یہ ”دعا زاد“ ہے
دعا زاد نسل نو کے قابل قدر اور جدید غزل گو شاعر لطیف ساجد کی پہلی تخلیق ہے۔ لطیف ساجد حافظ آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور پاک فوج میں ملازمت اختیار کر رکھی ہے۔
لطیف ساجد نے غم جاناں کے ساتھ ساتھ غم دوراں کو بھی قلمبند کیا ہے اور روز مرہ زندگی کے مسائل کو شاعری میں اجاگر کیا ہے۔ کئی ادبی رسائل میں وقتاً فوقتاً ان کا کلام چھپتا رہتا ہے۔ ان کے بہت سے اشعار کتاب کی اشاعت سے قبل ہی زبان زد عام ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل شعر جو کہ خاصا معروف ہوا بلکہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے :
ہمارے پیروں میں بیڑیاں ہیں ملازمت کی
ہمارے وعدے ہمارے چھٹی سے منسلک ہیں
سوشل میڈیا کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ایسے رخشندہ ستاروں سے روشناس کرواتا رہتا ہے۔ کتاب ہاتھ میں آئی تو اسی بہانے لطیف بھائی سے رابطہ ہو گیا۔ آپ صرف نام کے لطیف ہی نہیں بلکہ اسم با مسمی ہیں۔
لطیف شعر کہنے کے سلیقے سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے کلام میں ہر وہ شعری خصوصیت ہے جو کسی بھی اچھے اور معیاری کلام میں ہونی چاہیے۔ شعروں میں ایسی چاشنی اور کشش پائی جاتی ہے جو قاری کو گرفت میں لے لیتی ہے۔
زیادہ مشکل اور گنجلک الفاظ کی بجائے سادہ الفاظ اور عام فہم زبان کے استعمال سے لطیف ساجد کا کلام مزین ہے جو اسے مزید خوبصورتی عطا کرتا ہے۔ ان کے شعروں میں قدرتی جھلک دیکھنے میں آتی ہے۔ سمندر، دریا، زندگی، بھوک، تعلیم، ملازمت، دشت، چاند، جھیل اور اشک جیسے الفاظ کا استعمال اس طرح ہوا ہے کہ قاری شاعر کی مہارت کی داد دیے بنا نہیں رہ سکتا۔
وہ جدید دور کے شاعر ہیں مگر جدت کے مسائل کو سمجھتے ہیں لہذا اسے ایک حد تک قبول کرتے ہیں۔
جیسا کہ ان اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ایسی جدت کی نہ توفیق خدا دے مجھ کو
جس کا احساس تغزل ہی بھلا دے مجھ کو
ہر سوچ بے لباس ہو ہر لفظ بے لحاظ
شعر و سخن کو اتنی بھی جدت نا دیجئے
جدید طرز کا چہرہ بہت بھیانک ہے
قدیم شہر کی رسموں کے خال و خد میں رہو
ان کے شعر میں للکار، بغاوت اور احتجاج کا عنصر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
چیختے رہیے کہ اس دشت بلا میں شاید
کوئی آواز کسی کان سے ٹکرا جائے
غلام سوچ کی بابت بری لگے گی تجھے
ہمارے رسم بغاوت بری لگے گی تجھے
دریاؤں سے باغی ہو کر میرے گھر تک آ پہنچا ہے
حاکم تیری فوج کہاں ہے پانی سر تک آ پہنچا ہے
شجر کے سامنے جھکتا نہیں ہوں
مسافر ہوں تھکا ہارا نہیں ہوں
اکٹھا کر رہا ہوں لشکروں کو
تمہیں للکار کر بیٹھا نہیں ہوں
آخر میں چند اشعار کا انتخاب پیش ہے۔
ہم اہل مصر نہیں ہیں حضور سندھی ہیں
ہمارے قحط کی میعاد سات سال نہیں
بھوک تازہ ہوا میں رہتی ہے
گاؤں میں اور کیا وسائل ہیں
آدمی ہر قدم پہ مرتا ہے
آگہی میں بڑے مسائل ہیں
ہم خرابوں میں ایک خوبی ہے
ہم مصیبت میں کام آتے ہیں
لے آیا ہے میلے سے بھی دو وقت کی روٹی
مزدور کے بچے نے کھلونے نا خریدے
کتنے سادہ ہیں فقیروں کے عقیدے ساجد
دیکھ لینے کو ملاقات سمجھ لیتے ہیں
اسی لیے کسی تقریب میں نہیں جاتے
اداس لوگوں پہ جچتا نہیں خوشی کا لباس
یہ رنگ و نسل، قبیلہ ہے بعد کا قصہ
کہیں بھی پہلا تعارف ہے اجنبی کا لباس
ڈگریاں باپ کو مقروض کیے جاتی ہیں
جیسے تعلیم تو اس دور میں زیور ہی نہیں
اے خدا اپنے فقیروں کو سلامت رکھنا
ان کی چوکھٹ پہ کئی تخت نشیں ملتے ہیں
یہ سہولت ہے فقط نیند کے دوران مجھے
آنکھ کھلنے پہ کہاں خواب نشیں ملتے ہیں
تجھے شعور نہیں ہے مری غلامی کا
میں بھوک کاٹ کے نعرے بھی مار سکتا ہوں
لب ہلے، خوف سے توبہ کی صدا پھوٹ پڑی
ہم خدا بھول چکے تھے کہ وبا پھوٹ پڑی
صرف اک دانۂ گندم سے خدا نے روکا
اور اس خاک کے پتلے سے خطا پھوٹ پڑی
میں نے جانے کے لیے بیگ اٹھایا ساجد
ماں کے ہونٹوں سے حفاظت کی دعا پھوٹ پڑی
حق کی جانب ضمیر کھینچتا ہے
حر کو درس غدیر کھینچتا ہے
ایسے دریا کی بے بسی ہوں جو
سرحدوں کی لکیر کھینچتا ہے
کناروں پر کھڑے دیکھے ہیں میں نے
ترے جیسے بڑے دیکھے ہیں میں نے
ترے احباب کی اگلی صفوں میں
ترے قاتل کھڑے دیکھے ہیں میں نے
زندہ رکھتی ہے الفاظ کی خوشبو صدیوں
شعر انسان کو فانی نہیں ہونے دیتا


