انڈیا: بازار حصص کی سابق سربراہ ایک یوگی کے ’ہاتھ میں کھیلتی‘ رہی ہیں
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کا کہنا ہے کہ چترا رام کرشنا نے نیشنل سٹاک ایکسچینج (ان ایس ای) کی سربراہی کے دوران ہمالیہ میں مقیم ایک روحانی گرو سے مشورہ کیا تھا۔
مارکیٹ ریگولیٹر کی تحقیق کے مطابق چترا رام کرشنا نے مبینہ طور پر مختلف کاروباری منصوبوں، ادارے کے بورڈ کے اجلاسوں کے ایجنڈے اور مالی تخمینوں سےمتعلق معلومات اپنے نامعلوم گرو کے ساتھ شیئر کی تھیں۔۔
سیبی کا کہنا تھا کہ جمع کردہ دستاویزات ‘واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں’ کہ مذکورہ یوگی نیشنل سٹاک ایکسچینچ کو چلا رہے تھے اور چترا رام کرشنا استعفی دینے تک ‘صرف اس (یوگی) کے ہاتھ میں کٹھ پتلی’ تھیں۔
یہ بھی پڑھیے:
فراڈ کی تحقیقات میں شامل ارب پتی مودی کون ہیں؟
انڈیا کو مطلوب ہیروں کے تاجر میہل چوکسی ایک چھوٹے سے ملک کے لیے بڑا سردرد
کاروباری شخصیت وجے مالیا کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا
ریگولیٹر کا مزید کہنا تھا کہ ‘این ایس ای کے مالیاتی اور کاروباری منصوبوں کا اشتراک… اگر ناقابل تصور نہیں، تو کم از کم ایک ایسی حرکت ہے جو سٹاک ایکسچینج کی بنیادوں کو ہلا سکتی تھی۔‘
سیبی نے چترا رام کرشنا پر تین کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ اور ان پر تین سال کے لیے کسی بھی بورڈ یا ریگولیٹر کے ساتھ ثالث کے طور پر رجسٹرڈ فرم کے ساتھ کام کرنے پر پابندی لگا دی۔
سیپی کی تحقیق میں مذکورہ یوگی سے منسلک جس ایک ای میل کا ذکر کیا گیا ہے، بی بی سی نے اس پتے پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
یوگی سے متعلق ریگولیٹر نے کوئی اور شناختی تفصیل فراہم نہیں کی ہے، سوائے اس کے کہ یوگی ممکنہ طور پر ہمالیہ کے پہاڑی میں رہتے ہیں۔
تحقیقات کے دوران چترا رام کرشنا نے سیبی کو بتایا کہ تقریباً دو عشرے قبل دریائے گنگا کے کنارے ان کی اس یوگی سے ملاقات ہوئی تھی اور تب سے انہوں نے ‘بہت سے ذاتی اور پیشہ ورانہ معاملات’ پر ان سے مشورہ بھی کیا تھا۔
چترا رام کرشنا نے سیپی کو بتایا کہ ‘جیسا کہ ہم جانتے ہیں، سینئر مینیجر اکثر کوچز، سرپرستوں یا دیگر بزرگوں سے غیر رسمی مشورے لیتے ہیں جو کہ مکمل طور پر غیر رسمی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اسی طرح میں نے محسوس کیا کہ یہ رہنما مجھے اپنا کردار بہتر طریقے سے انجام دینے میں مدد کریں گے۔‘
سیبی نے چترا رام کرشنا کے اقدامات کو ‘ضابطوں کی واضح خلاف ورزی’ قرار دیا اور کہا کہ ان کا یہ خیال کہ ان کے اقدامات سے مارکیٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ‘مضحکہ خیز’ ہے۔
ریگولیٹر کا مزید کہنا تھا کہ رام کرشنا نے کمپنی میں ملازمت اور ترقی کے لیے بھی مذکورہ یوگی سے مشورہ کیا تھا اور تحقیقات کے مطابق یوگی کے ہی مشورے پر قابل اعتراض بھرتیاں کی تھیں اور انہیں غیر متناسب تنخواہیں دی تھیں۔
مارکیٹ اور سٹاک میں گھپلوں پر خبریں کرنے والی انڈیا کی ایک مشہور تحقیقاتی صحافی اور مصنفہ سوچیتا دلال کا کہنا ہے کہ ‘یہ ایک عالمی اسکینڈل ہے۔’
سوچیتا دلال نے سیبی کی انکوائری کو ‘ناقص’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چترا رام کرشنا کو تحویل میں لے کر پوچھ گچھ کی ضرورت ہے کیونکہ وہ بہت آسانی سے اس سکینڈل سے نکل گئی ہیں۔
اس حوالے سے مشاورتی فرم، آئی آئی اے ایس کے بانی امیت ٹنڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ نے ایک بار پھر یہ بات واضح کر دی ہے کہ ہمیں اداروں کے اندر گڑ بڑ کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ایک مزید مضبوط وِسل بلوور میکانزم کی ضرورت ہے۔
https://twitter.com/jaysh88/status/1492946496006029312?s=20&t=_XXr-k-gNaDsXE5sZv0Xlw
چترا رام کرشنا نے اپنی پیشوہ وارانہ زندگی کا آعازچارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے طور پر کیا تھا اور سنہ 2000 کی دہائی میں ان کا شمار ان خواتین میں کیا جاتا تھا جنھوں نے مردوں کے زیرِ اثر شعبوں میں خواتین کی کامیاب نمائندگی کی۔
صحافی سچیتا دلال کے مطابق این ایس ای میں ان کی تقرری پر میڈیا کی توجہ اسی بات پر مرکوز رہی کہ چترا رام کرشنا کی پرورش جنوبی ہندوستان کے رکھ رکھاؤ والے ماحول میں ہوئی ہے اور وہ موسیقی کا شغف رکھتی ہیں۔
سچیتا دلال اپنی کتاب میں لکتھی ہیں ‘یہ دلچسپ بات ہے کہ جب تک انہوں نے (این ای سی کے) ایم ڈی کا عہدہ نہیں سنبھالا، اس وقت تک وہ ‘لو پروفائل’ رہتی تھیں۔ اس کے بعد پبلک ریلیشنز کے ماہرین نے مہارت سے ان کی شہرت پر کام کیا۔ ان تک رسائی محض چند منتخب اشاعتی اداروں یا صحافیوں تک محدود تھی اور ٹیلی ویژن چینلز انھیں ایوارڈ دے رہے تھے۔’
چترا رام کرشنا 1990 کی دہائی کے اوائل میں این ایس ای کے ابتدائی افسروں میں شامل تھیں لیکن 2016 میں ‘ذاتی وجوہات’ کی بنا پر انھوں نے ایکسچینج سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
سوشل میڈیا پر سیبی کی تفتیش پر شدید ردعمل نظر آیا ہے۔ چند صارفین یہ جان کر حیران ہو گئے کہ انڈیا کے سب سے بڑے بازار حصص میں سے ایک ایکسچینج کو ایک یوگی چلا رہا ہے۔
اپرنا نے لکھا کہ ‘چترا رام کرشنا اور اس کے گمنام یوگی پر ایک نیٹ فلکس شو کی ضرورت ہے۔‘
https://twitter.com/Aparna/status/1492843236963979264?s=20&t=_XXr-k-gNaDsXE5sZv0Xlw
مدھو نے سوال کیا کہ چترا رام کرشنا کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ہے؟ وہ لکھتی ہیں کہ میں ‘حیران نہیں ہوں گی اگر یہ یوگی کوئ ‘ان سائڈر ٹریڈر’ نکلے’۔
https://twitter.com/pisumatu/status/1493111155551707139?s=20&t=_XXr-k-gNaDsXE5sZv0Xlw
مادھون نارائنن نے لکھا کہ کاروباری دنیا سے متعلق یہ اس سال کی سب سے عجیب و غیرب کہانی ہو گئی۔
https://twitter.com/madversity/status/1492433284881477634?s=20&t=_XXr-k-gNaDsXE5sZv0Xlw

