کیا عطائی فرشتہ نہیں ہیں


زندگی کے مسائل پر لکھنا شروع کر دے تو قلم رکنے کا نام نہ لے۔ ہماری معاشرتی زندگی بہت سی پریشانیوں میں مبتلا ہے جن میں ایک اہم مسئلہ صحت کے شعبہ ہے۔ شعبہ صحت میں گورنمنٹ رجسٹر ڈاکٹروں کا فقدان ہے۔ جو کہ ڈاکٹر اور حکمت سے خوب واقف ہیں لیکن یہ بزرگ حکومت کے احکامات پر پورا نہیں اترتے ہیں۔ مگر ان کا تجربہ اتنا وسیع ہوتا ہے کہ کسی بھی مریض کو اس کی نبض کو پکڑتے ہی بتا دیتے ہیں کہ اس مریض کو کیا مرض ہے۔ جہاں جدید سائنس کی ہزاروں مشینوں میں مرض نظر نہیں آتی وہی پر ایک بزرگ جدی پشتی اور خاندانی حکمت سے تعلق رکھنے والا ماہر طب یہ بتانے میں دیر نہیں کرتا۔

کہ اس کے وجود میں کیا بیماری ہے۔ یہ وہی فرشتہ نما ماہر طب بزرگ ہوتے ہیں جو روزانہ ہزاروں لوگوں کو بڑی بڑی پریشانیوں سے بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ان کی زندگی کو محفوظ کرتے ہیں۔ مگر افسوس کچھ صاحب علم ان کو عطائی ہی کہتے ہیں میں جانتا ہوں کچھ ایسے بھی ہوں گے جو صرف اپنی روزی روٹی کے لیے حکمت کو اپنا پیشہ بناتے ہیں۔ مگر میرے لحاظ سے ان لوگوں کی دکان داری زیادہ عرصہ نہیں چلتی۔ جو حکمت کی کدر کرتے ہیں جو حکمت کی عزت کرتے جو حکمت کو سمجھتے ہیں وہ ہی لوگ اس کام کو کرنے کی جرات رکھتے ہیں۔

اسی لئے میں کچھ گزرے دنوں کی بات آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔ میرے بہت ہی پیارے دوست جناب مبین اختر کے چھوٹے بھائی کو ہرنیا ہو گئی تھی۔ بچے کی عمر نو سے دس سال تھی ہم بہت پریشان تھے بچہ بہت تکلیف میں مبتلا رہتا اور جائے مخصوصہ سوجی ہوئی تھی اور انتہائی درد میں مبتلا رہتا تھا۔ مبین بھائی گھر میں بڑے ہیں اسی لیے انہوں نے بچے کو سرجن ڈاکٹر کے پاس میاں چنوں لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے بچے کے مکمل ٹیسٹ وغیرہ کیے اور اپنی تحقیق کے مطابق بتایا کہ بچے کو ہرنیا ہیں اور اس کا علاج صرف آپریشن ہے جتنا جلدی آپریشن کروائیں گے بچے کی صحت کے لیے اتنا ہی اچھا ہے۔

مبین بھائی نے سرجن ڈاکٹر سے ٹائم لے لیا اور آپریشن کے لیے ہم نے تیاری شروع کر دی۔ آپریشن میں کچھ دن باقی تھے کہ ہمارے ایک بہت ہی اچھے دوست جناب عزت حضرت حافظ تاشفین اعظم قریشی صاحب کے پاس ہم گئے۔ جناب بھائی حافظ تاشفین اعظم قریشی صاحب کا تعلق حکمت سے ہے۔ مبین بھائی نے ساری بات ان سے ڈسکس کی اور بتایا کہ بھائی کو ہرنیا ہیں۔ بزرگ کہتے ہیں کہ جب دوا اور دعا ایک ساتھ مل جائے تو بیماری جلد چلی جاتی ہے۔

خیر دوا تو ایک ماہر ڈاکٹر سے ہی ملتی ہے۔ اور رہی بات دعا کی تو وہ کوئی بھی دے سکتا ہے اور مالک کسی کی بھی دعا قبول کر سکتے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ مالک کا برگزیدہ دہ اور پسندیدہ بندہ کون ہے۔ جس کا تقوی بلند ہو گا وہی میدان مار جائے گا۔ ہم ان دنوں کافی پریشان تھے۔ خیر حافظ تاشفین اعظم قریشی صاحب نے دوا کے ساتھ دم درود کا کام شروع کر دیا ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کچھ دنوں میں یہ تکلیف کم ہونے لگی اور مسلسل گھٹتی گئی گی۔

کچھ دنوں بعد سوجن اور درد کم ہونے لگی۔ ہم حیران ہو گئے کہ ایک سرجن ڈاکٹر جو کہ اتنے بڑے اسپتال میں کام کر رہا ہے اور اس کا میاں چنوں سٹی میں نام ہے اس صاحب گرامی کے پاس اس بیماری کا حل صرف آپریشن ہی تھا۔ مگر ایک وہ ڈاکٹر جس کو گورنمنٹ عطائی کہتی ہے اور دن رات چھاپے مارتی ہے۔ اس سے اتنا بڑا مریض چند دنوں میں صحت یاب ہو گیا آخر کیسے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کام خدا کی رضا کے لئے کیا جائے اس میں خدا بھی مدد کرتے ہیں۔

بس ایسے بزرگ صاف گو انسان فرشتہ کی شکل میں موجود ہیں مگر پیسہ اور وسائل نے ہماری سوچوں کو اندھا کر دیا ہے۔ ہاں میں یہ بات کرتا ہوں میں کچھ بھی نہیں ہوں، میں گنہگار سا بندہ ہوں، میں حقیر سادہ سا بندہ ہوں مگر میں اپنے عقیدہ میں رہتے ہوئے اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ ہمارے پیارے محترم جناب عزت مآب جناب حافظ تاشفین اعظم قریشی اللہ تعالی کے ولی کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کا کردار ان کی گفتار اپنی مثال آپ ہے۔

اگر ان ماہر طبیعیات اور حکمت سے تعلق رکھنے والے شخصیات کو آپ عطائی کا نام دیتے ہیں تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اللہ تعالی کی کلام بر حق اور سچ ہے ساتھ میں خاندانی حکمت کو جس نے سیکھا ہو اس کو عطائی کہنا میرے خیال میں منفی سوچ کے علاوہ کچھ نہیں۔ میری حکومت پاکستان سے عرض ہے کہ خدارا اپنے صحت کے نظام کو درست فرمائے۔ اور ان کو حکمت کے شعبے میں کام کرنے دیں اور آپ ان کے ٹیسٹ بھی لے سکتے ہیں اگر یہ آپ کے معیار پر پورا اترتے ہیں تو آپ ان پر چھاپے مارنے بند کریں۔

حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ ساڑھے 22 کروڑ لوگوں کا علاج کر سکے ہم ان کے سہارے ہی زندہ ہیں ہم ان کے سستے اور دیسی جڑی بوٹیوں کے علاج سے ہی اپنی زندگی کو محفوظ کر پاتے ہیں ہم شہروں تک پہنچتے پہنچتے تھک ہار جاتے ہیں۔ میری وقت کے حاکم سے اپیل ہے کہ ان ولیوں اللہ کے مجاہدوں کو ذلیل اور خوار نہ کیا جائے اور ان کو عوام کی خدمت کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کرنے کی دیا جائے۔ A

Facebook Comments HS