خدا اور بھگوان کی جنگ


ہند و پاک کا مستقبل روشن ہو کہ یہاں کی ہر معیشت تباہی کے دہانے پہ آ سکتی ہے۔ مارڈرن ازم اور ترقی کے ہر میزان میں بڑی آسانی سے چھید کیا جاسکتا ہے، ہر عروج کو زوال آ سکتا ہے، لیکن خدا اور بھگوان کے کاروبار میں کو زوال آئے، یہ تصور ہی خوف زدہ کردینے والا ہے۔ دونوں کا بزنس اتنا ترقی یافتہ ہے کہ اسے کبھی ٹھپ ہونے کا خوف ہی نہیں۔ ہر مذہب کا ایک الگ خدا ہے اور ہر ایک کا ایک الگ بھگوان، اور ان میں سے ہر ایک کی علامتیں بھی ایک دوسرے سے کافی جدا گانہ۔

درویش کو یاد ہے کہ وبا کی وجہ سے جب ملک نے لاکھوں انسان کھو دیے تھے تو اس وقت بھی کسی نے یہی طنز کیا تھا کہ ’ہندوستان کے باشندگان پر مجھے افسوس ہے کہ ان کے تیرہ چودہ کروڑ دیوی اور دیوتا انہیں موت سے نہ بچا سکے۔ ‘ یوں تو ہمارے ملک میں بہت سارے بت پرست اور بت شکن لوگ رہتے ہیں مگر آزادی کے بعد سے بیشتر جنگیں محض دو جماعتوں کے بیچ ہی ہوتی آئی ہیں۔ وبائی دور کو گزرے کچھ زیادہ عرصے بھی نہ ہوئے ہوں گے، شاید کہ چودہویں کے چاند نے اماوس کی کالی رات کو ابھی محبت کی نگاہوں سے چوما بھی نہ ہو گا کہ ان کے بیچ ایک نئی جنگ پھر سے شروع ہو گئی ہے۔

ماضی قریب ہی کی بات ہے کہ کفر اور حق، دونوں ساتھ مل کر چلتے تھے۔ مندر سے بھجن کی گونج فضاء میں بازگشت کرتی تو مقدس اذان کی آوازیں اسے ایک دو لمحے کے لیے خاموش کر دیتی تھیں۔ ناگہانی طور پہ بھگوان نے محسوس کیا کہ نظام حکومت یوں ہی چلے تو ہمارا بیڑا غرق ہو جائے۔ اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ پیار، محبت، عشق، قومی یکجہتی اور انسان دوستی سب محض کہنے کی باتیں ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ بھی میری طرح کبھی نظر نہ آنے والا ایک واہمہ ہے۔ کیا بدھا نے نہیں کہا تھا کہ

’سنسار میں بڑا دکھ ہے اور یہاں انسان پیدا ہی اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ دکھ جھیلے۔ ‘

ہم جس نظام کے محرک ہیں، اس میں کوئی دکھ ہے نہ کوئی رنج و الم۔ یہ بھی کوئی نظام ہے؟ پھر جو ہوا اسے سمجھنے کے لیے آج سے پچھلے کچھ برسوں کا سیاسی جائزہ لیجیے تو خدا ہارنے لگا اور بھگوان نے فتح یابی کی خوشی منائی۔ خدا نے اپنے چیلوں کے ساتھ اتحاد کا نعرہ لگایا تو بھگوان وہاں بھی اڑ گیا۔ بگل پھونکی گئی، طلاق ثلاثہ، بابری مسجد اور این آرسی جیسی عظیم جنگیں ہوئیں اور خدا وہاں بھی چاروں شانے چت ہو گیا۔

درویش سمیت آپ احباب اب تک یہ جان گئے ہوں گے کہ ایک اسکول کے باہر بھگوان کے کچھ چیلوں نے بھگوان کے نام کا نعرہ لگایا تھا تو خدا کی ایک بندی خوف زدہ ہو گئی تھی اور خوف کے مارے اس نے بھی اپنے خدا کا نعرہ لگایا تھا۔ پہلے یہ ایک چھوٹا ہی واقعہ تھا مگر خدا کی ناقابل برداشت توجیہ سے اس واقعے نے بہت زور پکڑا ہے۔ یقیناً اس کی آگ آپ تک بھی پہنچی ہوگی۔ بقول بندگان خدا کے کہ خدا کی اس بندی کا نعرہ بھگوان کے سینکڑوں چیلوں پہ اتنا بھاری پڑا کہ خدا نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا اور کہا ’میری یہ ایک بندی، اس کی ایک روز کی زندگی ملالہ یوسف زئی کے سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ ‘ یہ کہنے والا خدا ہی ہے اور اسی نے اس بندی کی پانچ لاکھ روپے سے حوصلہ افزائی کی۔

حالاں کہ وہ بہادر لڑکی جو طالبانی تشدد کا شکار بھی ہوئی، زندہ بھی رہی۔ اور پھر وہ پوری دنیا کے لیے ایک برق رفتار ہرنی کی علامت بھی بن گئی۔ اس کا موازنہ اس بچی سے جس نے تشدد کی آنچ تک نہ برداشت کی ہو؟ خدا کے چیلوں کا یہ تماشا کس قدر مضحکہ خیز ہے، درویش یہ آپ پہ چھوڑتا ہے۔ درویش کے جی نے بے اختیار چاہا کہ ان میں کے ایک خدا سے کچھ سوال کیے جائیں کہ یہ آئیڈیا آپ کو کس نے دیا؟ اس بچی کے ساتھ تو کچھ بھی نہ ہوا تھا۔ برا تو نربھیا، آصفہ، گل ناز جیسی بچیوں کے ساتھ ہوا آپ نے ان کے خاندان کو کتنے پیسے دیے؟

’کچھ بھی نہیں، کیوں کہ ریپ ہوتے وقت انہوں نے ہمارا نعرہ نہیں لگایا تھا۔‘
خدا کا جواب آیا۔
’کیا وہ آپ کی بیٹیاں نہیں تھی؟‘
’نہیں نہیں وہ ہماری بھی بیٹیاں تھیں۔ ‘
’تو پھر ایسا کیوں؟‘
’وہ بے حجابانہ باہر کو آ نکلتی تھیں۔ ‘
’اور آصفہ کا کیا؟ کیا آصفہ کا قصور بھی بے حجاب ہونا ہی تھا؟‘
’نہیں۔ ‘
’کیا حجاب نہ کرنے والی بچیوں کے سر پہ آپ کو یہ لکھا نظر آتا ہے کہ وہ بے حیاء ہیں؟‘
’یقینا۔‘
’کیا کسی بے حیاء پر جب کوئی درندہ جھپٹتا ہے تو آپ کو دکھ نہیں ہوتا؟‘
’نہیں، کیوں کہ وہ بذات خود اس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ‘
’ملالہ سے نفرت کیوں؟‘
’کیوں کہ وہ ہمیں فرعون بتاتی ہے۔ ‘

یہ مکالمہ ان ہزار خداؤں میں صرف ایک خدا کا تھا، جن کے نزدیک سوائے ان کے چیلوں کے نوع انسانی کے تمام افراد سخت پلید اور کافر تھے۔ ان کے نزدیک صرف غیر مسلم ہی کافر نہیں تھے۔ دیوبندی خدا کے نزدیک بریلوی کافر، بریلوی کے نزدیک دیوبندی، دونوں کے نزدیک اہل حدیث کافر، تینوں کے نزدیک شیعہ کافر اور چاروں نے مل کر احمدیوں کو باہر کیا ہوا تھا۔ سیاست و ملت کی مٹی سے گوندھے گئے ایسے خدا آج بھی ہند و پاک کے ہر مسلمان کی زندگی میں ہیں۔

جب یہ مر جائے تو ان کے بندے ان کے بیٹے کو اپنا نیا خدا بنا لیتے ہیں۔ درویش اس خدا کی توہین نہیں کر رہا جو اپنے آپ میں ایک نورانی تخلیق ہے، ورنہ کیا پتا ایک جمہوری ملک میں اس کا قتل بھی پہ واجب اور فرض عین کے درجے میں آ جائے۔ تاریخی و سماجی زندگی کی بدتر سیاست کا ایک غیر منقطع سلسلہ رہا کہ یہاں ایک نہیں ہزاروں خدا تخلیق کیے گئے، بنائے گئے، پوجے گئے۔ اور بعد از تکمیل مفاد توڑ دیے گئے۔ اور کبھی کبھار تو خدا لفظوں میں نہانے لگا۔ حمایت علی شاعر کی یہ مسکراہٹ شاید آپ کو پسند آئے۔

ہر فتح میں نہاں کوئی گہری شکست ہے
معنی سے بے نیاز یہ لفظوں کا احترام
ہر بت شکن کے دل میں کوئی بت پرست ہے

خدا جب بھی اپنی جنگ ہار گیا تو اس نے جمہوریت کی آغوش میں پناہ لی۔ آئین و دستور ہند کی کتابوں کا بوسہ لیا۔ قومی یکجہتی کے نعرے بلند کیے۔ مگر اس کے قول و فعل کا کیا؟ خدا کے قول و فعل میں ہمیشہ تضاد نظر آیا۔ افغانستان جمہوریت سے اسلام کی شکل میں آیا، خدا خوش ہوا۔ کشمیری پنڈتوں کا قتل عام ہوا، خدا خوش ہوا۔ ہندوستان نے ہندو راشٹر کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا تو اسے جمہوری آئین سمیت امبیڈکر اور گاندھی یاد آئے۔

مگر یاد آنے سے بھلا کیا ہونے والا؟ خدا اور بھگوان کی وجہ سے انتہا پسندی کا جو زہر سماج میں پھیلتا آیا ہے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ جمہوریت کو زندہ ہونے کے لیے ابھی کافی وقت درکار ہے۔ کہ جب تک سماج میں غریب عقل مندوں کا وجود رہے گا خدا اور بھگوان کی جنگ میں جیت ہمیشہ شیطان کی ہوتی رہے گی اور تعجب خیز یہ کہ شیطان بھی انہی میں کسی ایک کا ماننے والا ہو گا۔

Facebook Comments HS