انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات: ’مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے‘، او آئی سی


انڈیا میں حجاب تنازع
انڈیا کی ریاست کرناٹک میں مسلمان خواتین پر تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی پابندی کا تنازع بین الاقوامی طور پر نئی دلی کے لیے سفارتی درد سر بنتا جا رہا ہے جسے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کا ایک حصہ کہا جا رہا ہے۔

حال ہی میں امریکہ کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے سفیر کے بیان کے بعد اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے بھی انڈیا میں مسلمان مخالف رویوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ساتھ ہی ساتھ اقوام متحدہ سے بھی اس معاملے پر اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کی ریاست کرناٹک میں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے کئی کالجوں میں حجاب پر طالبات اور انتظامیہ کے درمیان اختلاف جاری ہیں اور یہ معاملہ اب ہائی کورٹ میں ہے۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم میں طالب علموں کے کلاس رومز میں حجاب پہننے یا زعفرانی شال (جسے ہندوتوا کی علامت سمجھا جاتا ہے) لے جانے پر پابندی لگا دی ہے۔

گزشتہ منگل کو انڈیا سے ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں زعفرانی شالیں پہنے طلبا کے ایک گروپ کو ایک برقع پوش طالبہ کو ہراساں کرتے دیکھا گیا جو جواب میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہی تھیں۔ مسکان نامی اس طالبہ کی ویڈیو اور ان کے ردعمل نے اس تنازعے کو بین الاقوامی طور پر ابھارنے میں مزید کردار ادا کیا۔

اسلامی تعاون تنظیم نے بیان میں کیا کہا؟

اسلامی تعاون تنظیم جسے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کہا جاتا ہے نے پیر کو انڈیا کی ریاست کرناٹک میں حجاب کے تنازعے اور گزشہ سال اتراکھنڈ ریاست کے شہر ہری دوار میں ہندو مذہبی رہنماوں کے ‘دھرم سنسد’ (مذہبی تقریب) میں مسلمانوں سے متعکق نفرت پر مبنی تقاریر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بیان او آئی سی کے جنرل سیکٹریٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مسکان خان: ’جب ڈر لگتا ہے تو اللہ کا نام لیتی ہوں، جس سے حوصلہ ملتا ہے‘

ہری دوار: مسلم مخالف تقاریر کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

او آئی سی: وہ واقعات جنھوں نے اس تنظیم کو مزاحمتی کردار سے محروم کر دیا

اس بیان میں انڈیا میں حالیہ کچھ عرصے میں سوشل میڈیا پر مسلم خواتین کو ہراساں کرنے کی مختلف مہم کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کونسل سے اپیل کی گئی ہے کہ ان معاملات پر ضروری اقدامات کیے جائی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘او آئی سی نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ مسلمان کمیونٹی کی حفاظت کو یقینی بنائے، ان کے طرز زندگی کا تحفظ کیا جائے اور مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت پھیلانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔’

https://twitter.com/OIC_OCI/status/1493191463374626821

حجاب تنازع: انڈیا پر بڑھتا سفارتی دباؤ

اسلامی تعاون تنظیم پہلا بین الاقوامی فورم نہیں جس نے انڈیا میں حجاب کے معاملے پر آواز اٹھائی ہے۔

اس سے پہلے امریکی سفیر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی رشد حسین نے بھی کرناٹک میں حجاب کے تنازعے پر 11 فروری کو ٹوئٹر پر سرکاری بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ مذہبی آزادی میں اپنی مرضی کا لباس پہننے کا اختیار بھی شامل ہے۔

رشد حسین نے کہا کہ انڈیا کی ریاست کرناٹک کو یہ کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ کسی کے مذہبی لباس پر فیصلہ کرے۔

’سکول میں حجاب پہننے پر پابندی نا صرف مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بھی ایک قدم ہے۔‘

https://twitter.com/IRF_Ambassador/status/1492153532350402564

واضح رہے کہ پاکستان نے بھی سرکاری طور پر انڈیا سے اس معاملے پر احتجاج کیا ہے اور اسلام آباد میں موجود انڈین اتاشی کو دفتر خارجہ بلا کر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

انڈیا کا جواب: ’او آئی سی غیر متعلقہ ادارہ ہے‘

اسلامی تعاون تنظیم کے بیان سے قبل ہی انڈیا کی جانب سے سرکاری طور پر دو دن قبل رد عمل سامنے آیا تھا جس میں انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے بیرونی تبصروں پر تنقید کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ ہمارے آئینی ڈھانچے اور طریقہ کار کے ساتھ ساتھ جمہوری نوعیت اور پالیسی کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

’جو لوگ انڈیا کو اچھی طرح جانتے ہیں، وہ حقیقت کو جانتے ہیں۔ ہمارے اندرونی مسائل پر ایسے بیانات خوش آئند نہیں جن کے سیاسی محرکات ہیں۔‘

https://twitter.com/MEAIndia/status/1492364195802738689

متعدد خلیجی ممالک میں انڈیا کے سفیر رہنے والے تلمیز احمد نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے او آئی سی کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ او آئی سی ایک غیر متعلقہ ادارہ ہے جس کا بیان جاری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں او آئی سی نے کشمیر پر بھی ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کشمیر کے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بات کی گئی تھی۔

اس وقت انڈیا نے کہا تھا کہ او آئی سی کو کشمیر کی حقیقت کا علم نہیں، اس لیے اس کے پلیٹ فارم کو کسی خاص ملک کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

’صرف بیان سے کیا ہو گا؟‘

تاہم او آئی سی کے بیان پر سوشل میڈیا پر خوب بحث ہوئی۔

پاکستان میں لوگوں نے کہا کہ صرف بیان سے کیا ہو گا تو انڈیا کے شہریوں نے اندرونی معاملات میں مداخلت پر برہمی کا اظہار کیا۔

پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان کے رپورٹر طارق نقاش نے او آئی سی کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’کیا آپ زندہ ہیں؟‘

پاکستان میں ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ او آئی سی کو کہنا چاہیے کہ تمام رکن ممالک انڈیا کی مصنوعات کا کم از کم ایک ماہ کے لیے بائیکاٹ کریں۔

https://twitter.com/rony2_zr/status/1493272506626555908

دوسری جانب ایک انڈین صارف نے رد عمل دیا کہ او آئی سی کو انڈیا کے اندرونی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔ ’ہم یہ معاملہ اپنے آئین کے تحت حل کریں گے۔ ہمارے معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ انڈیا آئین کے تحت چلے گا، شریعت کے مطابق نہیں۔‘

ایک انڈین صارف نے لکھا کہ ’اقلیتوں پر حملہ ہوگا تو پھر یہ معاملہ اندرونی نہیں رہے گا۔‘

https://twitter.com/imJamshed0/status/1493276167914196995

انڈیا میں مذہبی آزادی

گزشتہ سال امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ‘خاص تشویش والے ممالک’ کی فہرست جاری کی تو فہرست مرتب کرنے والے امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے تجویز دی کہ اس میں انڈیا کا نام بھی شامل کیا جائے۔

اس کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے انڈیا کا نام فہرست میں شامل نہیں کیا۔

واضح رہے کہ ہر سال امریکہ ایسے ممالک اور تنظیموں کی فہرست جاری کرتا ہے جو امریکن انٹرنیشنل ریلیجیئس فریڈم ایکٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی سفارش کے باوجود فہرست میں انڈیا کو شامل نہ کرنے پر بھی بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا تھا۔

کمیشن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’سال 2020 میں مذہبی آزادی کے جائزے کے بعد، فہرست کے لیے چار ممالک کے نام وزارت خارجہ کو تجویز کیے گئے، جن میں انڈیا، روس، شام اور ویتنام شامل ہیں۔‘

لیکن روس کے علاوہ ان ممالک میں سے کوئی بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔

اس فہرست میں پاکستان، چین، افغانستان کی طالبان حکومت، ایران، روس، سعودی عرب، اریٹیریا، تاجکستان، ترکمانستان اور برما شامل ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp