سیاست کی سوچ اور فکر کو بدلنا ہو گا


علمی اور فکری حلقوں میں سیاسی موضوعات پر گفتگو میں دو نکات ہمیشہ اہم ہوتے ہیں۔ اول ہماری سیاست اور جمہوریت کو نظریاتی بنیادوں پر ہونا چاہیے جس میں سچائی، دیانت داری، شفافیت، خود احتسابی، جوابدہی، خدمت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو ترجیحی بنیاد پر فوقیت شامل ہو۔ دوئم علمی، فکری اور نظریاتی بات سے زیادہ لوگ معاملات کو دیکھنے کے لیے عملی سیاست سے جڑے معاملات کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے بقول جو بھی سیاست کے طور طریقے ہیں ان کو ہی بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہو گا۔ کیونکہ نظریاتی سیاست کے مسائل پیچھے اور طاقت یا اقتدار کی سیاست کی بالادستی کو قبول کر کے ہی اقتدار کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کی موجودہ سیاست بھی اسی دوسرے نقطہ پر کھڑی ہوئی ہے جہاں اہل سیاست یا اقتدار کی سیاست سے جڑے افراد یا جماعتوں نے اقتدار کی سیاست کو ہی اپنی منزل بنالیا ہے۔ ان کے بقول جائز یا ناجائز کسی بھی طریقے سے ہمیں اقتدار کی سیاست کے کھیل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ اقتدار کا کھیل برا نہیں یقینی طور پر جو بھی سیاست میں آئے گا اس کے سامنے اقتدار کی سیاست ہی اہم ہوتی ہے۔ لیکن جو سوال سب سے زیادہ توجہ طلب ہے کہ کیا اقتدار کی سیاست کے حصول کا براہ راست تعلق عوام یا محروم طبقات یا معاشرے کو حقیقی معنوں میں بدلنا ہے یا اس کھیل کو محض اپنی ذات، خاندان یا دوستوں، رشتوں داروں سمیت ایک مخصوص طبقہ کی طاقت کو برقرار رکھنے سے جڑا ہے۔ کیونکہ اس وقت کی سیاست میں ایک عمومی تصور سیاست کے بارے میں یہ ہی ہے کہ اقتدار کی سیاست میں ایک مخصوص طبقہ یا خاندان کی اجارہ داری ہے جو عوامی حاکمیت سے محروم ہے۔

سیاست دان ہو یا سیاسی راہنما ان کی گفتگو، طرزعمل اور عملی معاملات میں اس حد تک تضاد بڑھ گئے ہیں کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے کس بیان کو سچ سمجھا جائے اور کس کو غلط سمجھا جائے۔ کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے بیانات میں تبدیلیوں کو دیکھ کر لگتا ہے ان کا سیاسی طرز عمل ایک خاص ردعمل کی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔ سیاست میں تلخیوں کا پیدا ہونا، محاذ آرائی کی صورتحال کا رونما ہونا سیاسی عمل کا حصہ ہوتا ہے لیکن یہ کھیل جب ایک خاص منصوبہ بندی یا شعوری طور پر کیا جاتا ہے تو اس کا عملی نتیجہ محاذ آرائی پر مبنی سیاست ہی ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر سیاست کی سطح پر اہل سیاست سے جڑے افراد جب محاذ آرائی اور سیاسی مسائل کو ذاتی، خاندانی اور شخصی مسائل کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں تو پھر یہ عمل مثبت سیاست کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ جب اختلافات کی نوعیت اصول سے زیادہ ذاتی معاملات تک محدود ہوجاتی ہے تو اس کے نتیجہ سے خیر کا پہلو کم ہوجاتا ہے۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ اختلافات ایک نفرت، تعصب اور ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول نہ کرنے کے عمل میں سامنے آتا ہے۔ یہ کھیل اوپر کی سطح سے شروع ہو کر پہلے سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کی سطح پر اور پھر میڈیا اور معاشرے کے دیگر طبقات میں اپنا منفی رنگ جماتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی سطح پر اس مسئلہ پر سوچ اور بچار کم نظر آتی ہے کہ ہمیں عوام کے ساتھ اپنے تعلق کو کیسے مضبوط بنانا ہے۔ سیاست میں عوام کو ہی طاقت کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن یہاں عوام کے مقابلے خواص اور طاقت ور حلقوں کو ہی طاقت کا مسیحا سمجھا جاتا ہے اور عوام کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا کہ وہ یا تو اسی تنخواہ پر کام کریں جو ان کی سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا ہے یا خود کو ایک قدم آگے بڑھ کر سیاسی عمل یا سیاسی جماعتوں سے لاتعلقی اختیار کر لیں۔

سیاسی جماعتوں کے نظام میں اس حد تک جکڑ بندی یا زبان بندی ہے کہ جو بھی ان جماعتوں کے مروجہ نظام یا قیادت کو چیلنج کرے گا یا کوئی متبادل بات کرے گا اس کو یا تو دیوار سے لگایا جاتا ہے یا وہ پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔ سیاسی سطح پر سیاسی جماعتیں متبادل آوازوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور ان کو آغاز سے ہی ایک خاص حکمت عملی کے تحت علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔ ان ہی سیاسی جماعتوں میں اچھے لوگ ہیں لیکن ان کے بقول جب سیاسی جماعتیں افراد کے تابع ہوں گی تو نتیجہ ان کے حق میں نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کی ہمیں حمایت حاصل ہوتی ہے۔

یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جن ہمارا مجموعی سیاسی نظام جدیدیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی ہم دنیا کے سیاسی تجربوں یا ان کی سیاسی حکمت عملیوں کو سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ سیاست کبھی بھی جامد نہیں ہو سکتی اس نے حالات و واقعات کی بنیاد پر خود کو تبدیل کرنا ہوتا ہے مگر اس تبدیلی میں اصل نقطہ مرکز ملک، ریاست اور عوام کا مفاد ہوتا ہے۔ ہمارے نظام کو جب سیاسی جماعتیں روایتی، فرسودہ اور قبائلی اور دھن، دولت اور اختیار کی بنیاد پر چلایا جائے گا تو اس میں جدید تبدیلی کا تصور بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

اگرچہ ایک منطق یہ دی جاتی ہے یہاں سیاسی جماعتوں کو مضبوط ہی نہیں بننے دیا جاتا اور اسٹیبلیشمنٹ ان کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ سچ آدھا ہو سکتا ہے مگر پورا سچ یہ بھی ہے کہ خود ان سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے داخلی محاذ پر کچھ بھی نہیں جو نظام میں سیاست، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت خود سیاسی جماعتوں کی سیاسی ساکھ اور شفافیت کو قائم کرسکے۔

ہماری سیاست اور جمہوریت کی یہ جنگ تمام طبقات سے جڑے لوگوں کو ساتھ ملانے یا ان کو یکجا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے اور عملی طور پر سیاسی، سماجی، علاقائی، لسانی، فرقہ وارانہ یا مذہبی تقسیم کا کھیل عروج پر ہے۔ جب سیاسی جماعتیں ملک میں اجتماعیت کا عمل پیدا کرنے کی بجائے لوگوں کو انفرادی جدوجہد کا حصہ بنا دیں گی تو اجتماعی ترقی کی بات کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اس ملک کو ایک ایسی سیاست اور ایسے سیاست دانوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو تقسیم کرنے کی بجائے جوڑے۔

انتہا پسندی، فرقہ واریت، لسانیت اور علاقائیت کی بنیاد پر معاشرے کی تقسیم خطرناک نتائج سے ہمیں دوچار کرے گی۔ ہماری سیاست کو لانگ ٹرم، مڈٹرم اور شارٹ ٹرم کی بنیاد پر ایک بڑے روڈ میپ کی ضرورت ہے جو کسی کے مسلط کردہ نہ ہو بلکہ اس میں تمام فریقین کی مشاورت ہو، تاکہ اتفاق رائے سے آگے بڑھا جا سکے۔ لیکن سوال یہ ہی ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اور ان سے جڑے افراد واقعی کچھ تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا سیاست کو بطور ہتھیار استعمال کر کے نہ صرف سیاسی طاقت چاہتے بلکہ سب کچھ اپنے اختیار میں ہو۔

سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہو گا کہ گورننس کا بحران کی بڑی کنجی مقامی حکومتوں کے خود مختار اور مضبوط نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ لیکن ہماری سیاسی جماعتیں ان معاملات پر توجہ دلانے کی بجائے محاذ آرائی کے کھیل کو اپنائی طاقت بنا کر اسے اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں کا پڑھا لکھا طبقہ اور رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے سیاسی جماعتوں پر عملی دباؤ ڈالنے کی سیاست میں ناکام رہے ہیں۔ کیونکہ ان افراد یا اداروں کی کمزوریوں کا بھرپور سیاسی فائدہ طاقت ور حکمران طبقات یا طاقت ور ادارے اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں سوچنے، سمجھنے، پرکھنے اور متبادل تجویز دینے والے وہ افراد جو عملی کاموں کا حصہ ہیں اور وہ ملک بھی بنانا چاہتے ہیں مگر ان کی کوئی پذیرائی ان حکمران طبقات میں نہیں۔ یہاں کا حکمران طاقت ور طبقہ طاقت ور افراد کے مقابلے میں کمزور لوگوں کو پسند کرتا ہے اور ان ہی کو مختلف عہدوں سے نواز کر سنجیدہ لوگوں کو اور پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت عوام کو منظم کرنے، سیاسی و سماجی شعور کی آگاہی اور اپنے کارکنوں کو سماجی کاموں سمیت معاشرے کی تشکیل نو میں شمولیت پر یقین ہی نہیں رکھتیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں عملاً پارٹ ٹائم یا محض انتخابات میں ہی کام کرتی ہیں یا سرگرم نظر آتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا عوام سے تعلق سمیت اپنے کارکنوں سے لاتعلقی بھی ایک سنجیدہ اور غور طلب مسئلہ ہے۔

ہماری مجموعی سیاست میں بہت کچھ بدلنا ہے اور بڑی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ اہم بات ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کی ہے اور یہ ہی کمٹمنٹ پورے سیاسی نظام کو بدلنے میں معاون ثابت ہوگی۔ لیکن یہ کام محض سیاسی تنہائی یا کسی ایک سیاسی جماعت تنہا نہیں کرسکے گی۔ اس کے لیے تبدیلی سے جڑے ادارے، افراد، سول سوسائٹی، میڈیا، دانشور، شاعر، ادیب، وکیل، استاد، سمیت بالخصوص نوجوانوں کو اپنا قبلہ بھی درست کرنا ہو گا اور سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی کرنا ہوگی۔

Facebook Comments HS