لتا جی کا اس دنیا سے چلے جانا اب کوئی معنی نہیں رکھتا
سب کی طرح میرا بھی دل تھا کہ میں لتا جیسی بڑی ہستی کے بارے کچھ لکھوں۔ سب نے ہی بہت رنج و الم غمناکی کا اظہار اپنے اپنے بہترین الفاظ میں کیا۔ اور ان کے نغموں کے ساتھ انہیں بہترین خراج پیش کیا۔ مگر سچ پوچھیں تو لتا جی کے جسمانی طور پر اس دنیا سے چلے جانے سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا اور یقین جانیں مجھے ان کے جسمانی طور پر اس دنیا میں موجود ہونے کا کچھ پتا نہیں تھا اور نا ہی چلے جانا کوئی معنی رکھتا ہے۔ با مطابق استاد یہ کائنات ذرات اور لہروں کا مجموعہ ہے۔ اور آواز لہروں پر سفر کرتی ہوئی ہماری سماعتوں تک پہنچتی ہے۔ جیسے یونانی کتھاؤں میں فطرت کے ہر مظہر کے لیے ایک دیوتا یا دیوی ہوا کرتے تھے اگر اب کوئی ہومر دوبارہ سے اوڈیسے (ODYSSEY) لکھے گا تو اس میں لتا جی کو آوازوں کی ملکہ، سروں کی دیوی لکھے گا۔
اور اگر ہومر اپنی اسی نظم میں دوبارہ سے لتا جی کا ذکر کرے گا تو ہومر انہیں ”محبت“ لکھے گا
لتا جی آوازوں کی ملکہ، سروں کی دیوی تو ہیں ہی مگر ان کی زندگی کا دوسر بڑا اور اہم پہلو محبت تھا۔ وہ سر تا پاؤں محبت ہی محبت تھیں۔ میں محبت جیسی جنس سے آشنا ہونے سے پہلے لتا جی کی آواز سے آشنا ہو چکا تھا جب کچھ کرنے کو نہیں آتا تھا تو میں لتا سنا کرتا تھا۔ جب لتا جی کو سن کر محبت کے نام سے واقفیت ہوئی تو محبت کرنا بھی لتا جی کے گانوں سے سیکھا۔ محبت میں وصل ہوا کہ جنوں، دل گھبرایا کہ آئے سکوں، سنا لتا جی کو ہی۔
دل ٹوٹا کہ کام چھوٹا، شروعات کی کہ سوجھا کچھ اور سنا لتا جی کو ہی۔ زندگی میں جب بھی محبت کری سنا لتا جی کو ہی۔ زندگی نے جب بھی پٹکا مارا سنا لتا جی کو ہی۔ مجھے ذاتی طور پر ان کا یہ گانا بہت پسند ہے ”لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات ہو نا ہو شاید پھر اس جنم میں یہ ملاقات ہو نا ہو“ یہ میری زندگی کے ایک خوب صورت حصے کی یاد دلاتا ہے۔ عمر کے جس حصے میں جیسا بھی موڑ آیا لتا جی نے سہارا دیا۔ مگر یہ کیا ایک دن میں نے لتا جی کے منہ سے سنا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ زندگی دوبارہ ملے ہی ناں، جی جی دوبارہ نا ہی ملے تو اچھا ہے اور اگر ایسا ہو بھی تو وہ دوبارہ لتا بننا نہیں چاہیں گی۔
ان کے خود سے انکار کے اقرار نے میرے اندر بہت سالوں کے سفر کے بعد مجھ پر زندگی کے بہت سارے پہلو اور راز کھولے۔ مجھے اس بات کو سمجھنے میں کئی برس لگے۔ انسانی فطرت میں یہ بات ایسے شامل ہے جیسے رگوں میں خون۔ جس کسی چیز کے حصول کا شوق یا خواہش انسان کے اندر پیدا ہو جائے وہ اسے حاصل کرنے کی چاہ میں اندھا دھند ہر حاصل شدہ چیز کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوا بس دھیان ایک ہی مرکز پر بنائے آگے بڑھتا جاتا ہے اور راہ عشق کا مسافر بن جاتا ہے جیسے جیسے وہ اس پر سفر کرتا جاتا ہے۔
جیسے جیسے اس خواہش کا حصول اور بھی ناگزیر ہوتا جاتا ہے تو وہ آرزو ایک لا علاج روگ کا روپ دھارن کر لیتی ہے۔ بہت ہاتھ پاؤں مارنے، کوشش، تکالیف کے بعد جب انسان اس بات کو جان لیتا ہے کہ وہ اپنی چاہت کی منزل کو پانے میں ناکام ہو گیا ہے۔ جس نروان کی اسے تلاش اور چاہ تھی اسے پانا ممکن نہیں تو وہ اسے آوازوں، سروں کی ملکیت کا تاج بھی ایک بے کار شے معلوم پڑتا ہے۔ جس آرزو کا قتل ہو چکا اس کا قصاص پوری دنیا کی دولت کیا فطرت بھی ادا نہیں کر پاتی۔ تب اس سے خدا بھی پوچھے کہ اسے
فطرت کے کس عجوبہ پر دسترس چاہیے اس کا جواب یقیناً یہی ہو گا کہ وہ دوبارہ لتا بننا نہیں چاہیں گی۔ لتا جی محبت تھیں اور محبت کے لیے گاتیں تھیں اور محبت کا مرکز سلامت علی خان صاحب تھے۔
تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں، شکوہ نہیں
تیرے بنا زندگی بھی لیکن زندگی تو نہیں، زندگی نہیں

