دانش وری کے انجکشن


پاکستان جس افراتفری اور خانہ جنگی کے خوں رنگ ماحول میں قائم ہوا، اس میں ہر سطح پر اچھی قیادت کا میسر آنا سخت محال تھا۔ کم و بیش وہی

چھوٹا سا ٹولہ برسراقتدار آ گیا جو برطانوی راج میں سیاست دان، بیوروکریٹ، وکلا، اساتذہ، انجینئر، ڈاکٹر اور مسلح افواج کے کمیشنڈ افسر فراہم کرتا تھا۔ لارڈ میکالے نے 1935 میں ایک متعین ہدف دیا تھا کہ ہمیں ہندوستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے جو ہمارے اور ہماری رعایا کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکے۔ یہ لوگ رنگ اور نسل کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہوں گے، مگر ان کی دانش اور ان کی اقدار سب کی سب برطانوی ہوں گی۔ لارڈ میکالے کی پیش گوئی کے عین مطابق یہ طبقہ برطانوی حکومت کا سب سے بڑا حامی اور مددگار ثابت ہوا۔

اس گروہ کے علاوہ کچھ ایسے نام نہاد مذہبی اسکالر اور دانش ور بھی سرکاری سرپرستی میں منظرعام پر آتے گئے جو چرب زبان اور قلم فروش تھے۔ ان میں جناب غلام احمد پرویز کا نام سرفہرست ہے۔ وہ قیام پاکستان سے پہلے دہلی میں حکومت ہند کے ملازم تھے اور تقسیم کے بعد انہوں نے پاکستان آنے کے بجائے بھارت ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ سبب یہ بتایا کہ میں بھارتی مسلمانوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا، مگر ہندو ساتھی جب ان پر حملہ آور ہوئے، تو ہجرت کر کے کراچی آ گئے۔

ملازمت کے دوران انہیں خوب اندازہ ہو چکا تھا کہ مغرب زدہ طبقہ کس قسم کا اسلام چاہتا ہے۔ انہوں نے ”طلوع اسلام“ جاری کیا اور قرآن حکیم کی تفسیر بھی لکھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد گلبرگ، لاہور میں اپنا مرکز قائم کیا۔ وہ بالعموم چند گنی چنی باتوں پر زبان و قلم کا زور صرف کرتے۔ پہلی یہ کہ اسلام آسانیوں اور آزادیوں کا دین ہے۔ دوسری یہ کہ حدیث کا بڑا ذخیرہ ناقابل اعتبار ہے۔ تیسری یہ کہ حاکم وقت کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے۔

چوتھی یہ کہ مودودی پاکستان کا سخت دشمن ہے۔ وہ جدید اسلامی اسکالر کا روپ دھار کر ہر حاکم وقت سے ملتے اور اسے شیشے میں اتار لینے کے حربے آزماتے۔ انہوں نے ننگ ملت غلام محمد کو ’مرکز ملت‘ کا خطاب عطا کیا اور وہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خاں سے ملاقات کے دوران یہ پٹی پڑھاتے رہے کہ سیاسی جماعتوں کا قیام ’شرک‘ کے مترادف ہے۔

سرکاری حلقوں میں پذیرائی بڑھنے سے وہ دیدہ دلیر ہوتے گئے۔ حدیث کے بڑے ذخیرے کو وہ پہلے ہی ناقابل اعتبار قرار دے چکے تھے، اب دریدہ ذہنی سے کام لیتے ہوئے اس بات پر بھی اصرار کرنے لگے کہ (خاکم بدہن) صحاح ستہ کی تدوین دراصل مسلمانوں کے خلاف ایک عجمی سازش تھی۔ اس ہرزہ سرائی پر علمی اور دینی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ سید ابوالاعلیٰ تو قرآن و سنت کی روشنی میں پہلے ہی سے اس امر کی نشان دہی کرتے آ رہے تھے کہ پرویز صاحب انکار حدیث کا فتنہ پھیلا رہے ہیں اور محسن انسانیت اور دنیا کے عظیم ترین لیڈر حضرت محمد ﷺ کی قدروقیمت گھٹانے کی ناپاک جسارت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کے برسوں پہ محیط اس علمی جہاد کے نتیجے میں غلام احمد پرویز کے پیروکار ’پرویزی‘ کہلائے جانے لگے جنہیں عامتہ المسلمین عموماً سخت ناپسند کرتے تھے۔

ایوب خاں کے دور حکومت میں غلام احمد پرویز کالجوں، یونیورسٹیوں، اعلیٰ تربیتی اداروں اور نجی سرکاری تقریبات میں مدعو کیے جانے لگے۔ ان کے ہفت روزہ درس قرآن میں شریک ہونے والے بڑی بڑی کاروں میں آتے، جدید ترین آلات سے ان کے فرمودات ریکارڈ کرتے اور کیسٹ بڑی تعداد میں سرکاری افسروں، دانش وروں اور اساتذہ تک پہنچائے جاتے۔ سوئے اتفاق سے 1963 کے اوائل میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے پرویز صاحب کی شخصیت کا سارا پول کھول ڈالا۔

ہوا یہ کہ کراچی میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک اعلیٰ افسر جماعت اسلامی سے ہمدردی رکھتے تھے۔ ان کے ہاتھ وہ خط آ گیا جو حکومت نے غلام احمد پرویز کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے اور ان کا امیج تراشنے کے لیے لکھا تھا۔ اس افسر نے امیر جماعت اسلامی کراچی چودھری غلام محمد کو اس کی نقل فراہم کر دی۔ جماعت اسلامی کے شعبہ نشر و اشاعت نے اس خط پر مبنی پریس ریلیز جاری کر دیا۔ اس پر حکومت نے چودھری غلام محمد اور ناظم نشر و اشاعت جناب اسحٰق صدیقی کے خلاف ”سرکاری راز افشا“ کرنے کا مقدمہ دائر کر دیا جو مدتوں چلتا رہا اور غلام احمد پرویز کی عظمت کا ملمع اترتا گیا۔

دانش وری کے دوسرے دعوے دار پیر علی محمد راشدی تھے جو ان دنوں فلپائن میں پاکستان کے سفیر اور بہت پہنچے ہوئے بادشاہ گر تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ایک طاقت ور اخبار کے مدیر کی حیثیت سے سامنے آئے۔ ان سے وفاقی اور صوبائی وزرا سہمے رہتے تھے کہ وہ جس کے خلاف اداریہ لکھ دیتے، اس کا سیاسی مستقبل ختم ہو جاتا۔ حکمران ان کی سفارش کو بڑی اہمیت دیتے اور اس پر فوراً عمل کرتے۔ جنرل ایوب کے قریبی ساتھی الطاف گوہر نے اپنی سرگزشت میں قلم بند کیا ہے کہ ایک روز ایوب صاحب نے مجھ سے مشورہ کیا کہ اگر راشدی صاحب مشرقی پاکستان کے گورنر لگا دیے جائیں، تو کیسا رہے گا۔

میں نے عرض کیا: ”مشرقی پاکستان پہچاننے کے قابل نہیں رہے گا۔“ ایوب خاں نے قہقہہ لگایا اور یوں راشدی صاحب کی گورنری رہ گئی۔ ایوب خاں فلپائن کے دورے پر گئے اور دستور کے مسودے کی ایک نقل راشدی صاحب کو دی اور ان کی رائے طلب کی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ فوری طور پر بادشاہت قائم کرنے کا اعلان کر دیا جائے کہ حقیقی استحکام کا یہی مجرب نسخہ ہے، لیکن بدقسمتی سے منظور قادر نے اس مشورے کو ”مضحکہ خیز“ قرار دیا۔ اس طرح پاکستان بادشاہت سے محروم رہ گیا۔ اسی طرح اعلیٰ امریکی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ مسٹر بھٹو بھی ایوب خاں پر مسلسل زور دیتے رہے کہ صوبوں کو ہرگز اختیارات نہ دیے جائیں کہ وہ سرکش ہو جائیں گے۔ (جاری ہے )

نوٹ: گزشتہ کالم میں واقعات کے غلط ملط ہو جانے سے یہ جملہ شائع ہوا کہ مولانا نذیر احمد نے قائداعظم کا نکاح پڑھایا تھا جبکہ امر واقعہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ قائداعظم کی ہونے والی بیگم نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔

Facebook Comments HS