خدارا ! ریاست کے بدمعاش ہونے کا تاثر نہ دیں

آپ ریاست کے ماں کے جیسی ہونے کا خواب دیکھتے ہیں یہاں ریاستی ادارے بدمعاش بنے ہوئے ہیں۔ سوال کرنے پر آپ کو ننگا کر کے برقی جھٹکے لگا سکتے ہیں۔ بغیر وارنٹ دیوار پھلانگ کر آپ کے گھر میں داخل ہوسکتے ہیں۔ آپ شناخت پوچھیں یہ ہتھیار تان سکتے ہیں۔ آپ لائسنس یافتہ اسلحے سے اپنا دفاع کریں یہ آپ پر دہشتگردی کا مقدمہ ٹھوک سکتے ہیں۔ گرفتاری کے بعد بند کمرے میں آپ کی اتنی پھینٹی لگا سکتے ہیں کہ نشانات کھلی عدالت میں دکھائیں دیں گے۔ ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں۔ ہم ریاست کا کیا تاثر بنانا چاہتے ہیں؟ ایسی بدمعاشی عام ہوگی تو اداروں کو کوئی اپنا محافظ کیسے مانے گا۔ عوام عدم تحفظ کا شکار ہوں گے۔
آپ تصور کریں صبح صبح آپ کے گھر میں درجن بھر مشٹنڈے دیوار پھلانگ کر داخل ہوں آپ شناخت پوچھیں وہ اسلحہ نکال لیں۔ آپ کے ذہن میں پہلا خیال کیا آئے گا؟ میں محسن بیگ صاحب کے گھر پیش آنے والے واقعے کا عینی شاہد نہیں ہوں لیکن یہ سوال تو بنتا ہے کہ ایسی کیا ایمرجنسی تھی کہ نو بجے مقدمہ درج ہوا۔ ساڑھے نو بجے ایف آئی اے کے لشکر نے دھاوا بول دیا۔ وارنٹ لے جانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی؟ ادارے خود کو قانونی طریقہ کار کا پابند کیوں نہیں مان رہے؟ یہ بدمعاشی کا تاثر کیوں دیا جا رہا ہے؟
یہی تاثر کراچی میں دیا گیا۔ اقرارالحسن ویڈیو ثبوت لے کر گئے تھے۔ ایک ناسور کی نشاندہی کرنے گئے تھے۔ اداروں کو کھوکھلا کرنے والی کرپشن کے شواہد متعلقہ حکام کو پیش کرنے گئے تھے۔ جس کی ذمہ داری ہے اس سب کو روکنے کی اس سے سوال کرنے گئے تھے۔ اصولاً جواب آنا چاہیے تھا لیکن ہم نے پھٹا ہوا سر، اترا ہوا کندھا اور زخموں سے چور صحافی دیکھا۔ اس کی تفصیلات سن کر آپ کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ یہ ادارے آپ کی حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ آپ کوشش کے باوجود ان اداروں پر اعتماد نہیں کر پائیں گے۔ یہ رویہ نری لاقانونیت کا ہے۔ ریاست کے اداروں کو قانون کا پابند ہونا چاہیے۔ یہاں جس کے پاس قانون کی جتنی بڑی ذمہ داری ہے وہ اتنا بڑا بدمعاش بنا ہوا ہے۔ قانون کمزوروں کی حفاظت کے بجائے کمزوروں کے ساتھ بدمعاشی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ سب اس حکومت میں ہو رہا ہے جس کا سربراہ ریاست مدینہ کا نام لیوا ہے۔ وہ ریاست مدینہ جس کا سربراہ یہودی کے ہاتھ میں اپنی زرہ دیکھ کر بھی اپنی سپاہ کو استعمال نہیں کرتا۔ قانونی طریقہ استعمال کرتا ہے۔ تاثر یہ دیتا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ یہاں تو تنقید پر بھی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ حکمران خود کو آئین، قانون اور تنقید سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔ جہاں حکمراں خادم کے بجائے بدمعاش بن جائیں۔ ریاست کے ادارے تحفظ کے بجائے عدم تحفظ کا احساس دلانے لگیں تو وہ ریاستیں طاقت ور نہیں کمزور ریاستیں کہلاتی ہیں۔ خدارا اس ملک کے کمزور ریاست ہونے کا تاثر نہ دیں۔

