جمہوریت کی شفافیت کے مسائل
دنیا بھر میں جمہوریت کے تناظر میں مختلف نوعیت کے چیلنجز علمی و فکری حلقوں میں اس وقت موضوع بحث ہیں۔ جمہوریت کے حق و مخالفت میں مختلف ماہرین فکری دلائل دے کر اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ اگرچہ جمہوریت کوئی حتمی نظام نہیں لیکن جو بھی دنیا کی سیاست مروجہ سیاسی نظام ہیں ان میں جمہوریت کو ہی دیگر نظاموں پر فوقیت حاصل ہے۔ لیکن یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ جمہوریت کے نظام کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان میں سے بیشتر نکات ایسے ہیں جن کا براہ راست تعلق داخلی مسائل سے ہے۔
کیونکہ جس انداز سے جمہوری نظام کو جمہوریت سے جڑے افراد یا ادارے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ عملی طور پر جمہوریت کے حق میں مقدمہ کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جمہوریت کا براہ راست تعلق عام لوگوں یا معاشرے کے کمزور طبقات کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا جمہوری نظام ایک مخصوص طبقہ کے مفادات جو پہلے سے ہی مراعات یافتہ طبقہ ہے کو تحفظ دینے کا سبب بن رہا ہے۔
دنیا میں علمی اور فکری محاذ پر سرگرم سیاسی، سماجی، معاشی، قانونی دانشوروں کی ایک بڑی تعداد کے بقول اگر موجودہ عالمی جمہوری نظام نے خود کو نہ بدلا اور بڑی غیر معمولی اصلاحات نہ کیں تو لوگوں کو جمہوریت پر اعتقاد اور زیادہ کمزوری کا سبب بنے گا۔ اس وقت اگر ہم دنیا سمیت پاکستان کی سیاست کو دیکھیں تو اس میں غربت، معاشی بدحالی، عدم انصاف، سماجی و سیاسی حقوق، بنیادی حقوق کی عدم فراہمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ان مسائل کی ایک بڑی وجہ حکمرانی کے بحران کا ہے۔ حالانکہ جمہوریت کی بنیاد ہی عام آدمی کی شراکت، فیصلہ سازی میں ان کی موثر شمولیت، کمزور طبقات پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور ان کے مفادات کے تحفظ سے جڑی ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم دیانت داری سے جمہوری نظام کا جائزہ لیں تو اس میں سب سے زیادہ استحصال کا سامنا بھی ان ہی کمزور طبقات کو ہے۔
حالیہ دنوں میں اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ ) آئی آئی یو (کی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ 2021 میں عالمی وبا اور آمریت کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باعث دنیا بھر میں ایک بار پھر جمہوری معیار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ای آئی یو کے مطابق سالانہ جمہوریت انڈیکس کے مطابق 2010 کے بعد سب سے بڑی جمہوری حمایت میں کمی جمہوریت کے حامیوں کے لیے فکر مندی کا پہلو ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک طرف جمہوریت کے حامی دانشور مختلف نقاط کی بنیاد پر جمہوریت کی شفافیت پر مختلف سوالات اٹھا رہے ہیں تو دوسری طرف عملی طور پر جمہوری نظام سے جڑے سیاست دان، سیاسی جماعتیں اور حکمران طبقات میں وہ فکر مندی نہیں جو ہونی چاہیے۔
پاکستان جیسے ممالک میں یہ تجزیہ کہیں اہل سیاست میں نظر نہیں آ رہا کہ جو داخلی جمہوری مسائل ہیں ان کا حل کیسے کیا جائے۔ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جمہوری قوتوں کو وہ ادراک، فہم اور تدبر کی کمی نظر آ رہی ہے۔ کیونکہ جب اہل سیاست میں جمہوری سیاست سے جڑی حالات کی سنگینی کا احساس ہی نہ ہو تو پھر مسائل کا حل پیچھے چلا جاتا ہے۔
سیاسی جماعتیں پاکستان میں جمہوریت کے حق میں جو جنگ لڑتی ہیں اس کا بیشتر حصہ خارجی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ ان میں اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت، انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے سیاسی مداخلت، طاقت ور طبقات کا دباؤ جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ہی اہل جمہوریت داخلی مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ان کی اپنی سوچ، فکر اور پالیسیوں سے جڑی ہوتی ہیں۔ ان میں سیاسی جماعتوں میں موجود بادشاہت، آمرانہ طرزعمل، سیاسی جماعتوں کا داخلی جمہوری نظام، کرپشن اور بدعنوانی پر سمجھوتے، سیاست کو پیسے اور دولت کا کھیل بنانا، کسی بھی سیاسی مخالفین کو اپنی جماعتوں میں برداشت نہ کرنا، فیصلہ سازی میں پارٹی کے لوگوں کو نظرانداز کرنا، چور دروازوں سے اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے باہمی گٹھ جوڑ کا کھیل، سیاسی جماعتوں میں خاندانی اجارہ داری جیسے مسائل پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مداخلت یا دیگر خارجی مسائل اہم ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان خارجی مسائل کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب وہ اپنے اندر موجود ان داخلی مسائل کو حل کریں گے۔ یہ ممکن نہیں کہ سیاسی جماعتیں یا جمہوریت سے جڑے افراد اپنے داخلی مسائل کو درست نہ کریں اور یہ خواہش پیدا کریں کہ خارجی مسائل حل ہوجائیں، ایسا ممکن نہیں ہو گا۔
پاکستان میں جمہوریت سے جڑے افراد اور حکمران طبقات یا سیاسی جماعتوں کو عملی طور پر جوابدہ ہونا ہو گا کہ کیا وجہ ہے یہاں لوگوں کی حالت زار میں وہ تبدیلیاں کیونکر ممکن نہیں ہو سکیں جو ہونی چاہیے تھیں۔ کیونکہ سیاست، جمہوریت، حکمرانی اور عوام کے درمیان جو خلیج پیدا ہو رہی ہے یا بڑھ رہی ہے اس کی ذمہ داری کون لے گا۔ کیا وجہ ہے کہ حکمران طبقات دنیا کی بہتر جمہوری نظاموں سے سبق سیکھ کر اپنی حکمرانی کے نظام میں شفافیت کو پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں اور کیوں پرانی فرسودہ اور روایتی انداز میں جمہوری نظام کو چلانے پر بضد ہیں۔ یہاں سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ سیاسی اور جمہوری قوتوں کا پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف کی پالیسی کا ہے۔ تمام حکمران جماعتوں کا سیاسی ریکارڈ مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے غیر جمہوری اور آمرانہ طرز عمل کی عکاسی کرتا ہے۔
آج ایک بڑی بحث جمہوریت کے تناظر میں کارپوریٹ جمہوریت یعنی منافع کی بنیاد پر چلایا جانے والا جمہوری نظام ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب دنیا کے جمہوری نظاموں پر سیاست دانوں سے زیادہ سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قبضہ ہے۔ اس لیے اب جو بھی جمہوری نظام میں سیاسی فیصلے ہو رہے ہیں اس میں عام آدمی کے مفاد سے زیادہ کاروباری طبقات کے مفادات کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ اس لیے ایک بڑی تنقید جمہوری نظام پر یہ ہو رہی ہے کہ اس نے بھی مجموعی نظام میں ایک طبقاتی حیثیت کو بنیاد بنالیا ہے۔
پاکستان میں بھی اب سیاست ایک کاروبار کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جو جتنا بڑا سرمایہ دار ہو گایا جو جتنا سرمایہ سیاسی جماعتوں پر لگائے گا اس کی سیاسی نظام میں اہمیت بڑھ جاتی ہے اور وہ سیاسی فیصلوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمیں ایک بڑا چیلنج یہ بھی درپیش ہے کہ سیاسی جماعتوں یا حکمران طبقات کا جو باہمی گٹھ جوڑ مافیا، کرپٹ اور بدعنوان طبقات سے جڑا ہوا ہے یا یہ لوگ براہ راست ان ہی جماعتوں میں اہمیت رکھتے ہیں نے مجموعی سیاسی کلچر کو آلودہ کر دیا ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں میں ایسی کوئی عملی اقدامات کی جھلک نہیں دیکھنے کو مل رہی کہ سیاسی قیادت اپنی جماعتوں کو ایسے جرائم پیشہ افراد سے خود کو الگ تھلگ کرنا چاہتی ہیں۔
جمہوریت سے جڑے نظام کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اب محض سیاسی نعروں، دعووں، تقریروں اور خوشنما گفتگو یا جذباتیت پر مبنی بیانیہ کی بنیاد پر لوگوں کے دلوں پر راج نہیں کرسکیں گے۔ لوگ جمہوریت اور جمہوری نظام ثمرات کو براہ راست دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ اقدامات سب کو واضح اور شفاف طور پر نظر بھی آنے چاہیے۔ کیونکہ جمہوری نظام وہیں اپنی سیاسی ساکھ قائم کرسکیں گے جب وہ اپنی گورننس کی مدد سے لوگوں کے دلوں پر راج کرے گی۔
لوگوں کو محسوس ہو گا کہ واقعی جمہوری نظام ان کی زندگیوں میں پہلے سے موجود مشکلات کو کم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے ہمیں اپنے موجودہ جمہوری نظام میں موجود مسائل کا ادراک کر کے اس میں ایسی اصلاحات لائیں جو عام لوگوں کو جمہوریت کے حق میں کھڑا کرے۔ یہ اصلاحات معمولی نوعیت کی نہیں بلکہ غیر معمولی نوعیت کی ہونی چاہیے کیونکہ جب جمہوری نظام کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے تو پھر اس کا علاج بھی غیر معمولی اقدامات کی مدد سے ہی ممکن ہو گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ سیاسی نظام پر مسلط افراد، قیادت یا جماعتیں اپنے مقابلے میں جمہوری نظام کو واقعی مضبوط بنانا چاہتی ہیں، توجہ طلب پہلو ہے۔ کیونکہ جمہوری نظام میں درستگی کے لیے جو ایک بڑے دبا وکی سیاست سول سوسائٹی اور میڈیا سمیت دیگر فریقین کی جانب سے سامنے آنی چاہیے تھی ان آوازوں میں بھی کمزوری نظر آتی ہے۔ سیاسی جماعتوں پر دباؤ کی سیاست میں کمی نے عملی طور پر سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کو بے لگام کر دیا ہے اور وہ اس نظام کو اپنی مرضی، مفاد اور منشا کے مطابق چلانا چاہتے ہیں جو جمہوری نظام کو کمزور کرتا ہے۔ یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ اس ملک میں جو انتہا پسندی، دہشت گردی، محرومی کی سیاست اور لوگوں کی ریاستی نظام پر جو اعتماد کی کمی ہو رہی ہے اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ جمہوری نظام کی وہ خرابیاں ہیں جو لوگ کو جمہوریت کے قریب لانے کی بجائے ان کو دور کر رہی ہیں۔


