جدید مشاعرہ


مشاعرہ اردو ادب کی خاص روایت ہے جس میں شاعری کو سنایا جاتا ہے اور داد وصول کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر شاعر آپ کو نیم گلوکار بھی ملتے ہیں اور اپنی روکھی پھیکی غزل پر ترنم کا تڑکا لگا کر سامعین کو سنا دیتے ہیں، جیسے کہ پڑے ہوئے سالن کو والدہ ماجدہ تڑکا لگا کر کھلا دیتی ہیں اور ہم تڑکے کے دھوکے میں باسی سالن مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔

جدید مشاعرے کے جزو لاینفک شاعر ہیں، اس کا سامعین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مقامی شاعر، مزید مقامی شاعر، مہمان اعزاز، مہمان خصوصی اور صدارت سب کے سب شاعر ہوتے ہیں۔ مشاعرہ کیا ہے شاعروں کا ایسا اجتماع جس میں ایک شاعر اپنی غزل سنانے کے لیے اپنے دشمنوں کی کئی غزلیں سنتا ہے اور آخر میں اپنی غزل سنا کر غصہ اتارتا ہے اور اگر غصہ زیادہ آ جائے تو تین چار غزلیں سناتا ہے کہ سننے والوں کو نیند آ جاتی ہے اور وہ خواب خرگوش کے مزے لینے لگتے ہیں۔ جدید مشاعرے میں داد نہیں ملتی کیونکہ شاعر کسی دوسرے شاعر کو داد نہیں دیتے۔ شاعر کا خاصہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو شاعر ماننے کو تیار نہیں ہوتا اس لیے اس کو دوسروں کی شاعری سن کر سکتہ طاری ہو جاتا ہے اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ ’میں کہاں ہوں، میں کہاں ہوں‘ ۔

جدید مشاعرے کے لیے ایک فنانسر کا ہونا بہت ضروری ہے جو مشاعرے کے تمام اخراجات اٹھائے اور ان کے کھانے وغیرہ کا انتظام کرے۔ اکثر جدید مشاعرہ کے فنانسر خود شاعر نہیں ہوتے لیکن یہ لازم نہیں ہے، ہو بھی سکتے ہیں۔ اس صورت میں پھر آپ کو ان کی بے وزن شاعری سن کر خوب داد دینی پڑتی ہے کیونکہ ’جس کا پیسہ، اس کی داد‘ ۔ اکثر فنانسر امیر لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس پیسہ تو خوب ہوتا ہے لیکن کوئی ان کو منہ نہیں لگاتا۔ اس لیے وہ مشاعرے کے انعقاد کر کے لوگوں کے منہ لگتے ہیں اور اپنا امیر ہونے کا جواز پیش کرتے ہیں۔

جدید مشاعرے کے لیے ایک تنظیم کا ہونا بھی لازم ہے جس کا ایک صدر ہو، جنرل سیکریٹری ہو اور بہت سی لڑائی ہو جو کہ دوسری ادبی تنظیموں سے ہو تاکہ ’کاروبار لڑائی خوب چلے‘ ۔ ادبی تنظیم نجانے ادب کی خدمت کر رہی ہے یا نہیں لیکن مشاعرے کا انعقاد ضرور کراتی ہے۔ جس سے شاعر جو اپنی فیس بک تک محدود ہوتے ہیں باہر آ کر اپنی منہ زبانی غزلیں سناتے ہیں اور کوئی داد پائے بغیر اپنا سا منہ لیے گھر کو واپس چل دیتے ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان میں ادب / شاعری کی خدمت کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اب کسی جدید مشاعرے میں شرکت نہیں کروں گا لیکن جب پھر کسی بھی مشاعرے میں کلام پڑھنے کی دعوت ملتی ہے تو بھاگا دوڑا اس پروگرام کی طرف لپکا جاتا ہوں کہ آخر ’پروانہ کب تک شمع سے دور رہ سکتا ہے‘ ۔

Facebook Comments HS