فیصل واوڈا کی درخواست مسترد: ’یہ سزا ئے موت بہت سے سیاست دانوں کو مل چکی ہے‘


اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل ووڈا کی طرف سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ جھوٹا بیان حلفی دینے کے سنگین نتائج ہوتے ہیں اور اس بارے میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے جس میں متعدد رکن پارلیمان کو نااہل قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے چند روز قبل فیصل واوڈا کو سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے امریکی شہریت چھوڑنے سے متعلق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے پر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دے دیا تھا۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی اسی قانون کے تحت سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بدھ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف فیصل ووڈا کی درخواست کی سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل وسیم سجاد نے اس درخواست کے حق میں دلائل کے دوران الیکشن کمیشن کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کے موکل کو جھوٹے بیان حلفی کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیش نے فیصل واؤڈا کو نااہل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو بطور رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر لی جانے والی تمام تنخواہیں اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے گذشتہ برس تین مارچ کو بطور رکن قومی اسمبلی استعفی دے دیا تھا، وہ بطور رکن اسمبلی مستعفی ہو چکے تھے اور انھیں بطور سینیٹر بھی نااہل قرار دے دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اور اس کے پاس کسی رکن پارلیمان کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہی نہیں ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کا فیصلہ نہیں سنا سکتا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیکنیکل گراؤنڈز پر بات کر رہے ہیں تو یہ بتائیں کہ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ سنانے میں کہاں کوئی غلطی کی ہے؟

چیف جسٹس نے فیصل ووڈا کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے موکل کی نیک نیتی بھی بتائیں کہ جب سنہ 2018 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بیان حلفی دائر کیا تو دوہری شہریت نہیں تھی؟ انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ دیا یا نہیں؟ اس کی تاریخ کیا ہے؟ کیا جھوٹے بیان حلفی کی انکوائری سپریم کورٹ کرتا؟ چیف جسٹس نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن انکوائری کر کے معاملہ سپریم کورٹ بھجواتا؟

الیکشن

درخواست گزار کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن بیان حلفی کی انکوائری کر سکتا ہے، دیکھنا یہ ہو گا کہ اس کے بعد کیا عمل ہے؟

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر جھوٹا بیان حلفی آئے تو اس کے خلاف انکوائری کے بعد کورٹ آف لا کو کارروائی کا اختیار ہے اور الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ جھوٹے بیان حلفی کو ایسے تصور کیا جائے گا کہ وہ سپریم کورٹ میں جمع ہوا۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ جھوٹا بیان حلفی دینے والے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے؟ جس پر وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں میں جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے پر توہین عدالت کی کارروائی کا ذکر نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصل ووڈا کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مقدمے کو ایک طرف رکھیں اور صرف یہ بتا دیں کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کا کیا کریں جو انھوں نے تاحیات نااہلی کے بارے میں دیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اب قانون بن چکا ہے جس میں کئی قانون سازوں یعنی ارکان پارلیمنٹ کو نااہل بھی کیا گیا۔

بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا فیصل واوڈا نےامریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ کہیں جمع کرایا اور کیا کہیں انھوں نے اس حوالے سے اپنی نیک نیتی ظاہر کی؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ ذمہ داری پٹیشنر پر تھی کہ وہ شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش کرتا۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پٹیشنر نے کہیں بھی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیا تاہم نااہلی کا اختیار صرف کورٹ آف لا کا ہے۔

وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ اگر بیان حلفی کورٹ آف لا کے سامنے جھوٹا ثابت ہو تو پھر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں ان کے موکل کو آئین کے آرٹیکل ون سی کے تحت بھی نااہل کیا ہے جو کہ دوہری شہریت چھپانے سے متعلق ہے۔

وسیم سجاد نے کہا کہ ان کے موکل کے بطور رکن قومی اسمبلی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ تو درست تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن بطور سینیٹر بھی ان کو نااہل کر دیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ تاحیات نااہلی سیاست میں سزائے موت کی طرح ہے جس پر چیف جسٹس اطہر من نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ سزائے موت بہت سے سیاست دانوں کو مل چکی ہے۔‘

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے فیصل ووڈا کے نااہل ہونے کے بعد خالی ہونے والی سینٹ کی نشست پر دوبارہ انتخابات کروانے کا شیڈیول جاری کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس نشست پر پولنگ 9 مارچ کو سندھ اسمبلی میں ہوگی۔

فیصل واوڈا کیس طویل عرصے تک زیر سماعت رہا

فیصل واوڈا کا مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں طویل عرصے تک زیر سماعت رہا اور اپنے اوپر لٹکی نااہلی کی تلوار سے بچنے کی خاطر اس دوران فیصل واوڈا اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو کر سینیٹ کے رُکن بن گئے۔

تاہم جب اس کے بعد بھی الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کے خلاف کارروائی نہ روکی تو اب کی بار سینیٹر واوڈا پھر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے اور یہ درخواست دی کہ کمیشن کو اس سماعت سے روکا جائے۔

مزید پڑھیے

سینیٹر فیصل واوڈا نااہل قرار، تنخواہیں اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کے احکامات

فیصل واوڈا اور یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے ٹکٹ دینے پر تنقید کیوں؟

اب ایم این اے فیصل واوڈا کے برعکس سینیٹر فیصل واوڈا زیادہ خوش قسمت ثابت نہ ہوئے اور عدالت نے اس بار ان کی درخواست قبول نہیں کی اور جسٹس عامر فاروق نے کمیشن کو کارروائی نہ روکنے کی ہدایت واضح احکامات دے دیے۔

اس کے بعد فیصل واوڈا نے اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی اور عدالت سے درخواست کی کہ عدالت کا 12 نومبر کا فیصلہ جبکہ نااہلی کی درخواستیں قابل سماعت قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا 12 اکتوبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

مگر اس درخواست کے بعد بھی سینیٹر فیصل واوڈا ریلیف حاصل نہ کر سکے اور ایک بار پھر انھیں الیکشن کمیشن کی کارروائی کا حصہ بننا پڑا۔

فیصل واوڈا کون ہیں؟

فیصل واوڈا کا شمار کراچی مشہور کاروباری شخصیات میں سے ہوتا ہے وہ اور متعدد کاروبار کرتے ہیں جن میں بیرون ملک سے مہنگی گاڑیوں کی درآمد کا کاروبار بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مہنگی گاڑیاں اور ہیوی بائیک بھی چلانے کا شوق رکھتے ہیں۔

فیصل واوڈا سنہ 2011 سے پاکستان تحریک انصاف کے ایک سرگرم کارکن کی حثیت سے اس جماعت کے ساتھ منسلک تھے اور کراچی میں اپنے حلقے میں اس جماعت کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

چونکہ ان کے پاس امریکہ کی شہریت بھی تھی تو اس عرصے کے دوران ان کا امریکہ میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔

فیصل واوڈا کا نام سنہ 2016 میں اُس وقت سامنے آیا جب قومی احتساب بیورو نے انھیں اثاثوں اور کراچی میں الاٹ کیے پلاٹوں کی چھان بین کے لیے نوٹس جاری کر کے طلب کیا تھا۔

پھر سنہ 2018 میں ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران پاکستان تحریک انصاف نے انھیں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 سے ٹکٹ دیا اور انھوں نے اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کو چھ سو سے زائد ووٹوں سے ہرایا تھا۔

ان انتخابات کے نتائج کے بعد ہی ان کے خلاف درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں ان پر غیر ملکی اثاثے چھپانے کے علاوہ کاغذات نامزدگی میں حقائق توڑ موڑ کر پیش کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔

اکتوبر سنہ 2018 میں انھیں وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا اور انھیں آبی وسائل کے بارے میں وزارت کا قلمدان سونپا گیا۔

جب نومبر سنہ 2018 میں کراچی میں چینی قونصلیٹ کے باہر دہشت گردی کا واقعہ ہوا تھا تو فیصل واوڈا بلٹ پروف جیکٹ پہنے، ہاتھ میں پستول لیے سکیورٹی فورسز کے ساتھ متاثرہ علاقے میں گھومتے ہوئے دکھائی دیے گئے تھے جس کے بعد ان پر کافی تنقید کی گئی تھی۔

فروری 2019 میں جب پاکستانی فضائیہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین طیارہ مار گرایا اور انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھیندن کو گرفتار کیا گیا تو وفاقی وزیر فیصل واوڈا پستول لے کر اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں پر انڈین جہاز کا ملبہ پڑا ہوا تھا۔

فیصل واوڈا کو سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس وقت سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک ٹاک شو میں فوجی بوٹ لے کر آ گئے اور اس کو اپنے سامنے میز پر رکھ کر اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرنے لگے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے بھی اس پر اپنا سخت ردعمل دیتے ہوئے اس ٹاک شو پر کچھ عرصے کے لیے پابندی عائد کر دی تھی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp