پائپس
معروف اسرائیلی ادیب ایتگار کیریٹ کی کہانی Pipes کا اردو ترجمہ۔
جب میں ساتویں جماعت میں پہنچا، تو انہوں نے ایک سائیکاٹرسٹ کو اسکول بلایا اور ہمیں متعدد نفسیاتی ٹیسٹوں سے گزارا گیا۔ سائیکاٹرسٹ نے مجھے ایک ایک کر کے بیس مختلف فلیش کارڈز دکھائے اور پوچھا کہ بتاؤ ان تصویروں میں کیا گڑ بڑ ہے۔ وہ سب مجھے ٹھیک لگ رہی تھیں، لیکن اس نے اصرار کیا اور مجھے دوبارہ پہلی تصویر دکھائی، جس میں ایک بچہ تھا۔ ”اس تصویر میں کیا گڑ بڑھے؟“ اس نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے تو تصویر ٹھیک لگتی ہے۔
وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور کہا۔ ”کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا، تصویر میں لڑکے کے کان ہی نہیں ہیں؟“ سچی بات تو یہ ہے کہ جب مجھے دوبارہ تصویر دکھائی گئی تو میں نے دیکھ لیا تھا کہ بچے کے کان نہیں تھے۔ لیکن پھر بھی مجھے تصویر ٹھیک ہی لگ رہی تھی۔ سائیکاٹرسٹ نے مجھے ”ادراک کی شدید خرابی“ (severe perceptual disorder) کا شکار قرار دیا اور کارپینٹری اسکول میں منتقل کرا دیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو انکشاف ہوا کہ مجھے تو برادے سے الرجی ہے، اس لیے انہوں نے مجھے میٹل ورکنگ کلاس میں منتقل کر دیا۔
وہاں میری کارکردگی اچھی تھی، لیکن مجھے بالکل مزہ نہیں آتا تھا۔ سچ کہوں تو مجھے کسی بھی کام میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اسکول سے فارغ ہونے کے بعد میں نے پائپ بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کرنا شروع کر دیا۔ میرا باس ایک انجینئر تھا جس نے ٹاپ ٹیکنیکل کالج سے تعلیم حاصل کی تھی۔ بڑا ہی ذہین آدمی تھا۔ اگر آپ اسے کسی کانوں کے بغیر بچے کی تصویر دکھائیں تو وہ پلک جھپکتے میں پتا لگا لے گا کہ تصویر میں کیا گڑ بڑ ہے۔
میں کام ختم ہونے کے بعد فیکٹری میں رک کر اپنے لیے عجیب و غریب شکلوں کے، خم دار پائپ بناتا جو کنڈلی دار سانپوں کی طرح نظر آتے تھے اور ان میں سے کنچے گزارتا رہتا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ ایسا کرنا بے وقوفی لگتا ہے اور مجھے مزہ بھی نہیں آتا تھا لیکن بہرحال میں اسی طرح کھیلتا ر ہتا۔
ایک رات میں نے ایک بہت ہی پیچیدہ پائپ بنایا جس میں بہت سارے پیچ و خم تھے اور جب میں نے ایک کنچا اس کے اندر ڈالا تو وہ دوسرے سرے سے باہر نہیں نکلا۔ پہلے میں نے سوچا کہ شاید وہ درمیان میں کہیں پھنس گیا ہو گا، لیکن تقریباً بیس کنچے آزمانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ دراصل غائب ہو رہے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ میری کہی ہوئی ہر بات احمقانہ لگتی ہے، میرا مطلب ہے کہ سب جانتے ہیں کنچے بس یوں ہی غائب نہیں ہو جاتے۔
مگر جب میں نے دیکھا کہ کنچے پائپ کے ایک سرے سے اندر تو جاتے ہیں لیکن دوسرے سرے سے باہر نہیں آتے تو مجھے یہ بھی عجیب نہیں لگا۔ بلکہ بالکل ٹھیک محسوس ہوا۔ اسی وقت میں نے خود اپنے لیے اسی شکل کا بہت بڑا پائپ بنا نے اور اس میں گھس کر غائب ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ جس لمحے مجھے یہ خیال آیا، میں اتنا خوش ہوا کہ میں نے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔ میرا خیال ہے میں اپنی پوری زندگی میں پہلی بار ہنسا تھا۔
اس دن سے، میں نے اپنے بڑے سے پائپ پر کام شروع کر دیا۔ ہر شام میں اس پر کام کرتا اور صبح اس کے پارٹس اسٹور روم میں چھپا دیتا۔ اس پائپ کو بنانے میں میرے بیس دن صرف ہوئے۔ آخری رات مجھے اس کے پارٹس جوڑنے میں پانچ گھنٹے لگے اور اس نے مکمل ہو کر تقریباً آدھی فیکٹری کی جگہ گھیر لی۔
جب میں نے اسے مکمل اپنے سامنے دیکھا تو مجھے اپنے معاشرتی علوم کے استاد یاد آ گئے جنہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ڈنڈے کا استعمال کرنے والا پہلا انسان اپنے قبیلے کا سب سے طاقتور یا ذہین ترین آدمی نہیں تھا۔ دراصل دوسروں انسانوں کو ڈنڈے کی ضرورت ہی نہیں تھی، جبکہ اسے تھی۔ اسے ڈنڈے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، زندہ رہنے اور اپنے کمزور ہونے کی تلافی کرنے کے لیے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس پوری دنیا میں کوئی دوسرا انسان ہو گا جو غائب ہو جانے کی مجھ سے زیادہ خواہش رکھتا ہو گا، اسی لیے میں نے پائپ ایجاد کیا تھا۔ میں نے، اس ذہین ٹیکنیکل کالج کے ڈگری یافتہ انجینئر نے نہیں، جو فیکٹری چلاتا تھا۔
میں نے پائپ کے اندر رینگنا شروع کر دیا۔ مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ دوسرے سرے پر مجھے کیا ملے گا۔ شاید وہاں بغیر کانوں والے بچے کنچوں کے ڈھیر پر بیٹھے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے۔ مجھے بالکل نہیں معلوم کہ پائپ کے ایک خاص مقام سے گزرنے کے بعد کیا ہوا۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اس کے اندر ہوں۔
میرا خیال ہے کہ میں اب فرشتہ بن چکا ہوں۔ میرا مطلب ہے، میرے پنکھ ہیں، میرے سر کے اوپر ایک ہالہ ہے اور یہاں میری طرح کے سینکڑوں اور بھی ہیں۔ جب میں یہاں پہنچا تو وہ ان کنچوں سے کھیل رہے تھے جو میں نے چند ہفتے پہلے پائپ کے اندر ڈالے تھے۔
میں ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی نیک بن کر گزاری ہو، مگر ایسا نہیں ہے۔ انتہائی رحیم اور کریم خدا ایسے فیصلے نہیں کرتا۔ جنت محض ان لوگوں کے لیے ہے، جو دراصل زمین پر خوش نہیں رہ پاتے۔ یہاں مجھے بتایا گیا ہے کہ جو لوگ خود کشی کر لیتے ہیں، انہیں اپنی زندگی دوبارہ گزارنے کے لیے واپس بھیج دیا جاتا ہے، کیونکہ حقیقت یہ کہ اگر انہیں زندگی پہلی بار خوشی و اطمینان نہیں دے سکی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری بار بھی راس نہیں آئے گی۔ لیکن جو واقعی دنیا میں خوش نہیں سکتے وہ یہاں آ جاتے ہیں۔ ان سب کا جنت میں پہنچنے کا اپنا اپنا طریقہ ہے۔
یہاں پائلٹ ہیں جو برمودا مثلث کے ایک مخصوص مقام کے عین اوپر پرواز کرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔ گھریلو خواتین اپنے باورچی خانے کی الماریوں کے پیچھے سے گزر کر یہاں پہنچی ہیں، اور ریاضی دان ہیں جنہیں زمانی و مکانی سلسلے میں شگاف پیدا کرنے کا فارمولہ مل گیا اور وہ اس میں گھس کر یہاں پہنچ گئے۔ لہذا اگر آپ واقعی نیچے ناخوش ہیں اور اگر ہر شخص آپ کو یہ بتا رہا ہے کہ آپ ادراک کی شدید خرابی (severe perceptual disorder) میں مبتلا ہیں تو یہاں پہنچنے کا آپ اپنا طریقہ تلاش کریں اور جب آپ کو یہ مل جائے تو پلیز کیا آپ تاش کے پتے لا سکتے ہیں؟ کیونکہ یہاں ہم کنچے کھیل کھیل کر بہت تنگ آ گئے ہیں۔


