تلمبہ میں ایک شخص نہیں، معاشرہ قتل ہوا ہے
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہفتہ کے روز بلوچستان میں پنجگور کے مقام پر دہشت گرد حملہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لئے دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں اور سرپرستوں کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنا ضروری ہے۔ اتوار کی صبح ضلع خانیوال کے علاقے تلمبہ میں ایک نیم پاگل شخص کو مشتعل ہجوم نے یہ کہتے ہوئے انسانیت سوز تشدد کے ذریعے ہلاک کر دیا کہ وہ توہین قرآن کا مرتکب ہوا تھا۔ ہجوم کی اس دہشت گردی کے حوالے سے بھی اسی اصول کے تحت غور کرنے اور لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہوگی۔
وزیر اعظم عمران خان نے تلمبہ میں ہونے والے المناک سانحہ پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’ان کی حکومت ایسی قانون شکنی کے بارے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے اور کسی بھی عذر پر کسی انسان کو تشدد سے مار دینے جیسے جرم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جو لوگ بھی اس واقعہ میں ملوث ہیں، انہیں قرار واقعی سزا ملے گی۔ کوتاہی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسروں کی بھی باز پرس ہوگی‘۔
کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ بیان بروقت ہے اور صوبائی حکومت کے علاوہ وزیر اعظم کی طرف سے اس واقعہ کا نوٹس لینے کا اقدام خوش آئند ہے تاکہ معاشرے میں غیر ضروری تشدد اور مذہب کے نام پر انسانوں کو ہلاک کرنے کے واقعات کا تدارک ہو سکے۔ لیکن کیا اس بیان سے اور ایک انسان کی دردناک ہلاکت کے بعد پولیس کی مستعدی اور درجنوں افراد کی گرفتاری سے صورت حال تبدیل ہو جائے گی؟ کیا عمران خان سمیت ملک کی سیاسی قیادت یہ ضمانت دے سکتی ہے کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہو گا۔ جو لوگ تلمبہ میں ایک انسان کو دردناک طریقے سے ہلاک کرنے میں ملوث ہیں، انہیں واقعی کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا؟ بدقسمتی سے ملک کے وزیر اعظم سمیت کوئی بھی ذمہ دار شخص اس کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ یہ واقعہ نہ تو پہلا ہے اور نہ ہی یہ اس ملک میں آخری واقعہ ثابت ہو گا۔ عمران خان سمیت اس وقوعہ پر بیان جاری کرنے والے سارے وزیر اور سیاسی لیڈر یہ سچائی جانتے ہیں لیکن اس سے نمٹنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
دو ماہ پہلے دسمبر میں سیالکوٹ میں ایک فیکٹری منیجر پریانتھا کمار کو ایک ہجوم نے اسی طریقے سے ایسے ہی انداز میں ہلاک کیا تھا۔ توہین قرآن و رسالت کا عذر تراش کر ایک فیکٹری کے ایک ذمہ دار عہدیدار کو فیکٹری کی چھت سے گھسیٹتے ہوئے نیچے لایا گیا، ڈنڈوں، لوہے کے سریوں اور ٹھڈوں سے اسے شدید زدوکوب کیا گیا۔ حتی کہ اس کی جان نکل جانے کے بعد بھی تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد پیٹرول چھڑک کر لاش کو آگ لگا دی گئی۔ اس سارے واقعہ کے دوران بھی پولیس بے بس و لاچار بنی، ہجوم کو ایک پر امن شہری پر ظلم و تشدد کرتے دیکھتی رہی لیکن اسے بچانے میں ناکام رہی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسے مواقع پر پولیس جان بوجھ کر کنی کتراتی ہے اور نفری کم ہونے کا بہانہ کر کے ہجوم کو اپنا ’غصہ نکالنے اور اپنی صوابدید کے مطابق انصاف کرنے کا موقع‘ فراہم کرتی ہے یا واقعی حکومتیں پولیس کو اتنے وسائل فراہم کرنے میں ناکام ہیں کہ وہ ایسی کسی سنسنی خیز اور مشکل صورت حال میں اپنی حفاظت بھی کرسکے اور ہجوم کے نشانے پر آئے ہوئے کسی مظلوم کو بھی بچا سکے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں تحریک لبیک کے احتجاج اور دھرنے کے دوران بھی پولیس کی بے بسی اور مجبوری سامنے آئی تھی۔ لاہور سے شروع ہونے والے اس تصادم نما احتجاج میں درجن بھر کے لگ بھگ پولیس اہلکار ہجوم کے حملوں سے ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک پولیس اہلکار کو اپنی ٹولی سے بچھڑنے کی وجہ سے تحریک لبیک کے مشتعل کارکنوں نے اسی طرح تشدد کر کے ہلاک کیا تھا جیسے دسمبر میں پریانتھا کمار کو اور اب تلمبہ میں مشتاق احمد کو مارا گیا ہے۔ دونوں مواقع پر پولیس بے چارگی کی تصویر بنی رہی۔ یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ اتوار کو تلمبہ میں ہجوم جس وقت ایک بے قصور اور ذہنی طور سے معذور شخص پر تشدد کر رہا تھا تو پولیس پارٹی موقع پر پہنچ گئی تھی۔ روزنامہ ڈان کی خبر کے مطابق ایس ایچ او نے اس شخص کو حراست میں بھی لے لیا تھا لیکن پولیس پارٹی ہجوم کو منتشر کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
یہ کہنا محض قیاس آرائی ہوگی کہ کیا پولیس کے پاس ایسی کسی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے یا جان بوجھ کر ہجوم کو من مانی کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں پنجاب حکومت پر اس کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وقوعہ کے بعد وزیر اعلیٰ کا سخت کارروائی کرنے کا ’حکم‘ یا مذمت اور آئی جی پولیس سے لے کر نچلے عہدوں پر فائز افسروں کی پھرتیوں سے اس تساہل اور ناقص حکمت عملی کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا جو ہجوم کے ہاتھوں نہتے اور معصوم لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔ بدستور اس صورت حال میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کیوں کہ اس مزاج اور سوچ کو تبدیل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ بلکہ مدینہ ریاست کا نام لے کر وزیر اعظم عمران خان ملکی سیاست میں مذہب نافذ کرنے کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ طرز عمل بجائے خود معاشرے کے شدت پسند اور انتہا پسند عناصر کی سرپرستی کا سبب بن رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ایک سے زیادہ مواقع پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایک طرف مذہب کو اپنے سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے میں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتی اور دوسرے منہ زور مذہبی عناصر کو کچلنے کی کی بجائے ان کے سامنے پسپائی اختیار کر کے اپنی حکومت کو لاحق سیاسی چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اکتوبر میں تحریک لبیک کے بغاوت نما احتجاج اور متعدد پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پہلے یہی دعوے کیے گئے تھے حکومت کسی قیمت پر کسی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے اور تشدد کا مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی لیکن چند ہی روز میں کراچی کے ایک مفتی کی پراسرار سرگرمیوں کے بعد اچانک تحریک لبیک کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے گئے جن میں بغاوت اور دہشت گردی جیسے الزامات میں قید کیے گئے تحریک کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے علاوہ قانون شکنی کرنے والے کارکنوں کو معاف کرنا بھی شامل تھا۔ حکومت نے ’افہام و تفہیم یا مصالحتی فارمولے‘ کے تحت ان لوگوں کے خلاف مقدمے قائم کرنے یا ان کی پیروی کرنے سے گریز کیا اور یوں یہ سب لوگ قانون شکن ہونے کے باوجود حب الوطن شہریوں کے طور پر باعزت طریقے سے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ حکومت نے جس تحریک کو کالعدم قرار دیا تھا، اسی کو سیاسی طاقت مانتے ہوئے سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق و اختیار دے دیا گیا۔ اس سارے عمل میں تحریک لبیک نے کسی موقع پر یہ ضمانت فراہم نہیں کی کہ اس نے احتجاج اور تشدد کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نہ ہی یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ کسی سیاسی فائدے کے لئے ٹی ایل پی ایک بار پھر ماضی کی طرح ناجائز اور ناقابل عمل مطالبے پورے کروانے کے لئے ایک بار پر پھر تشدد آمیز دھرنوں و احتجاج کا طریقہ اختیار نہیں کرے گی۔
وزیر اعظم کی طرف سے قانون شکنی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کا اعلان بلاشبہ خوش آئند ہے لیکن عمران خان کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ بیان محاورے کی زبان میں ’اس کاغذ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے جس پر وہ لکھا گیا ہے‘ ۔ بدقسمتی سے کسی افسوسناک سانحہ کے بعد سخت اور تند تیز بیان دینا اور دھمکی آمیز طریقہ اختیار کرنا ایک ایسا معمول بن چکا ہے جسے زبانی مشقت سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ ایسے کسی بیان کے بعد کوئی ایسا اقدام دیکھنے میں نہیں آتا کہ یہ باور کیا جا سکے کہ حکومت مذہبی جتھوں کے خلاف ریاستی طاقت استعمال کرنے میں سنجیدہ ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس اہل بنانا چاہتی ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال میں انسانی جان کے ضیاع سے پہلے حالات پر قابو پا سکیں۔
یاد کیا جائے تو وزیر اعظم نے دسمبر میں پریانتھا کمار کے قتل کے بعد بھی ایسے ہی تند و تیز لب و لہجے میں گفتگو کی تھی اور متعدد بیان جاری کیے تھے۔ حتی کہ پریانتھا کو بچانے کی کوشش کرنے والے اس کے ایک ساتھی کو وزیر اعظم ہاؤس بلا کر اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ اس اقدام کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ مذہبی شدت پسندی کے خلاف دیوار بننے کی کوشش کرنے والے شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ رونما ہو تو لوگ ملک عدنان کی مثال کو پیش نظر رکھیں اور یاد رکھیں کہ وزیر اعظم نے اسے ہجوم کو روکنے کی کوشش کرنے پر تمغہ شجاعت سے نوازا تھا۔ تاہم دو ماہ بعد ہی تلمبہ میں جب ہجوم ایک نہتے اور بے بس مشتاق احمد کو تشدد سے ہلاک کر رہا تھا تو کوئی ملک عدنان تو سامنے نہیں آیا البتہ موقع پر موجود پولیس افسر بھی بے بسی کی تصویر بنے رہے۔
جنرل باجوہ نے دہشت گردی کے حوالے سے سہولت کاروں و سرپرستوں کے گٹھ جوڑ کا ذکر کیا ہے۔ تلمبہ کے سانحہ کی تفصیلات پڑھنے کے بعد سوچنا چاہیے کہ کیا تصویر اب بھی دھندلی ہے۔ اور اگر نوشتہ دیوار دکھائی دے رہا ہے تو کارپردازوں کو علم ہونا چاہیے کہ کون سے عناصر پاکستان کے عوام اور ملک کے دشمن اور ریاست کو کہاں کس کے خلاف جنگ کرنا ہوگی۔ اگر اب بھی یہ تصویر صاف دکھائی نہیں دے رہی تو جان لیا جائے کہ تباہی نے اس معاشرے میں ڈیرا ڈال لیا ہے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے۔


