اگر مجوزہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو؟


پاکستانی سیاست میں ایک عمومی روایت یہ رہی ہے کہ انتحابات ہونے کے بعد ہارنے والی جماعتیں اور سیاست دان اکثر دھاندلی اور مقتدر قوتوں کی ساز باز کو اپنی ناکامی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں احتجاجی مظاہروں اور الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں اپیلیں دائر کرنے سے کچھ عرصے تک میدان گرم رکھ کر بھڑاس نکالنے میں لگے رہتے ہیں۔ جب اس سے کچھ نتیجہ نہ ملے تو پھر کچھ عرصے بعد اقتدار سے محروم رہ جانی والی یہ جماعتیں ملک کی معاشی بدحالی، سیاسی بد انتظامی اور حکومتی نا اہلی کے نعرے لگا کر مطالبہ شروع کر دیتی ہیں کہ ملکی حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں جس کا واحد حل صرف اور صرف فوری نئے انتحابات ہیں۔ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے لانگ مارچ اور دھرنوں وغیرہ کا اہتمام کرتی ہیں۔ اس دنگل میں بعض لکھاری اور صحافی بھی اپنی اپنی وجوہات کے تحت کود کر اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اپنے قلم اور زبان کے زور سے حصہ ڈالنے لگتے ہیں۔

اس کا ایک بڑا مشاہدہ 2013 کے انتحابات کے بعد ہوا، جب ان میں نون لیگ نے برتری حاصل کر لی تو عمران خان نے نتائج تسلیم کرنے کے بجائے دھاندلی کا الزام لگا کر شور شرابا کھڑا کر لیا۔ جس کا نقطہ عروج ( 2014 ) نواز شریف حکومت کے خلاف اس کا طویل احتجاجی دھرنا تھا۔ اس کے نتیجے میں نواز شریف سے استعفی لینے میں تو کامیابی نہ ملی۔ مگر ملکی سیاست کو بے یقینی سے دو چار کیے رکھا۔

پھر کچھ عرصے بعد پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد عمران خان نے نواز شریف کے خلاف کیس میں سپریم کورٹ کو متحرک کرنے کے لیے اسلام آباد کو کئی روز تک بند کیے رکھا۔ اس کے مطالبے اور دباؤ پر سپریم کورٹ متحرک ہو گئی۔ اس کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کی گنجائش نکل آئی (یا نکال لی گئی) اور یوں اس کو وزرات عظمی کے منصب سے ہٹا دیا گیا بقیہ عرصے تک اگرچہ نون لیگ کی حکومت تو قائم رہی مگر تناؤ کا شکار رہی۔

اسی طرح 2018 کے انتحابات کے نتیجے میں جب پی ٹی آئی کو اکثریت مل گئی تو پاکستانی سیاست کی روایت کے عین مطابق اپوزیشن نے اس کی کامیابی کو مختلف جہت دھاندلی کا نتیجہ قرار دیا اور عمران خان کو سلیکٹیڈ وزیر اعظم کے خطاب سے نوازا۔ اس کی حکومت بننے کے چند مہینے بعد اس کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے منصوبے اور کاوشیں کی جانے لگیں۔ جب مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد والا دھرنا اپنی تمام گھن گرج اور دعووں کے باوجود بے نتیجہ رہا۔ تو اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم کے نام سے اتحاد تشکیل دے کر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی ٹھان لی۔ بڑے بڑے شہروں میں جلسے کرائے گئے۔ اوائل میں بڑی انقلابی قسم کی تقریریں کی گئیں۔ ٹی وی چینلز پر تجزیہ کار سرگرم ہو گئے جن میں اکثر یہ دعوے اور پیش گوئیاں کرنے لگے کہ ایمپائر (اسٹیبلشمنٹ) نے ہاتھ اٹھا لیا ہے اس لیے حکومت کا جانا چند دنوں کی بات ہے۔ جلسوں سے کچھ ہفتوں کے لیے گرما گرمی کی فضا بنی رہی مگر حسب توقع پذیرائی نہ ملی تو اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے ضمن میں لانگ مارچ کرنے، دھرنے دینے اور مناسب وقت پر اسمبلیوں سے استعفی دینے جیسے اقدامات کرنے کے پروگرام کا اعلان تو کر دیا۔ مگر اس پر عملدرآمد کرنے سے پہلے پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑ گئی اور یوں اپوزیشن کے گرما گرم اعلانات اور دعوے ٹھنڈے پڑ گئے۔

عوامی سطح پر موثر احتجاجی تحریک نہ کرا سکنے کی طرح اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر بھی بوجوہ یکسوئی اور خلوص کا مظاہرہ نہ کر سکیں ہیں۔ حکومت کو دھچکا دینے کے بجائے خود اپوزیشن کو کئی بار سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ اور یوں اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی رہی ہیں۔

اب کچھ عرصے سے اپوزیشن رہنما پھر سے متحد اور متحرک نظر آنے لگے ہیں۔ اس کی دو بڑی جماعتیں (ن لیگ اور پیپلز پارٹی) حکومت کے خلاف الگ الگ لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہیں۔ اکثر سیاسی تجزیہ کار اگرچہ ان مجوزہ لانگ مارچز کی کامیابی اور نتیجہ خیز ہونے کا امکان کم دیکھ رہے ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر اتفاق کے اعلان نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں قدرے ہلچل چل مچا دی ہے۔ مجوزہ لانگ مارچوں کی بجائے اس ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

اس بحث سے قطع نظر کہ اپوزیشن جماعتیں عدم اعتماد تحریک لانے اور اس کو کامیاب کرا سکیں گی کہ نہیں اور ناکامی کی صورت میں ان کی سیاسی ساکھ پر کیا اثرات پڑیں گے۔ بالفرض اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لا کر کامیاب کروا لیتی ہے تو اس کے بعد کی صورت حال کیا ہو سکتی ہے۔

آئین کے مطابق ایسی صورت میں اپوزیشن جماعت کو اعتماد کا ووٹ لے کر متبادل حکومت بنانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اگر اپوزیشن امیدوار بھی مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکا تو اسمبلیاں توڑ کر نئے انتحابات کرانے پڑتے ہیں۔

اگر عمران حکومت کے خلاف اپوزیشن کی ممکنہ عدم اعتماد تحریک کامیاب ہو جاتی ہے۔ تو اس کی جگہ بقیہ عرصے کے لیے اپوزیشن کی جو حکومت بنے گی وہ مختلف اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل ہوگی۔ اتنے کم عرصے کی حکومت اور وہ بھی مخلوط سے ملکی معیشت کی فوری بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔ اس لیے زیادہ امکان اس کا ہے کہ عدم اعتماد کے بعد نیا سیٹ آپ وقت سے پہلے اسمبلیوں کو توڑ کر عوام سے مینڈیٹ لینے کے لیے نئے انتحابات کرانے کو ترجیح دے گا۔

اگر کوئی خاص حالات یا واقعات پیش نہ ہوئے تو آئین کے مطابق مقررہ مدت میں نئے انتحابات کا انعقاد بھی ہو جائے گا مگر اس کے بعد کیا صورت حال ہو گی اس ضمن میں ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا ہارنے والے فریق یا جماعتیں ان کے نتائج کو بخوشی تسلیم کریں گی یا روایت کے مطابق ان کے خلاف احتجاج پر اتر آئیں گی؟

اس کے علاوہ یہ کہ

1) کیا ان کے نتیجے میں کوئی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل کر کے مستحکم حکومت بنا سکے گی؟ یا مخلوط حکومت بنائی جائے گی؟

2) کیا مخلوط حکومت مشتمل جماعتوں کے اپنے مختلف منشور، حکمت عملی اور سیاسی مفادات رکھنے کے باعث دیرپا ثابت ہو سکے گی؟

3) ۔ کیا اپوزیشن کی کسی جماعت کے پاس موجودہ حالات میں درپیش مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس قابل عمل تسلی بخش پروگرام ہے جو ملک کے معاشی اور انتظامی حالات کی درستگی کا ضامن ہو؟

4) ۔ کیا ایسے کسی جامع پروگرام کے بغیر اس کا حکومت میں آنے سے بہتری کی توقع ہو سکتی ہے؟
5) ۔ کیا ایسی حکومت مختلف جہت مشکلات کا شکار نہیں ہو گی؟
6) ۔ کیا اس کی مقابل اپوزیشن روایت کے برعکس مخالفت ترک کر کے اس کو آرام سے حکومت کرنے دے گی؟
اگر متذکرہ سوالوں کا جواب ”ہاں“ میں نہیں ہو تو کیا ملکی حالات میں کسی خاص بہتری تبدیلی آئے گی؟

یہ تو ہو سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کی تبدیلی اور اگلے انتحابات میں موجودہ اپوزیشن جماعتوں کا اقتدار میں آنے کی صورت میں کچھ حلقوں کو سیاسی فائدے ملیں جبکہ اپوزیشن کے بعض زیر عتاب رہنماؤں کو خصوصی طور یہ سہولت میسر آ جائے کہ اپنے خلاف قائم مختلف مقدمات سے گلو خلاصی یا دباؤ کم کرنے کا بندوبست کر اس کے۔ تاہم اگر اگلی حکومتی جماعت یا اتحاد کے پاس مستحکم اکثریت اور ملکی مسائل کے حل کے لیے ٹھوس، جامع اور قابل عمل پروگرام کا فقدان ہوں اور مقابلے میں عناد پر تلی روایتی اپوزیشن ہو تو اس صورت میں انتحابات کے بعد بھی ملک میں سیاسی استحکام اور یوں عمومی بہتری کی زیادہ توقع شاید نہ کی جا سکے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اگر مجوزہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو؟

  • 16/02/2022 at 7:40 صبح
    Permalink

    بہت اچھا تجزیہ کیا ھے. جہاں تک عدم اعتماد کی تحریک لانے اور کامیاب ہونے کے سوال کا تعلق ہے وہ تو یقینی طور پر ک کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن مہری رائے میں اگر عدم اعتماد کامیاب ہو جاتا ھے اور کسی بھی صورت میں کوئی اور سیٹ اپ بن جاتا ھے تو وہ کم از کم ایک پہلو میں موجود حکومت اے بہتر ھو گی کہ پاکستان کی دنیا میں تنہائی کم ہو جائے گی جو کہ موجودہ سیٹ اپ میں روز بروز مزید ائسولیشن کی طرف جا رہا ھے

Comments are closed.