نادرا کا دو قومی نظریہ اور بگڑتے ہوئے حالات
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ ایک انتہائی اہم ادارہ ہے۔ ملک کے انتخابی سسٹم (الیکشن) ٹیلی کمیونیکشن کمپنیوں، احساس پروگرام، کامیاب نوجوان پروگرام اور بینکنگ سسٹم سے لے کر ملکی سیکورٹی سمیت بہت سے اہم ترین امور میں اس ادارے (نادرا) کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ناممکن سی بات ہے۔ لیکن اس اہم ترین ادارے میں کارکردگی اور ڈیٹا بیس کے حوالے سے ماضی میں جو تھوڑی بہت اچھی شہرت بنی تھی موجودہ حالات کے بعد اس ادارے کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ پورا ادارہ ہی مشکوک ہو گیا ہے۔ ہمارا اس وقت یہ موضوع نہیں ہے کہ نادرا میں اس وقت کتنے ملازمین جعلی دستاویزات پر بھرتی ہوئے ہیں کتنے ملازمین یا نوکری چھوڑ کر جانے والے ملازمین نادار کے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل کر کے مختلف قسم کے فراڈ گروہوں کے ساتھ ملوث ہیں۔
یا ان گروہوں کی معاونت میں ملوث ہیں۔ یا نادار نے اب تک کتنے لاکھوں افغان باشندوں کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کر دیے ہیں۔
بلکہ اس وقت ہمارا موضوع ہے کہ حالیہ چند سالوں میں پاکستانی شہریوں کو قومی شناختی کارڈ ب فارم یا دیگر دستاویزات کی فراہمی کے نام پر فیسوں میں کئی سو گنا اضافہ کرنے کے باوجود کیا نادرا کی کارکردگی یا سروس کے معیار میں بہتری آئی ہے یا اس میں کمی واقع ہوئی ہے؟ کیا قومی شناختی کارڈ کے حصول کے سلسلے میں پاکستانی شہریوں یا دوسرے الفاظ میں کہا جائے کہ نادرا کے صارفین کو دی جانے والی سہولتوں کی ماضی کے مقابلے میں کیا صورتحال ہے
قائد اعظم نے پاکستان کی تحریک، دو قومی نظریے کے تحت ہی چلائی تھی اور اسی نظریے کے تحت آزادی کی تحریک کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کو پاکستان معروض وجود میں آیا۔ لیکن افسوس یہ دو قومی نظریہ آج بھی ہر جگہ ہر ادارے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ کہیں تو یہ عام آدمی اور اشرافیہ کی شکل میں موجود ہے۔ اور کہیں غریب اور امیر کی شکل میں یہ تھیوری اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اپنا سکہ جمائے ہوئے ہے۔ جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ عام اور غریب آدمی کے لئے تمام قوانین ضابطے اور اصول اور ایس او پیز موجود ہیں لیکن اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے ان تمام درج شدہ چیزوں کو اپنے جوتے کی نوک پر لیتا ہے۔
اور ”عام شہری“ اور ”ایگزیکٹو شہری“ کا اصول اس وقت ملک پاکستان کے ادارے نادار کے پبلک ڈیل ایس او پیز کا بنیادی ترین اصول ہے۔ یعنی اگر آپ نارمل شناختی کارڈ بنوانا چاہتے ہیں تو آپ نارمل فیس ادا کریں گے اور اگر آپ کو ارجنٹ شناختی کارڈ درکار ہے تو آپ کو ارجنٹ فیس ادا کرنا ہوگی۔ لیکن اگر آپ ایگزیکٹو سروسز حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایگزیکٹو سروسز کی فیس ادا کر کے ایگزیکٹو سروسز دستیاب ہوں گی۔ باقی پوری قوم جائے بھاڑ میں!
ان دنوں بچوں کے سکولوں میں داخلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ سکول تو بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر داخلہ کر دیتے ہیں لیکن کچھ سکولوں نے نادرا کی طرف سے جاری کردہ (ب) فارم کو لازمی قرار دے رکھا ہے۔
ب فارم بنوانے کے سلسلے میں جب مجھے بھی نادرا آفس جانے تھا تو۔ مجھے کسی نے بتایا کہ نادرا آفس جو کہ ایجرٹن روڈ پر واقع ہے وہاں سے بچوں کے ب فارم بنوا لیں۔ وہاں 24 گھنٹے دفتر کام کرتا ہے۔ میں نے جب نادرا کی ویب سائٹ پر جاکر کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی کہ بچوں کے ب فارم بنوانے کے لئے کن کن کاغذات کی ضرورت ہے۔ اور اس کا کیا طریقہ کار ہے۔ لیکن ویب سائیٹ وزٹ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اتنے اہم ترین ادارے کی ویب سائیٹ کے متعدد پیجز ہی کام نہیں کر رہے ہیں اور جو معلومات اور سنٹرز کی تفصیلات موجود ہیں وہ کئی کئی سال پرانی ہیں ہاں البتہ جو چیز اپ ڈیٹ کی گئی تھی وہ تھی نادرا کی مختلف سروسز حاصل کرنے کے عوض جو فیسوں کا شیڈول تھا اس کی تازہ ترین لسٹ موجود تھی کہ ”عام شہری“ کے لئے کیا فیس ہے اور ”ایگزیکٹو شہری“ کے لئے کس سروس کی کیا فیس ہے۔
پھر میں نے نادرا ایجرٹن روڈ آفس کی گوگل پر موجود معلومات کا جائزہ لیا تو اس وقت کم بیش 1166 گوگل اکاؤنٹس ہولڈر کے ریویوز گوگل پر نادار میگا سنٹر کے بارے میں درج تھے۔ ان کمنٹس کو پڑھنا شروع کیا تو حالات کچھ اور ہی دکھائی دے رہے تھے۔ گوگل صارفین میں سے تقریباً 95 فیصد افراد کے تاثرات منفی میں تھے جبکہ چار سے پانچ فیصد نے یا تو مثبت یا ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔
کچھ گوگل صارفین کا کہنا تھا کہ نادرا کے اس آفس میں آنے سے پہلے اپنے اس دن کے تمام کے تمام امور نمٹا کر آئیں ورنہ اپنے نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ کسی کا کہنا تھا کہ اس سنٹر پر 4 سے 5 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ ایک صارف کا کہنا ہے کہ نادرا کے میگا سنٹر میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں لیکن اندر پانی کی بوتل تک اندر لے جانے کی اجازت نہیں۔ اور نہ ہی میگا سنٹر کے اندر پینے کے پانی کی سہولت دستیاب ہے۔ یہ تمام تاثرات میں نے نادرا میگا سنٹر ایجرٹن روڈ لاہور کے گوگل پر موجود ویب پیج سے ہی پڑھے ہیں اور یہ تاثرات اس وقت بھی موجود ہیں جنہیں کسی بھی وقت ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
بہر حال جو بھی تھا۔ اب بچوں کی رجسٹریشن اور ب فارم کے حصول کے لئے یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑنا ہی تھا۔ تو جنوری 2022 کی ایک سرد صبح ناشتہ کیا مطلوبہ کاغذات اور قومی شناختی کارڈ ساتھ لیا اور چل دیے دن ساڑھے 10 بجے کے قریب جب دفتر کے اندر پہنچے تو نادرا کے صارفین مطلب شہریوں کا رش ہی رش تھا نہ صرف ہال کے اندر بلکہ باہر بھی لوگوں کا ایک ہجوم تھا۔ ہمت کر کے اندر گیا تو 2045 ٹوکن نمبر ملا جبکہ اس وقت 1500 کے قریب سیریل چل رہی تھی۔
کوئی 38 سے زائد کاؤنٹرز تھے جن میں سے کم بیش 4 سے پانچ کاؤنٹرز ہر عملہ ہی موجود ہی نہ تھا دیگر باقی ماندہ تقریباً 30 کاؤنٹرز میں سے 2 کاؤنٹرز انچارج کے کاؤنٹرز تھے جن پر لوگوں کا رش اس قدر تھا کہ شاید کرونا وائرس بھی اس رش سے ڈر کر کا ؤنٹر کی جانب شاید رخ کرنے سے گریز کرے۔ جب بغور جائزہ لیا تو 3 کاؤنٹرز ایسے تھے جن پر سٹاف بھی موجود تھا لیکن ان پر ٹوکن نمبرز آویزاں نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن ان کاؤنٹرز سے مخصوص لوگ سروسز حاصل کرنے کے بعد اپنی اپنی منزل کو لوٹ رہے تھے۔ پھر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ یہ وہ کاؤنٹرز ہیں جو کسی نہ کسی ریفرنس یا کسی تگڑی سفارش کے ساتھ اس نادرا سنٹر کو رونق بخشتے ہیں۔
کم بیش ایک گھنٹہ اور 45 منٹ انتظار کے بعد انکشاف ہوا کہ اب تک تو محض 140 کے قریب ٹوکن نمبرز کو سروس مل سکی ہے۔ جب معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو بتایا گیا کہ کم و بیش دو سے تین گھنٹے مزید انتظار کے بعد آپ کی باری آ سکتی ہے اور اس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔
اب مجھے یہ گمان یا غلط فہمی تھی کہ یہ سنٹر تو 24 گھنٹے سروس فراہم کرتا ہے تو کیوں نہ رات کے کسی پہر دوبارہ قسمت آزمائی جائے۔ لہذا فیصلہ کیا کہ اگلے تاریخ کو رات 3 یا 4 بجے دوبارہ کوشش کی جائے تو شاید بات بن جائے گی۔ لہذا میں نے وہ ٹوکن ڈسٹ بن میں پھینکا اور۔ اگلے دن آنے کا ارادہ کر کے نادرا کے دفتر سے نکل گیا۔
رات کو 4 بجے کا الارم لگایا اور سو گیا۔ اور کاغذات ایک فائل کور میں ڈال کر اپنے پاس ہی رکھ لئے کہ صبح اٹھتے ہی فوری طور پر نادرا آفس روانہ ہو جاؤں گا۔ صبح اٹھا تو باہر نکلا تو باہر سرد موسم کی شدت کو دیکھ کر ہمت نہ پڑی اور ارادہ کیا کہ فجر کی نماز کے بعد ہی جاتے ہیں اس وقت تک سردی کی شدت میں کچھ نہ کچھ کمی بھی واقع ہو جائے گی۔ قصہ مختصر نماز ادا کی عجلت میں ناشتہ کیا اور ادھورے ناشتے کے ساتھ جب نادرا کے آفس پہنچا تو دفتر کے باہر کے حالات میرے ہوش گم کرنے کے لئے کافی تھے۔ دفتر کے باہر سڑک پر کوئی 125 کے قریب خواتین و حضرات موجود تھے۔ بتایا گیا کہ صبح آٹھ بجے کاؤنٹرز اپنا کام شروع کریں گے اور ٹوکن جاری کرنے کام صبح 7 بجے شروع ہو گا۔
اب میری یہ غلط فہمی اور گمان کہ یہ دفتر 24 گھنٹے اپنے صارفین کو سروس دیتا ہے۔ ایک لمحے میں دور ہو گیا۔ اللہ اللہ کر کے دفتر کے اندر پہنچے اور ٹوکن لے کر باری کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ ایک گھنٹے کے بعد جب کاؤنٹرز نے کام شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ہال کے داخلی دروازے کے دائیں جانب والے تمام کے تمام کاؤنٹرز پر عملہ موجود نہ تھا۔ بلکہ صرف بائیں جانب والے کاؤنٹرز پر ہی عملہ کام کر رہا تھا۔ ان کاؤنٹرز میں سے بھی 3 کاؤنٹرز بند پڑے تھے۔
جبکہ دو کاؤنٹرز اسی طرح سے بغیر نمبرنگ کے وی آئی پی سروسز میں مصروف تھے ایک کا ؤنٹر جو کہ انچارج کا کا ؤنٹر تھا اس پر تو لوگوں کا رس طرح سے تھا کہ جیسے یہ کا ؤنٹر کرونا ایس اور پیز کے خلاف سٹے آرڈر حاصل کرنے کے بعد اپنا کام کر رہا ہے۔ تقریباً سوا گھنٹے کے انتظار کے بعد جب اپنی باری اور ٹوکن نمبر آنے کے بعد جب کا ؤنٹر پر پہنچے تو بتایا گیا کہ جناب محترم آپ نے بچوں کے ب فارم کے حصول کے لئے اپنی زوجہ محترمہ کو بھی ساتھ لے کر آنا تھا۔ اب یہ فارم لے جائیں اور اپنی بیوی کو ان کے قومی شناختی کارڈ کے ساتھ لے کر آئیں،
خیر دو روز کے بعد زوجہ محترمہ کو ساتھ تیار کیا اور تیسری بار۔ نادرا آفس کا رخ کیا۔ ٹوکن حاصل کرنے کے بعد دوبارہ سے انکشاف ہوا کہ تین سے چار گھنٹے کے بعد باری کا چانس ہے۔ بہرحال ایک سے زائد گھنٹے کے انتظار کے بعد جب ٹوکن نمبرز کا جائزہ لیا تو اندازہ لگایا کہ اس طرح سے ہو سکتا ہے شام کو ہی واپسی ہو سکے۔ ساتھ میں آٹھ ماہ کا چھوٹا بچہ بھی تھا۔ اب شاید خود تو اپنے آپ پر جبر کرلیتے لیکن معصوم بچے کی چیخوں اور مسلسل کے باعث ہمیں خالی واپس گھر جانا پڑا۔
اس کے بعد سے اب تک اب بچے کو جو اتنی سردی میں باہر لے کر نکلے تھے اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اور ڈاکٹروں کی فیسیں بھر رہے ہیں۔ اب بچے کی طبعیت کچھ ٹھیک ہوگی تو پھر سوچیں گے کہ کیسے جلد از جلد بچوں کے ب فارم کے حصول کے اس مشن کو مکمل کرنا ہے۔ اب دو ہی راستے ہیں یا تو ایگزیکٹو سنٹر جاکر ایگزیکٹو انداز میں عوام سے ہٹ کر خصوصی وی آئی پی انداز کا راستہ اپنایا جائے۔ یا پھر کوئی سفارش ڈھونڈ کر شارٹ کٹ اپنایا جائے تاکہ کسی قسم کی مشکل اور تاخیر کے بغیر نادار میں اپنا کام کروایا جا سکے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ جس طرح دو قومی نظریے پر پورا اترنے والے عام شہری کی طرح مز ید ذلیل ہو کر اپنے بچوں کو ب فارم کی شکل میں قومی شناخت دلوائی جائے۔


