قومی سلامتی کا چورن

ڈاکٹر وکرم سارا بائی، ڈاکٹر ہومی جہانگیر بھابا اور ڈاکٹر اے پی جی عبدالکلام بھارت کے مایہ ناز سائنسدان تھے۔ ڈاکٹر وکرم ماہر طبعیات اور ماہر فلکیات تھے۔ وہ ہندوستان کے خلائی تحقیقاتی پروگرام کے بانی تھے۔ انہوں نے ساری زندگی اور توانائی خلائی تحقیق کے لیے وقف کی تھی۔ ڈاکٹر ہومی جہانگیر بھابا پارسی المذہب تھے۔ ڈاکٹر جہانگیر نے کیمرج یونیورسٹی سے نیوکلیئر فزکس میں ڈاکٹریٹ کی تھی۔ وہ نیوکلیئر سائنسدان اور بھارت کے ایٹمی پروگرام کے خالق تھے۔ ڈاکٹر جہانگیر پنڈت لال جواہر نہرو کے معتمد ساتھی اور قریبی دوست تھے۔ ڈاکٹر عبد الکلام کو کون نہیں جانتا۔
ڈاکٹر عبد الکلام ان تینوں میں سب سے جونیئر تھے مگر سب سے زیادہ شہرت اور بین الاقوامی پذیرائی ڈاکٹر عبدالکلام کے حصے میں آئی۔ ڈاکٹر عبد الکلام بھارت کے میزائل اور سپیس راکٹ ٹیکنالوجی کے خالق اور بانی تھے۔ ہندوستان کے لئے تینوں سائنسدانوں نے اپنے اپنے شعبوں میں بھرپور کام کیا اور بھارت کو صف اول میں لا کر کھڑا کر دیا۔
یہ 1962 کی بات ہے بھارت نے چین سے شکست کھائی تھی اور پنڈت لال جواہر نہرو پر عوام کا بہت دباؤ تھا۔ ملکی معیشت بھی لڑ کھڑا رہی تھی۔ ایک شام تینوں سائنسدان ڈاکٹر وکرم کے سربراہی میں نہرو سے ملنے دہلی چلے گئے۔ ڈاکٹر وکرم بھارت کے پہلے خلائی شٹل کے لئے خصوصی گرانٹ منظور کروانا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر وکرم نے بھارت کے پہلے خلائی راکٹ کا خلا میں بھیجنے کا پروپوزل پیش کیا۔ نہرو نے پروپوزل کا بڑے غور و خوض کے ساتھ مطالعہ کیا مگر گرانٹ دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ بھارت ایک نوزائیدہ ریاست ہے اور ایک نوزائیدہ ریاست کو تعلیم، ڈیم، سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر جہانگیر نے نہرو کو خلائی تحقیق کے فوائد پر ایک زبردست لیکچر دیا اور پنڈت نہرو کچھ حد تک قائل ہو گئے اور پروپوزل کو میز پر رکھ دیا۔ نہرو نے تینوں سائنسدانوں کو کہا ٹھیک ہے میں تو مان گیا مگر اس کو کابینہ اور اسمبلی سے کیسے پاس کروائیں گے۔ کمرے میں سناٹا چھا گیا اور سب نے کہنیاں میز پر رکھ دی اور سوچنے لگے۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد نوجوان عبدالکلام نے کہا ”قومی سلامتی“۔ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، ڈاکٹر عبد الکلام نے کہا اگر ہم اس پروگرام کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑ لیں یا اس کو قومی سلامتی کے نام پر کابینہ کے سامنے رکھ دیں تو یہ آسانی سے پاس ہو جائے گا کیونکہ ہماری قوم جذباتی ہے اور قومی سلامتی کے نام پر وہ بغیر پوچھے اس کو قبول کرے گا۔ ایسا ہی ہوا وہ پروگرام کابینہ نے پاس بھی کیا اور گرانٹ بھی منظور ہوئی۔ آج قومی سلامتی پالیسی کy صحیح استعمال پر بھارت ہم سے میزائل، ایٹمی پروگرام اور خلائی تحقیق میں بہت آگے ہیں۔
اب ہم آتے ملک خداداد کی طرف جس وقت بھارت ایٹم بم بنا رہا تھا اور خلا میں راکٹ بھیج رہا تھا عین ایسی وقت ہمارا ایوب خان محلاتی سازشوں میں اور حکومت بنانے گرانے میں مصروف تھا۔ قومی سلامتی کے نام پر ہم نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا قومی سلامتی کے نام پر ملک کے دو ٹکڑے کر دیے۔ قومی سلامتی کے نام پر منتخب حکومت پر شب خون مار دیا، قومی سلامتی کے نام پر آئین کو بار بار پامال کر دیا قومی سلامتی کے نام پر باوردی جرنیلوں نے 30 سال سے زیادہ حکومت کی، قومی سلامتی کے نام پر سیاستدانوں کے نازک اعضاء کاٹ لئے، قومی سلامتی کے نام پر صحافیوں کو گولیاں ماری، جیل بھیج دیا اور ان کو بیروزگار کر دیا۔
قومی سلامتی کے نام پر الیکٹڈ ایم این اے کو جیل بھیج دیا۔ ناپسندیدہ سیاستدانوں کو بغاوت کے مقدمات میں جیل بھیج دیا۔ ملک خداداد میں پروفیسر اور طالب علموں کو اغوا کرو ان پر تشدد کرو اور پھر ان کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑ لو۔ قومی سلامتی کے نام پر ججوں کی تذلیل، قومی سلامتی کے نام پر اعلی افسران کو بغیر کوئی جرم کیے جیل ۔ قومی سلامتی کے نام پر اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کی پالیسیاں بناتی ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر اپنے ہی ہے ملک کے لاکھوں لوگ مروائے قومی سلامتی کے نام پر ملک کی طاقتور شخصیت اپنا ڈاکٹرائن بنا کر ملک پر لاگو کرتی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی وہ ہے جو پوری ملک کو منظور ہو۔ خدارا قومی سلامتی کا چورن مزید نہ بیچیں۔

