچا ہی کھا لیں۔ تحریک عدم اعتماد پر کوئی بات نہیں ہوئی“ ۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں ”ہما“ کس کے سر بٹھایا جائے گا فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم شنید ہے کہ آصف علی زرداری سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سر پر وزارت عظمی کا تاج سجا لیں۔
میاں نواز شریف نے بھی کہہ دیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں مسلم لیگ (ن) وزارت عظمیٰ کی امیدوار نہیں ہو گی لیکن اس ایشو پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر رائے منقسم ہے۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ میاں شہباز شریف ڈیڑھ سال کی بقیہ مدت میں ملک کو صحیح سمت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ میاں نواز شریف نے تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ ”ناخوشی“ سے قبول کیا ہے۔ وہ یہ بات جانتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہونے کے باوجود گنتی پوری نہیں رکھ سکی جب کہ تحریک عدم اعتماد کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل تھی۔
سیاسی حلقوں میں یہ بات موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے کہ عمران خان کے سر سے ”دست شفقت“ اٹھا لیا گیا ہے لیکن تاحال اس بارے میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ البتہ اس بارے میں کسی کو معلوم نہیں کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت اسٹیبلشمنٹ کا کیا رول ہو گا۔ دو چار رہنماؤں کے سوا کسی کو کچھ علم نہیں کہ آئندہ چند دنوں میں سیاسی منظر پر کیا ہونے والا ہے۔ عمران خان نے بھی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ان کو نکالا گیا تو وہ ”خطرناک“ ثابت ہوں گے۔
پی ڈی ایم کا اجلاس بھی ہو چکا ہے جس میں آصف علی زرداری سمیت دیگر جماعتوں سے ہونے والے رابطوں کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل کی منظوری دی گئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد آنے سے قبل قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مشورہ دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپوزیشن کے پھیلائے جال میں پھنس کر رہ جاتے ہیں یا اس سے نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں فروری 2022 ء کے اواخر تک انتظار کرنا ہو گا۔

