کس کا مذہب سچا ہے

میرا مذہب سچا ہے!
نہیں میرا مذہب سچا ہے!
اچھا یہ بتاؤ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ تمہارا مذہب بھی سچا ہو اور میرا بھی؟
نہیں یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ ایک ہی سچا ہے۔
اچھا تو پھر کون سا سچا ہے؟
میرا!
میرا کیوں نہیں؟
تمہارا اس لیے نہیں کیونکہ اس کے عقائد سمجھ سے بالاتر ہیں۔
یہ تو تمہاری سمجھ کی بات ہے اس میں مذہب کا کیا قصور؟
مجھے اگر میرے مذہب کے عقائد سمجھ آتے ہیں تو میرے لیے تو سچ ہوئے نا۔
اچھا تمہارے لیے سچ ہوئے تو کیا سب کے لیے سچ ہوئے؟
یہی سوال میرا ہے کہ اگر تمہارے لیے جھوٹ ہوئے تو سب کے لیے جھوٹ ہو گئے کیا؟
اچھا یہ بتاؤ اگر کل کو کوئی تمہیں قائل کر دے کہ تمہارا مذہب سچ نہیں تو کیا تم میرا مذہب قبول کرلو گے؟
تمہارا ہی کیوں، ہو سکتا ہے مجھے کوئی اور مذہب سچ لگے۔
ہاں اس بات میں دم تو ہے۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم دونوں اپنا مذہب چھوڑ کر کوئی اور مذہب اپنا لیں۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم دونوں کسی بھی مذہب کی پیروی کرنا چھوڑ دیں۔
اچھا چلو چھوڑو اس بات کو یہ بتاؤ کہ تم اپنے مذہب کی تعلیمات پر کس حد تک عمل کرتے ہو؟
سچ بتاؤں تو بہت کم عمل کرتا ہوں۔
اور تم؟
میرا بھی یہی حال ہے۔
حقیقت میں مجھے اپنے مذہب کی کچھ باتوں سے اختلاف ہے، کچھ کو دل نہیں مانتا اور کچھ کو دماغ نہیں مانتا۔
یہی الجھن میرے دل و دماغ کو بھی جکڑے رہتی ہے۔
لیکن ایک بات تو حقیقت ہے وہ یہ کہ تمہارا اور میرا مذہب انسانوں سے محبت کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں لگاتا۔
ہاں یہ تو ہے بلکہ غور کیا جائے تو کوئی بھی مذہب نفرت کا پرچار نہیں کرتا۔
تو پھر مذہب کے نام پر قتل و غارت کیوں ہوتا ہے؟
اس کا جواب تمہارے سوال ہی میں ہے، کیونکہ مذہب کے نام پر قتل و غارت ہوتا ہے، مذہب کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
بالکل درست کہا لوگ مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں اپنے مذموم عزائم پورے کرنے کے لیے۔
اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ اگر ہر کوئی اپنے مذہب پر حقیقی طور پر عمل کرے تو سب ایک دوسرے سے محبت کرنے لگیں گے۔
اور آخری بات، ہم دونوں کو ایک دوسرے کی عزت کرتے ہوئے اور ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے سچائی کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔

