شرمگاہ کی کہانی

میرے ماں باپ جغرافیائی اہمیت کی حامل ایک وادی میں، گاؤں والوں کی مرضی سے مل جُل کر دُکھی رہتے تھے۔ میرے خوش شکل ماں باپ کے سر ایک ہی سائز اور شکل کے تھے گویا کسی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں۔ وادی میں تفریح کے مواقع بہت کم تھے اور جو تھے وہ بہت مہنگے تھے۔ اس لیے انہوں نے ایک کھلونا گھر لانے کا سوچا۔ لہذا جب میں اس دنیا میں لائی گئی تو میں بہت خوبصورت تھی

Read more

پھوہڑ عورت

اسے یقین ہو گیا تھا کہ عورت کی تعریف صرف اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے اس کی ماں نے اس کی تعریف کی کہ وہ بہت اچھا کھانا بناتی ہے۔ کبھی تعریف نہ کرنے والی ماں کے منہ سے تعریف سن کر وہ ہواوں میں اڑنے لگی تھی۔ وہ شوق اور محنت سے سارے خاندان کے لیے پکاتی رہی۔ ماں کو باورچی خانے کی قید سے رہائی مل گئی اور اسے تعریف کے

Read more

پہلوٹھی اولاد کا عذاب: ایٹگرکیریٹ کی کہانی

{ایٹگرکیریٹ کی کہانی Plague of the Firstborn کا اردو ترجمہ} مترجمہ: اسما حسن جون کے آخر میں، مینڈکوں کے طاعون کے بعد ، لوگوں نے وادی کو گروہ در گروہ چھوڑنا شروع کر دیا۔ جو لوگ استطاعت رکھتے تھے انہوں نے اپنی املاک پر ایک نگراں مقرر کیا، اپنے خاندانوں کو ہمراہ لیا اور نوبیا کے طویل سفر پر روانہ ہو گئے جہاں وہ عبرانیوں کے خدا کے غضب کے ٹھنڈا پڑ نے اور طاعون کے ختم ہونے کا انتظار

Read more

بُو

جس دن سے اس کے ذہن میں یہ منصوبہ آیا، اس میں زندگی کی رمق دوڑ گئی۔ شوہر سے جان چھڑانے کا اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس شخص سے جس نے اس کا سکون پچھلے ایک سال سے برباد کیا ہوا تھا۔ شادی سے پہلے اس نے اسے صرف ایک بار دیکھا تھا۔ اسے وہ کوئی خاص نہیں لگا تھا اس لیے اس نے شادی کی حامی بھر لی۔ خاص چیزوں میں اسے بالکل دلچسپی

Read more

ایک بیٹی کا ماں کے نام خط – فکشن

سلام امی آپ خیریت سے ہیں اس لیے خیریت نہیں پوچھوں گی۔ یہ اطلاع دینے کے لیے آپ کو لکھ رہی ہوں کہ میں اس قید خانے کو، جیسے آپ گھر کہتی ہیں چھوڑ دیا ہے۔ میں اب کبھی واپس نہیں آنا چاہتی۔ وہ سب جو میں کہنے کے لیے یہ خط لکھ رہی ہوں، آپ کے سامنے زبان سے بھی کہے سکتی تھی مگر آپ سے کسی قسم کی بھی بامعنی گفتگو کبھی سے ممکن نہیں۔ آپ کے خیال

Read more

ہمیں رشتہ منظور ہے

میرا ماسٹرز کا آخری پیپر ہے۔ میں صرف خوش نہیں بلکہ بہت خوش ہوں۔ اس دن کا میں ڈیڑھ سال سے انتظار کر رہی تھی۔ میں نے اور جنید نے یہی طے کیا تھا کہ ہم اپنے گھر والوں سے شادی کی بات تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی کریں گے اور کیونکہ جنید کو نوکری کی کوئی ایمرجنسی نہیں تھی اس لیے وہ ماسٹرز کے فوراً بعد میرے گھر اپنے ماں باپ کو رشتے کے لیے بھیجنا چاہتا تھا۔

Read more

مردود ڈاکٹر اور عبداللہ غازی کی فائلیں کیسے تبدیل ہوئیں؟

وہ دونوں میدان حشر میں موجود تھے، آخری فیصلہ ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر جنت کی جانب جانے والے لوگوں کی قطار میں کھڑا تھا۔ قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک اس کے بائیں جانب دوزخ جانے والی قطار میں کھڑے ایک فربہ لڑکے نے اچانک چیخ و پکار شروع کردی، ”یہ کافر ہے، یہ تو کافر ہے، یہ جنت کیوں جا رہا ہے اور میں دوزخ میں کیوں؟ نہیں، نہیں، یہ زیادتی ہے، یہ نا انصافی

Read more

دو بول پیار کے – فکشن

سُنیں! ناشتہ لگا دیا ہے۔ آ جائیں۔ فوزیہ نے بیٹے کے لیے پراٹھا بیلتے ہوئے ہی باورچی خانے سے ہی زور دار آواز لگائی۔ اس کے چہرے سے بیزاری اور پزمژدگی جھلک رہی تھی۔ ”ہاں۔ ہاں لگاؤ۔ تھوڑی دیر میں آتا ہوں ذرا کمرہ سمیٹ دوں“ ۔ فیصل نے کمرے سے ہی آواز لگائی۔ ”آپ نے تو کہا تھا ناشتہ لگاؤ، میں آ رہا ہوں۔ چائے آپ کو کھولتی چاہیے، پراٹھا توے سے اُترا ہوا۔ اب کمرے سمیٹتے رہیے گا

Read more

دائرے

زندگی مشکل نہیں، انسانوں کی غلطیاں بار بار ایک ہی جیسی غلطیاں اور ترجیحات اسے مشکل بناتی ہیں۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کی زندگیاں مشکل یا بوجھل ہیں ان سے قربت رکھنے والے خوش و خرم افراد بھی اضطراب اور یاسیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ”چاچی، کوئی نیا کام ڈھونڈ دو نا، تمہاری اتنی جان پہچان ہے۔ کہیں بھی کام کر لوں گی۔“ روبینہ نے پان چباتی حوا چاچی کے گھٹنے دباتے ہوئے خوشامدی

Read more

پائپس

معروف اسرائیلی ادیب ایتگار کیریٹ کی کہانی Pipes کا اردو ترجمہ۔ جب میں ساتویں جماعت میں پہنچا، تو انہوں نے ایک سائیکاٹرسٹ کو اسکول بلایا اور ہمیں متعدد نفسیاتی ٹیسٹوں سے گزارا گیا۔ سائیکاٹرسٹ نے مجھے ایک ایک کر کے بیس مختلف فلیش کارڈز دکھائے اور پوچھا کہ بتاؤ ان تصویروں میں کیا گڑ بڑ ہے۔ وہ سب مجھے ٹھیک لگ رہی تھیں، لیکن اس نے اصرار کیا اور مجھے دوبارہ پہلی تصویر دکھائی، جس میں ایک بچہ تھا۔ ”اس

Read more

سومرسیٹ مام کے افسانے "The Verger” کا اردو ترجمہ

اس دوپہر سینٹ پیٹرز، نیویل اسکوائر میں بپتسمہ کی تقریب تھی اور البرٹ ایڈورڈ فورمین نے اب تک اپنا چوب داری کا گاؤن پہنا ہوا تھا۔ اس نے اپنا نیا گاون صرف، جنازوں اور شادیوں ( با ذوق لوگ ایسی تقریبات سینٹ پیٹرز، نیو ویل گرجا میں منعقد کرنا پسند کرتے تھے۔ ) کے لیے رکھا ہوا تھا جس کی کریزیں ایسی کڑک تھیں گویا وہ الپاکا (جنوبی امریکہ میں پائی جانے والی بھیڑ) اوون کی بجائے کانسی سے بنا ہو اور اس دوپہر البرٹ ایڈ ورڈ نے اپنا دوسرا بہترین گاون پہنا ہوا تھا۔

Read more

وہ بس ڈرائیور جو خدا بننا چاہتا تھا(عبرانی کہانی کا ترجمہ)

اس وقت سب سے بہترین بات یہ ہو گی کہ مطالعہ یہاں روک دیا جائے، کیونکہ ایڈی تو ڈولفینارئم وقت پر پہنچ گیا لیکن خوشی نہیں آئی، کیونکہ اس کا پہلے سے ہی ایک بوائے فرینڈ تھا۔ مگر وہ اتنی اچھی تھی کہ ایڈی کو یہ بات کہنے کی ہمت نہیں کر پائی، اور اس کے بجائے اس سے نہ ملنے کو بہتر سمجھا۔ ایڈی تقریباً دو گھنٹے تک خوشی کا اسی بینچ پر انتظار کرتا رہا جس پر دونوں نے ملنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Read more

شرلے جیکسن کا افسانہ: لاٹری

گرمیوں کی حدت کے ساتھ، ستائیس جون کی صبح بہت صاف اور روشن تھی۔ گہری سبز گھاس کے ساتھ پھول کثرت سے کھلے ہوئے تھے۔ گاؤں کے لوگ پوسٹ آفس اور بینک کے درمیان کے میدان میں دس بجے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ کچھ قصبوں میں اتنے افراد تھے کہ لاٹری ختم ہونے میں دو دن لگتے تھے۔ اس لئے چھبیس جون کو شروع کرنی پڑتی تھی۔ لیکن اس گاؤں کی آبادی تقریباً تین سو تھی اور پوری لاٹری مکمل ہونے میں دو گھنٹے لگتے تھے۔ یہ صبح دس بجے شروع کی جا تی تھی، پھر بھی اتنا وقت ہوتا تھا کہ گاؤں والے دوپہر کے کھانے کے وقت اپنے گھروں کو جا سکتے تھے۔

بچے میدان میں سب سے پہلے جمع ہوئے کیونکہ اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں حال ہی میں ہوئیں تھیں اور بیشتر بچے ابھی چھٹیوں کی عیاشی کے عادی نہیں ہوئے تھے۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے ہی کھیلتے رہے پھر غل غپاڑہ مچانے لگے۔ وہ اب بھی بھی کلاس روم، کتابوں، ٹیچرز، اور ان کی ڈانٹ ڈپٹ کی باتیں کر رہے تھے۔ بچوں میں بوبی مارٹن نے سب سے پہلے اپنی جیبیں پتھروں سے بھریں تو باقی لڑکوں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی فورا چکنے اور گول گول پتھر چننے شروع کر دیے۔

Read more

آرتھر سی کلارک کا افسانہ: خدا کے نو ارب نام

برٹش سائنس فکش ادیب آرتھر سی کلارک کی مندرجہ بالا کہانی پہلی بار سن 1953 میں شائع ہوئی اور اسے بہت پذیرائی ملی۔ اس کہانی کا ترجمہ بنگالی میں سستیہ جیت رے نے کیا۔ Dominique Filho نے دو ہزار اٹھارہ میں اس کہانی پر فلم بھی بنائی تھی۔ میں نے اس کہانی میں تکنیکی اصطلاحات برقرار رکھی ہیں تاکہ کسی قسم کی الجھن نہ محسوس ہو۔ ٭٭٭٭             ٭٭٭٭ ”یہ تھوڑی غیرمعمولی درخواست ہے“ ڈاکٹر واگنر

Read more

سٹینلے والپرٹ کی کتاب "جناح آف پاکستان” پر پابندی کیوں لگی؟

جنرل ضیاء الحق، آمر صدر کے دورحکومت میں محمد علی جناح کی اب تک کی سب سے مستند سمجھی جانے والی سوانح عمری 1984 میں جناح اوف پاکستان کے نام سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، امریکہ سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے مصنف معروف امریکی اسکالر پروفیسر اسٹینلے والپرٹ تھے۔ پروفیسروالپرٹ ہندوستان کی تاریخ پر دسترس رکھنے والے ماہرین میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ پروفیسر والپرٹ نے جناح کے علاوہ گاندھی، جواہر لعل نہرو اور ذولفقار علی بھٹو کی سوانح حیات

Read more

چپ کر جا بڑھیا

نوّے کی دہائی کے اوائل کا ذکر ہے۔ کراچی کے ایک چھوٹے سے سرکاری اسکول میں میرا آٹھویں جماعت کا پرچہ تھا۔ کلاس میں دو ٹیچرز نگرانی پرمامورتھیں۔ ایک تقریبا تیس کی اور دوسری پچاس کے قریب تھیں۔ ابھی پرچے تقسیم ہوئے دیر نہیں گزری تھی کہ پورے اسکول میں لڑکوں کا بڑاساغول داخل ہوا اور کلاسز میں دو دو اور تین تین کی تکڑیوں میں پھیل گیا۔ اُن کے ہاتھوں میں کتابیں، شرحیں اور نوٹس کی کاپیاں تھیں جووہ نقل کرنے کے لئے لڑکیوں میں تقسیم کر رہے تھے۔

جب وہ ہماری کلاس میں داخل ہوئے توسینئیر ٹیچران پر چلائیں، ”نکل جاویہاں سے میں تمھیں اس کلاس میں نقل نہیں کرانے دوں گی۔ “ اُن میں سے ایک لڑکے نے کہا، ”چپ کر جا بڑھیا ورنہ گولی مار دوں گا۔ “ یہ سُن کرٹیچر بھی آپے سے باہر ہوگئیں، ”چلاؤ گولی میں کھڑی ہوں یہاں، چلاؤ گولی۔ “ ان کا غصے سے بلڈ پریشر بڑھ گیا اور سانس پھول گئی۔ اسی چیخ پکار میں دوچار ٹیچرز پاس کے کمروں سے بھاگی بھاگی آئیں۔ انھوں نے اُس لڑکے کے آگے ہاتھ جوڑے اور معاملہ رفع دفع کرایا۔ سینئیر ٹیچر کو اسٹاف روم میں لے گئیں۔ فضا میں دہشت پھیل گئی تھی۔

Read more

چین نے سری لنکا کی بندرگاہ کیسے ہتھیائی؟

پچھلے سال دسمبر میں سری لنکا نے چین کو ہمبنٹوٹہ پورٹ اور اس سے ملحق پندہ ہزار ایکڑ اراضی ننانوے سال کے لئے لیز پردے دیا تھا۔ انڈیا نے اس پورٹ پر چین کے کنٹرول کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ چین اس بند گاہ کو انڈیا پر دباؤ بڑھانے کے لئے ملٹری بیس کے طور پر استعمال کرے گا۔ جو کہ بالکل ممکن ہے۔ ایسا کیسے ہوا؟ مہیندا راجہ پکاسا 2005 سے 2015 تک سری لنکا

Read more

سیدانی اور سیاست

جب میں بچی تھی توہمارے محلے میں ایک آنٹی روزینہ رہا کرتی تھیں۔ تھیں تو وہ صرف مڈل پاس گھرگرہستن لیکن جاہ و جلال کسی حاضرسروس تھانیدارنی سے کم نہ تھا اور نئی پرانی، چھوٹی بڑی، موٹی پتلی، زنانہ مردانہ گالیوں کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھیں۔ ”سگھڑ“ اتنی کہ مارکیٹ سے آ کر گھرکے سامنے رکشہ روک کے کھڑِی ہو جاتیں لیکن پچاس روپے کے لئے سو کا نوٹ کُھلا نہ کراتیں۔ عُمر اُن کی کبھی پینتیس سال سے آگے

Read more