ویلنٹائن ڈے اور ڈاکٹر زون کے سسرالی


یوں تو پاکستان میں لکھنے والوں کے لیے بے شمار مشکلات ہیں مگر ایک مشکل باقی سب مشکلات سے سوا ہے کہ لکھاری اپنی ذاتی اور خاندانی زندگی میں آنے والے غم اور خوشی کے واقعات کو اپنی تحریروں کا موضوع بنانے سے حتی المقدور گریز کرتا ہے۔ یہ اپروچ ہے بھی درست کیونکہ لکھاری کے قلم اور فکر کو ذاتی زندگی میں پیش آنے والے خوشگوار اور نا خوشگوار واقعات و حوادث کا اشتہار نہیں بننا چاہیے۔ اس کے قلم کو آپ بیتی کی جگہ جگ بیتی کا مظہر ہونا چاہیے مگر بعض واقعات ایسے یادگار، شاندار یا نا خوش گوار اور سوگوار ہوتے ہیں کہ انہیں صفحۂ قرطاس پر ثبت کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ان میں قارئین کے لیے خوب صورت پیغام ہوتا ہے۔ یہی سوچ کر ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے اپنے ذاتی اور گھریلو خوش گوار واقعات شیئر کر رہا ہوں تاکہ معاشرہ تصویر کا صرف ایک ہی رخ نہ دیکھے بلکہ دونوں رخ دیکھ کر کوئی نتیجہ اخذ کرے۔

ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کچھ تو ہماری افتاد طبع اور کچھ زندگی کے گو نا گوں و متنوع مسائل کی وجہ سے اس قدر گھٹن زدہ، افسردہ، پژمردہ اور تکلیف دہ ہو چکی ہے کہ کسی در دریچے سے اگر خوشی اور مسرت کی ہوا کا کوئی جھونکا اندر آتا ہے تو پورے جوش و خروش اور بھرپور انداز سے اس کا جشن منانا چاہیے۔

ہمارا ایک اور معاشرتی رویہ بہت عجیب و غریب ہے۔ وہ یہ کہ ہم غم و خوشی کے موقعوں پر رد عمل دینے کے حوالے سے افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ تفریح کے موقعوں پر ہم اکثر اوقات آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور جان گداز صدمات اور حادثات کے بطن سے بھی تفنن طبع اور تفریح کا عرق کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تفریح کے نام پر برباد کرنے کے لیے ہمارے پاس وافر وقت اور وسائل ہیں حالانکہ تفریح کی مقدار زندگی میں اتنی ہونی چاہیے جتنا کہ آٹے میں نمک ہوتا ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی ویلنٹائن ڈے کی۔ یہ دن کچھ عرصے سے ہماری زندگیوں میں بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس دن کو منانے کے حوالے سے بھی ہم افراط و تفریط اور انتہا پسند سماجی رویوں کے شکار ہو رہے ہیں۔ ایک طبقہ اس دن کے جشن کو لے کر بالکل ہی کھل کھیلنے کا قائل ہے جبکہ دوسرا انتہا پسند گروہ اس نام ہی کو گناہ، عریانی و فحاشی اور مادر پدر آزادی کی علامت سمجھ کر اس سے نفور ہے۔ یہ دونوں رویے انتہا پسندانہ ہیں۔

معتدل اور متوازن طرز عمل وہی ہے جو اسلام نے ہمیں دیا ہے۔ وہ یہ کہ ہم مذہبی، معاشرتی، سماجی حوالے سے ہر طرح کی خوشی اور کامیابی سے حظ اٹھا سکتے ہیں، بس اس میں دو چیزیں نہ ہوں۔ ایک شرک کا پہلو اور دوسری اخلاق باختگی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ویلنٹائن ڈے سماجی اور معاشرتی سطح پر ایک ایسا تہوار بن کر منصۂ شہود پر آیا ہے جس نے فاصلوں کو کم کر کے سماجی میل جول کے مواقعے فراہم کیے ہیں۔ رشتوں، ناتوں اور دوستیوں کو نئی جہت دی ہے۔ گھٹن زدہ اور مصروف زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرے ہیں۔ محبت اور اپنائیت کی خوشبو کو عام کیا ہے۔ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شامل ہونے کے حوالے سے نئے ذائقوں سے آشنا کیا ہے۔ گوں نا گوں مسائل اور بے چہرہ مصروفیات کے چنگل سے نکل کر چند لمحے ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

یہ ویلنٹائن ڈے راقم کے لیے اس لحاظ سے نہایت خوشگوار تاثر چھوڑ گیا کہ راقم کی دختر ڈاکٹر زون نعیم کے سسرالی اس کے لیے ڈھیروں تحفے تحائف لے کر اچانک غریب خانے پر تشریف لائے۔ اس موقعے پر یہ سرپرائز ہم سب کے لیے خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح تھا۔ (ڈاکٹر زون کا ابھی صرف نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی) تین دن بعد یعنی 18 فروری کو زون کی سالگرہ ہوتی ہے۔ وہ لوگ سترہ فروری کی شام ایک مرتبہ پھر سالگرہ کا کیک اور بہت سے تحفوں کے ساتھ تشریف لائے۔

ہمیں اس سرپرائز وزٹ پر بھی بڑی خوشگوار حیرت ہوئی۔ اس موقعے پر اچانک ایک اچھی خاصی پروقار اور شاندار تقریب سج گئی۔ ڈاکٹر زون نے سب کی موجودگی میں کیک کاٹا۔ سب نے کھایا پیا، کچھ لمحے ہنسی خوشی کے ایک ساتھ گزارے۔ دیکھا جائے تو یہ چھوٹی سی اور ننھی منی خوشی ویلنٹائن ڈے کی مرہون منت ہے۔ جب کوئی اپنا گلدستہ اور تحفے تحائف لے کر آپ کے ہاں پہنچتا ہے تو دراصل وہ واشگاف انداز میں اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ آپ میرے لیے بہت اہم، قیمتی اور گراں قدر ہیں۔

اسی لیے میں اتنی دور سے آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی وقت آپ کی نذر کروں۔ اگر زون کے سسرالی یہ پرت نہ کھولتے تو راقم شاید کبھی ویلنٹائن ڈے کے اس خوب صورت، رنگارنگ اور خوشگوار رخ سے آشنا نہ ہو سکتا۔ ویلنٹائن ڈے نے نفرت اور سفاکی کی سرزمین پر محبت اور اپنائیت کے زم زمے عام کیے ہیں تو ہمیں اس دن اور اسے دینے والوں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ شکریہ ویلنٹائن ڈے کہ جس نے اظہار کے نادر پیرائے اور محبت کے تازہ قرینے ارزاں کیے ہیں۔

Facebook Comments HS