چپ کر جا بڑھیا

نوّے کی دہائی کے اوائل کا ذکر ہے۔ کراچی کے ایک چھوٹے سے سرکاری اسکول میں میرا آٹھویں جماعت کا پرچہ تھا۔ کلاس میں دو ٹیچرز نگرانی پرمامورتھیں۔ ایک تقریبا تیس کی اور دوسری پچاس کے قریب تھیں۔ ابھی پرچے تقسیم ہوئے دیر نہیں گزری تھی کہ پورے اسکول میں لڑکوں کا بڑاساغول داخل ہوا اور کلاسز میں دو دو اور تین تین کی تکڑیوں میں پھیل گیا۔ اُن کے ہاتھوں میں کتابیں، شرحیں اور نوٹس کی کاپیاں تھیں جووہ نقل کرنے کے لئے لڑکیوں میں تقسیم کر رہے تھے۔

جب وہ ہماری کلاس میں داخل ہوئے توسینئیر ٹیچران پر چلائیں، ”نکل جاویہاں سے میں تمھیں اس کلاس میں نقل نہیں کرانے دوں گی۔ “ اُن میں سے ایک لڑکے نے کہا، ”چپ کر جا بڑھیا ورنہ گولی مار دوں گا۔ “ یہ سُن کرٹیچر بھی آپے سے باہر ہوگئیں، ”چلاؤ گولی میں کھڑی ہوں یہاں، چلاؤ گولی۔ “ ان کا غصے سے بلڈ پریشر بڑھ گیا اور سانس پھول گئی۔ اسی چیخ پکار میں دوچار ٹیچرز پاس کے کمروں سے بھاگی بھاگی آئیں۔ انھوں نے اُس لڑکے کے آگے ہاتھ جوڑے اور معاملہ رفع دفع کرایا۔ سینئیر ٹیچر کو اسٹاف روم میں لے گئیں۔ فضا میں دہشت پھیل گئی تھی۔

Read more

چین نے سری لنکا کی بندرگاہ کیسے ہتھیائی؟

پچھلے سال دسمبر میں سری لنکا نے چین کو ہمبنٹوٹہ پورٹ اور اس سے ملحق پندہ ہزار ایکڑ اراضی ننانوے سال کے لئے لیز پردے دیا تھا۔ انڈیا نے اس پورٹ پر چین کے کنٹرول کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ چین اس بند گاہ کو انڈیا پر دباؤ بڑھانے کے لئے…

Read more

سیدانی اور سیاست

جب میں بچی تھی توہمارے محلے میں ایک آنٹی روزینہ رہا کرتی تھیں۔ تھیں تو وہ صرف مڈل پاس گھرگرہستن لیکن جاہ و جلال کسی حاضرسروس تھانیدارنی سے کم نہ تھا اور نئی پرانی، چھوٹی بڑی، موٹی پتلی، زنانہ مردانہ گالیوں کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھیں۔ ”سگھڑ“ اتنی کہ مارکیٹ سے آ کر گھرکے سامنے…

Read more