مہنگائی سے جڑے قصے

بچپن میں بڑے بوڑھوں کے ساتھ نشست کا مزہ ہی اور ہوتا تھا۔ جہاں یہ لوگ آپ کو اپنے بچپن کے قصے سناتے ہیں وہاں روایات، ثقافت، ملکی حالات کے حوالے سے بھی دلچسپ باتیں سننے کو ملتی تھیں۔ جس میں سرفہرست تو اس وقت اور آج کل کی خوراکوں کے درمیان فرق اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تھیں۔ اب گھی کو ہی دیکھ لیں کہ میری تائی بتاتی تھیں کہ لوگ گاؤں سے مکھن اور دیسی گھی اکٹھا کر کے لے جاتے تھے اور اس کے بدلے بناسپتی گھی لے آتے تھے۔
آٹا ایک یا دو روپے کلو ہوتا تھا، چینی یا دیگر چیزیں بھی اسی بھاؤ ہی ملا کرتی تھیں۔ ایسے میں ہم بچے بیٹھ کر سوچا کرتے تھے کہ ہائے وہ کتنا اچھا دور تھا کہ جس میں سب سستا تھا، ماحول آلودہ نہیں تھا، گھی مکھن سب سستا اور آسانی سے مل جاتا تھا۔ ملاوٹ سے پاک چیزیں ہوتی تھیں، لوگ اچھے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے ہوتے تھے۔ مگر ہمارے پیارے راج دلارے عمران خان صاحب نے جہاں اس ملک اور عوام کے لئے انقلابی اقدامات کیے ہیں۔
وہیں ہمارے بچوں کو اس پچھتاوے سے بھی بچا لیا ہے جو بچپن میں ہمارے حصہ میں آتا تھا۔ اب تو بچے آ کر بتا رہے ہوتے ہیں چاچو میں چینی لینے جاتا تھا تو پچپن روپے گھر سے لے جاتا تھا پچاس کی چینی لے لیتا تھا اور پانچ روپے کی ڈنڈی مار کر کھانے پینے کی چیز لے لیتا تھا۔ گزشتہ دنوں کی ہی بات ہے کہ میرا بھتیجا اپنی والدہ سے روزانہ کا جیب خرچ دس روپے سے بڑھا کر بیس روپے کرنے کا تقاضا کر رہا تھا۔ اب بھابھی صاحبہ اس کو ڈانٹتے ہوئے یہ بھی جتلائی جا رہی تھیں کہ بیٹا ہمیں تو روزانہ کا جیب خرچ ملتا ہی نہیں تھا، جو ایک یا دو روپے ملتے تھے وہ بھی ہم سنبھال سنبھال کر کچھ لے لیتے تھے۔
تو بھتیجے نے فٹ سے جواب دیا کہ تب زمانے اور تھے، آج کل بیس روپے میں ملتا ہی کیا ہے؟ بات اس کی بھی سچ ہی ہے، ہمارے بچپن میں تو جس کے پاس دس یا بیس روپے ہوتے تھے۔ وہ ہمارے سب میں ایسے اکڑ کے پھرتا تھا کہ جیسے اس سے بڑا کوئی رئیس ہی نہیں ہے۔ ویسے قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ یہ باتیں کوئی سن 80 یا نوے کی نہیں ہیں بلکہ سن 2000 کے اوائل کی ہیں۔ خیر چھوڑیں اتنی پرانی باتیں، ابھی ایک ماہ پہلے کی بات ہی بتاتا چلوں کہ گھی تین سو اسی روپے میں لے کر آیا گزشتہ روز دکاندار کے پاس گھی لینے کے لئے جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے چار سو روپے دیے اور بقایا کے انتظار میں کھڑا تھا تو دکاندار نے نوٹ گن کر کہا بھائی پچیس روپے اور دیں تو میں ہکا بکا ہو کر اسے دیکھنے لگا کہ بھائی چند دن پہلے تو اتنے پیسوں میں لے کر گیا تھا اب پچیس روپے کس چیز کے، تو ٹھیٹھ پنجابی میں دکاندار نے انتباہ نما جواب دیا کہ اے امران خان (عمران خان) کے کرم ہیں، کچھ عرصہ بعد اس وقت کو بھی یاد کیا کریں گے کہ کیا سستا وقت تھا۔
اب رمضان سر پر ہے اور الحمدللہ ہم میں سے اکثر کے لئے تو یہ سیزن ہوتا ہے۔ ابھی سے گھی، دالیں آٹا چینی، فروٹس سٹاک ہونا شروع ہوچکے ہوئے ہیں۔ جس طرح کی یہ نا اہل حکومت ہے ایسے میں گھی آٹا چینی، دالیں، سبزیاں بھی لگتا ہے لائن میں لگ کر منہ مانگے داموں لینا پڑا کریں گی۔ قارئین آج کل ویسے بھی حکومت کو تنقید بالکل پسند نہیں ہے تو میں نے حتی الوسع کوشش کی ہے کہ قصے کہانیاں سنا کر ہی مہنگائی کا رونا رو لیا جائے۔
وگرنہ میرے جیسے کو تو ایف آئی اے یا پولیس نے اٹھایا تو کسی نے آواز تو کیا اٹھانی پوچھنا تک نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں صحافی وہ ہیں جو بڑے بڑے اینکر ہیں یا مالکان ہیں یا پھر پیسے والے ہیں۔ ہمارے جیسے کم تنخواہ کے رونے رونے والوں کو تو ویسے ہی صحافیوں کی حشرات الارض میں تصور کیا جاتا ہے۔ موقع کا فائدہ اٹھا کر میں جتوئی کے اپنے ایک قاری سے معذرت چاہتے ہوئے ان کا مسئلہ بھی بیان کرتا چلوں۔ وہ صاحب وین ڈرائیور ہیں اور التجا کر رہے تھے کہ مظفرگڑھ جتوئی قاتل روڈ پر بھی آواز اٹھائیں کیونکہ وہ خود اس روڈ کے متاثرہ ہیں ان کے چھوٹے بھائی اس قاتل روڈ کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔
میری صاحبان اقتدار سے گزارش ہے کہ خدارا ڈیرہ غازی خان تا روجھان انڈس ہائی وے قاتل روڈ کے ساتھ ساتھ مظفر گڑھ تا جتوئی جان لیتی روڈ کی فوری طور پر دو رویہ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اس تحریر میں حکومت یا خان صاحب کی شان میں کوئی گستاخی ہوئی ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں۔ ویسے بھی مہنگائی خطے میں سب سے (زیادہ) کم ہمارے ملک میں ہے۔ یہ سب تو بس مہنگائی سے جڑے قصے تھے، کبھی کبھی قصے سنانے اچھے ہوتے ہیں۔

