زرداری وزیراعظم، پرویز الٰہی وزیراعلیٰ، نواز لیگ کو کیا ملے گا؟


آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عدم اعتماد تحریک آئے گی یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟

پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے۔ تینوں کو یہ نظام انگلینڈ سے وراثت میں ملا جہاں پہلی کامیاب تحریک عدم اعتماد 1742 میں پیش ہوئی۔ اس وقت سے اب تک برطانیہ میں اکیس مرتبہ یہ تحاریک کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ لیکن پچھلے ایک سو پچیس سال میں ایک کامیابی 1924 اور دوسری مارگریٹ تھیچر کی پیش کی ہوئی قرارداد کو 1979 میں ملی۔ آخری تحریک 2019 میں تھریسا مے کے خلاف پیش کی گئی جو کہ ناکامی سے ہمکنار ہوئی۔

بنگلہ دیش کے آئین میں ایسی کوئی تحریک پیش کرنے کی گنجائش موجود ہی نہیں۔

انڈیا میں لوک سبھا (ایوان زیریں ) کے کم از کم آدھے ممبران تحریک کو سپورٹ کریں تو اسے بحث کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔ جس کے بعد ووٹنگ میں اسے سادہ اکثریت سے منظور یا رد کیا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن اب تک تیس مرتبہ اس حق کو استعمال کر چکی ہے۔ اندراگاندھی کو پندرہ مرتبہ ایسی تحاریک کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے کسی کو بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ وی پی سنگھ اور دیو گوڈا کی مخلوط حکومتیں تھیں۔ اپنی پارٹی کے ووٹ بہت ہی کم تھے۔ اتحادی ساتھ چھوڑ گئے اور حکومتیں بری طرح پٹ گئیں۔ واجپائی کے خلاف تحریک صرف ایک ووٹ سے کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد اپوزیشن حکومت بنانے میں ناکام رہی اور قوم سے دوبارہ رائے لینے کا فیصلہ ہوا۔ الیکشن میں بی جے پی مزید طاقتور بن کر ابھری اور واجپائی تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہو گئے۔

پاکستان میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے کم از کم بیس فیصد ارکان کی حمایت لازمی ہے۔ ہمارے ملک میں بارہ میں سے نو مرتبہ اس حق کو سپیکرز اور ڈپٹی سپیکرز کے خلاف استعمال کیا گیا جن میں سے چار کو کامیابی نصیب ہوئی۔ وہ بھی اس لیے کہ وفاقی حکومتیں بھی اکثر ان کے خلاف ہو چکی ہوتی تھیں۔

وزیراعظم جونیجو سید فخر امام کے خلاف تھے۔ ’مرد مومن مرد حق‘ جہاد کی نیت سے خود میدان میں اترے اور کم از کم پچاس افراد کو اسمبلی تحلیل کرنے کی دھمکی دے کر فتح مبین حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

وزیر اعلیٰ ثناءاللہ زہری کے خلاف تحریک پیش ہوئی تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ یاد رہے کہ وہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی حمایت کھو چکے تھے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اور شوکت ترین وہ وزرائے اعظم ہیں جن کے خلاف اس ہتھیار کو آزمایا گیا۔ شوکت عزیز کا تعلق ہمارے ملک کے تاریک دور سے ہے ان کی بات کرنا مناسب ہی نہیں۔ محترمہ کے خلاف تحریک میں صدر غلام اسحاق خاں، وزیراعلیٰ نواز شریف، خفیہ ادارے کے میجر عامر، برگیڈیئر امتیاز (جن کو انعام کے طور پر بعد میں آئی بی کا سربراہ بنا دیا گیا) اور اسامہ بن لادن سب شامل تھے۔ چھانگا مانگا اور سوات کی منڈیاں سجائی گئیں۔

آپریشن مڈ نائٹ جیکلز کے تحت حکومت کے ارکان کو خریدنے کی کوشش کی گئی۔ ہمارے شہر شیخوپورہ کے حکومتی ممبر قومی اسمبلی محمد عارف اعوان نے حزب اختلاف اور خفیہ ادارے کے افراد کے ساتھ اپنی کئی ملاقاتوں کے دوران ہونے والی بات چیت کو ٹیپ کیا۔ ان ٹیپوں پر ان کو اور ان کے دو ساتھیوں کو حکومت کے خلاف ووٹ دینے کے لیے پچاس لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔

محترمہ کے خلاف تحریک پھر بھی ناکام ہوئی۔

پچھلے برس بی بی سی کو انٹرویو دیتے وقت وفاقی وزیر چوہدری نے اعلیٰ فوجی قیادت کے زیر اثر پالیسیاں بنانے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا، ”یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے نظام کا لازمی جزو ہے لیکن فیصلہ سازی کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی منتخب کردہ حکومت کی طاقت کا کم نہ سمجھا جائے۔“ اسی سے ملتے جلتے الفاظ مرتضیٰ وہاب کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر لگانے کے موقع پر بھی وفاقی حکومت کے ترجمان نے کہے تھے۔

وفاقی حکومت کی طاقت کا اندازہ پاکستانی سیاست دانوں اور اداروں کو یکم نومبر 1990 کو ہو گیا تھا۔ ریاست کے تمام ادارے اور صوبہ پنجاب کی حکومت مل کر بھی محترمہ کو شکست نہ دے سکے۔ اگرچہ محترمہ ملک کی مقبول ترین لیڈر تھیں اور تمام قسم کی سختیاں اور زیادتیاں برداشت کرتے ہوئے عوامی طاقت کے بل بوتے پر حکومت میں آئی تھیں۔ اس کے برعکس عمران خاں بیساکھیوں کے سہارے حکومت میں آئے ہیں۔ لیکن وہ بھی ایک مقبول لیڈر ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان کی مخالفت مشکوک ہے، ان کا سیاست میں عدم مداخلت کا دعویٰ جھوٹا ہے اور اپوزیشن کے پاس کوئی واضح پروگرام بھی نہیں۔ ان حالات میں عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب کرنا بہت مشکل کام ہے۔

مسلم لیگ نواز اس وقت اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہے اور اس تحریک کی کامیابی اور ناکامی کا ملبہ بھی اس کے کندھوں پر پڑے گا۔ افواہیں ہیں کہ اگلے وزیراعظم زرداری صاحب ہوں گے۔ پنجاب میں چوہدری کسی بھی صورت میں موجودہ تنخواہ پر کام کرنے پر راضی نہیں ہوں گے ۔ ان کے سرپرست بھی یہی چاہیں گے کہ ہما اب کی بار ان پر سایہ فگن ہو۔ تو پھر مسلم لیگ نواز کو کیا ملے گا؟

ناکامی کی صورت میں بدنامی۔ جس کے موجودہ حالات اور تاریخی تناظر میں امکانات کافی زیادہ ہیں۔

پھر نواز شریف جیسے کہنہ مشق سیاستدان نے اس کی حمایت کیوں کی ہے؟ شاید ان کا خیال ہے کہ ناکامی کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ پر بوجھ مزید بڑھے گا۔

کامیابی کی صورت میں اگلے ایک سال میں وہ اپنے مقدمات ختم کروانا چاہیں گے۔ ایک اور فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی حکومتی طاقت کے ساتھ پی ٹی آئی کے ووٹ توڑ کر اسٹیبلشمنٹ کو مزید کمزور کر دے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نواز شریف کمزور اور نا اہل عمران خان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کو قبول کر لیں گے جو کہ ایک مضبوط وفاقی پارٹی ہے اور اگلے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کے چوہدریوں کے ساتھ مل کر انہیں پریشان بھی کر سکتی ہے؟ یہ بھی یاد رہے کہ اگر حکومت زرداری صاحب کو ملے تو جوڑ توڑ کے بادشاہ کو عمران خاں بصد احترام قابل قبول ہوں گے ۔

Facebook Comments HS