گرمیوں کی حدت کے ساتھ، ستائیس جون کی صبح بہت صاف اور روشن تھی۔ گہری سبز گھاس کے ساتھ پھول کثرت سے کھلے ہوئے تھے۔ گاؤں کے لوگ پوسٹ آفس اور بینک کے درمیان کے میدان میں دس بجے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ کچھ قصبوں میں اتنے افراد تھے کہ لاٹری ختم ہونے میں دو دن لگتے تھے۔ اس لئے چھبیس جون کو شروع کرنی پڑتی تھی۔ لیکن اس گاؤں کی آبادی تقریباً تین سو تھی اور پوری لاٹری مکمل ہونے میں دو گھنٹے لگتے تھے۔ یہ صبح دس بجے شروع کی جا تی تھی، پھر بھی اتنا وقت ہوتا تھا کہ گاؤں والے دوپہر کے کھانے کے وقت اپنے گھروں کو جا سکتے تھے۔
بچے میدان میں سب سے پہلے جمع ہوئے کیونکہ اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں حال ہی میں ہوئیں تھیں اور بیشتر بچے ابھی چھٹیوں کی عیاشی کے عادی نہیں ہوئے تھے۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے ہی کھیلتے رہے پھر غل غپاڑہ مچانے لگے۔ وہ اب بھی بھی کلاس روم، کتابوں، ٹیچرز، اور ان کی ڈانٹ ڈپٹ کی باتیں کر رہے تھے۔ بچوں میں بوبی مارٹن نے سب سے پہلے اپنی جیبیں پتھروں سے بھریں تو باقی لڑکوں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی فورا چکنے اور گول گول پتھر چننے شروع کر دیے۔
Read more