جمہوریت ڈھال اور آمریت وبال ہے


آئیے دو تصویریں دیکھتے ہیں۔ ایک تصویر میں ایک فاتر العقل اور مجذوب شخص عالم بے خودی میں کچھ کاغذات اور کوڑا کرکٹ کو دیا سلائی دکھا دیتا ہے اور آگ تاپنا شروع کر دیتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ اکٹھے ہو کر الزام لگاتے ہیں کہ مجذوب نے مقدس اوراق جلا ڈالے ہیں۔ مجذوب آدمی اس ساری صورت حال سے بے خبر آگ تاپتے ہوئے پاگلوں کی سی حرکتیں کر تا ہے۔ مقدس اوراق کو آگ لگانے والی خبر فوراً پھیل جاتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ مشتعل لوگ ہاتھوں میں ڈنڈے، پتھر اٹھائے مجذوب کی طرف بڑھتے ہیں۔

ان کے ارادے دیکھ کر ساتھ والے مدرسے کے مہتمم مجذوب کو ان لوگوں سے بچا کر ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے تالا لگا دیتے ہیں۔ لیکن اس وقت تک یہ خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ طرح پھیل جاتی ہے۔ آناً فاناً سیکڑوں لوگ مدرسے کے باہر جمع ہو کر مذہبی نعرے لگانے لگتے ہیں۔ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں میں ڈنڈے، سوٹے، کلہاڑیاں اور پتھر ہوتے ہیں۔ مہتمم صاحب انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر مشتعل اور جنونی جتھہ دروازہ توڑ کر مجذوب آدمی کو باہر نکالتا ہے اور پھر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور پتھروں سے مار مار کر اسے لہو لہان کر دیتا ہے۔

چند منٹوں میں ایک زندہ شخص بے جان لاش بن جاتا ہے۔ مشتعل ہجوم کی شقاوت قلبی اور سفاکیت کے جذبات اب بھی ٹھنڈے نہیں ہوتے۔ وہ لاش کو گھسیٹتے ہوئے تھوڑی دور لے جاکر اسے درخت کے ساتھ لٹکا دیتے ہیں اور اسلام زندہ باد، قرآن زندہ باد، ناموس رسالتﷺ پائندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تئیں ایک گستاخ مذہب کو جہنم واصل کیا۔ یہی نہیں بلکہ جنونی ہجوم لاش کو قبضے میں لینے آنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی کر دیتا ہے۔ پہلے ”گستاخان مذہب“ کو ”غازیان اسلام“ انفرادی طور پر جہنم واصل کر کے دین و ملک کا نام روشن کرتے تھے مگر اب ہم نے بربریت اور بہیمیت میں ترقی کر لی ہے اور اب ہم یہ کام جتھوں، لشکروں اور ہجوم کی شکل میں کرتے ہیں۔

دوسری تصویر دیکھیے۔ ایک طالبہ برقع پہنے سکوٹی پر بیٹھ کر کئی کلومیٹر کا فیصلہ طے کر کے کالج پہنچتی ہے۔ سکوٹی پارک کر کے کالج کی عمارت میں داخل ہوتی ہے۔ زعفرانی شالے اوڑھیں کچھ لڑکے اس کے سامنے آ کر شالیں لہراتے جے شری رام کے نعرے لگاتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ لڑکے طالبہ سے تھوڑے فاصلے پر ہی رہتے ہیں۔ اسی دوران کالج انتظامیہ کے کچھ لوگ آ کر طالبہ کو بحفاظت اندر لے جاتے ہیں اور لڑکوں کو وہاں سے بھگا دیتے ہیں۔ طالبہ اپنی اسائنمنٹ جمع کروا کر سکوٹی پر بیٹھ کر کئی کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ یہ واقعہ بھی فوراً وائرل ہو جاتا ہے اور پرنسپل، کالج انتظامیہ، وزارت تعلیم، ریاست، حکومت، سول سوسائٹی اور ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ طالبہ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یہ دونوں واقعات پانچ چھ دن کے فرق سے ایک ہی دن میں آزاد ہونے والے دو پڑوسی ملکوں میں پیش آئے۔ دونوں ملکوں نے انگریز سامراج سے سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں آزادی حاصل کی تھی۔ دونوں ملک جمہوریت پر یقین رکھنے کے دعویدار ہیں۔ دونوں واقعات مذہب کی بنیاد پر پیش آئے۔ ایک میں ایک مجذوب اور فاتر العقل کی جان چلی گئی اور ریاست اور حکومت اور ذمہ دار ادارے دست بستہ و لب بستہ کھڑے تماشا دیکھتے رہے جبکہ دوسرے میں سول سوسائٹی، کالج انتظامیہ اور پولیس کی بروقت مداخلت سے نہ صرف طالبہ کی جان بچ گئی بلکہ وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔ اب وہ دھڑلے سے حجاب کے حق کے لیے سیاسی، مذہبی، سماجی، اخلاقی اور قانونی جنگ لڑ رہی ہے۔ دیکھا جائے تو دونوں واقعات کا ایک تناظر ہونے کے باوجود دونوں میں بعد المشرقین ہے۔

اور یہ واضح، دو ٹوک اور فیصلہ کن فرق جمہوریت اور جمہوریت کے حسن اور ثمرات کا ہے۔ انڈیا میں جمہوریت مسکان کے لیے ڈھال بن گئی اور پاکستان میں آمریت مجذوب کے لیے وبال بن گئی۔ وہاں جمہوریت مسکان تک پہنچنے والوں کے لیے آہنی باڑ بن گئی اور یہاں شدت پسندوں نے آمریت کی آڑ میں ایک بے گناہ کی جان لے لی۔ مسکان کی زندگی جمہوریت کی دین اور مجذوب کی موت سالہا سال کی آمرانہ اور ظالمانہ سوچ کا شاخسانہ ہے۔ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں یہاں جتنے بد نصیب بے دردی سے مارے جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے آمروں نے بار بار جمہوریت پر شب خون مارا ہے یا سلیکٹڈ کی طرح اپنے مہروں کو ملک پر مسلط کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی ہے۔

انڈیا میں مسکان سمیت ایسے لوگ ہجوم کا شکار اس لیے نہیں ہوتے کہ وہاں پچھتر سال سے جمہوریت کا تسلسل چل رہا ہے اور وہاں کسی آمر نے کبھی ریاست کو مذہب کی بھینٹ چڑھایا ہے نہ ڈنڈے کے زور پر حکومت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے ہاں تو ہر شخص میں ایک شقی القلب اور وحشی آمر بیٹھا ہے جو جب چاہے گلیوں بازاروں میں وحشت کا مکروہ کھیل کھیلنے لگتا ہے۔

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں
ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

پس نوشت:تلمبہ کے نواحی علاقے میں توہین قرآن کے الزام میں تشدد سے جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت مشتاق احمد ولد مظہر علی کے نام سے ہو گئی ہے۔ مقتول چک نمبر 12 اے ایچ تحصیل و ضلع خانیوال کا رہائشی تھا اور ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول پچھلے پندرہ سالوں سے ذہنی طور پر معذور تھا۔ مقتول ہی ذہنی طور پر معذور نہیں تھا بلکہ جنرل ایوب، جنرل یحیی، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جیسے سفاک آمروں نے اس ساری قوم کو ہی ذہنی معذور بنا رکھا ہے۔

Facebook Comments HS