کیا کالج اور یونیورسٹی کے طلباء و طالبات بے حیا ہوتے ہیں؟


تعلیمی اداروں کے ساتھ افیئرز اور بے حیائی کو جوڑنا ہمارے ہاں ایک عام مشغلہ ہے۔ خاص طور پر ان اداروں پر بیہودگی کی مہر لگانا جہاں طلباء و طالبات ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایک (اپنے آپ کو خود عقل مند سمجھنے والے) شخص نے فرمایا کہ نوجوان نسل بے حیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک پیچھے رہتا جا رہا ہے اور برائیاں اتنی عام ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں نوجوان نسل کو بالکل بے بس اور معصوم نہیں کہہ رہی مگر آپ کی بات میں لاجک کم اور نئی نسلوں، نئے نظریات سے ”رٹی ہوئی“ نفرت زیادہ جھلک رہی ہے۔ پھر حضور کی آنکھیں کچھ کچھ سرخ ہو گئیں تو مجھے معلوم ہوا کہ بات شاید بری لگی ہے انھیں یا ان کا یوں کترانا ان کے اندر کے چور کا بھی بتاتا ہے۔

لاؤڈ اسپیکر پر خطبے سے لے کر کسی بھی کالج/ یونیورسٹی کے کلاس روم حتیٰ کہ ہر گھر میں یہی رٹے ہوئے نفرت بھرے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ نوجوان نسل بیہودہ ہے، بے حیا ہے اور ہم اپنے دور میں بڑے پارسا تھے وغیرہ وغیرہ۔

حضور۔ ہم نوجوانوں کو پارسا نہیں کہہ رہے بس آپ کی توجہ کچھ نکات کی جانب موڑنا چاہتے ہیں۔ کچھ وقت کے لیے یہ پارسائی کا ہیلمٹ اتاریے اور انسان کے طور پر سوچیے! شاید اندر سے آپ کی انسانی کھوپڑی بچی ہی نہیں بس یہ پارسائی اور ٹن کا بنا ہیلمٹ ہی ہے۔ کیسے اتار سکتے ہوں گے آپ اس کو؟

چلیں رہنے دیں۔ ایسے ہی بات کر لیتے ہیں!

ویسے ہیر رانجھا تو آپ سے پہلے والے پارساؤں میں بھی بڑی مقبول تھی۔ شاید ان کے پاس آپ جیسے ہیلمٹ نہیں تھے اور اگر ہوں گے بھی تو شاید کھوپڑی بھی موجود تھی۔

یہ بتائیں کہ محبت اور بے حیائی دونوں مترادف ہیں کیا؟

اور اگر بے حیائی کی ہی بات ہے تو کیا ہے یہ ”بے حیائی“؟ کیوں اپنی باقی سب غلاظتوں کو بھی نئی نسل کے کندھوں پر اسی جرم کی سزا میں تھوپ رہے ہیں؟ ڈریں اس وقت سے جب یہی نئی نسل جس کو آپ ہر وقت گندا کرتے رہتے ہیں ”احتساب“ کے نام پر آپ کا گریبان پکڑ لے اور پوچھے آپ سے کہ اجنبیوں کو آپس میں باندھ دینا اور بچوں کی قطار کی توقع رکھنا بے حیائی نہیں؟ ایک بچہ پیدا کرنا اور روٹی، کپڑا مکان دے کر اس کی زندگی کا ریموٹ پکڑتے ہوئے بھول جانا کہ وہ انسان ہے۔ اس کی جذباتی ضروریات کو نظرانداز کرنا بے حیائی نہیں؟ اس نوجوان کو بچپن سے اتنا خوفزدہ کر دینا کہ وہ آپ سے اپنی ناکامی کے تذکرے کی بجائے خود کو نقصان پہنچانا اور مرنا گوارا کرے۔ یہ بے حیائی نہیں؟

نہیں نہیں۔ میں نوجوانوں کی ایسی بغاوت کی حامی نہیں ہوں کہ وہ آپ کو گریباں سے پکڑ لیں۔ بہت چوکنا کر رہی ہوں کہ یہ بھی ہو سکتا ہے!

حضرت۔ کیا یہ آپ نہیں جو نوجوانوں سے وہ تمام توقعات بھی وابستہ کرتے ہیں جو آپ کبھی اپنی زندگی میں کر نہیں سکے تھے؟ آپ بڑے وکیل بننا چاہتے تھے تو بغیر اس کی مرضی کے لگا دیا اپنے بچے کو اسی بتی کے پیچھے۔ بچے کا شوق اور جذبہ؟ نہیں نہیں۔ آپ کو کیا غرض! آپ فلانے خاندان سے اچھے تعلقات استوار کرنا چاہتے تھے۔ کر دیا رشتہ اپنے بچے کا۔ بچے کی رضا، اس کی محبت؟ نہیں۔ آپ کا وہ کام نہیں!

آپ کا کام صرف روٹی کپڑا مکان دینا ہے اور اس سے بھی بڑا کام اپنے بچے کی زندگی کو ہر طرح سے کنٹرول کرنا ہے اور اس بات کا خاص خیال رکھنا کی کہیں ہلکا سا بھی کوئی شوق یا جذبہ باقی نہ رہنے پائے۔

آپ کے یہی محبت اور جذباتی لگاؤ کے ترسے ہوئے بچے جب ذرا جوان ہوتے ہیں تو گھر سے باہر محبت ڈھونڈتے ہیں۔ تعلیمی ادارے اس وجہ سے زیادہ بدنام ہو جاتے ہیں کیونکہ وہاں ایسے جذباتی طور پر ان۔ سٹیبل طلباء و طالبات کی تعداد کافی ہوتی ہے۔ اکثر کے ہی انتخاب درست ثابت نہیں ہو پاتے کیونکہ آپ نے کبھی پیار سے اچھے برے لوگوں کی تمیز سکھائی ہی نہیں تھی۔ بس پابندیاں ہی تو لگائی تھیں۔

گزارش یہ ہے کہ نوجوانوں کو بیہودہ اور بے حیا کہنے سے پہلے کچھ اپنے کردار پر بھی نظر ڈال لیں۔ یہ جس کو آپ کالی کرتوتیں کہتے ہیں ناں ان میں بہت سی سیاہی تو آپ کی نظر اندازی اور بے جا سختی نے بھر دی ہے۔ غیر مستحکم تعلقات میں ناکامی بہت سے لائق فائق طلباء و طالبات کے کریئر پر بہت برا اثر ڈالتی ہے۔ مگر۔ آپ کو کیا غرض آپ نے تو ”نوجوانوں میں بے حیائی“ کا رٹا لگایا ہوا ہے۔

آپ جو انسان کے بچے کو ایک گوشت کے ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے بنیادی کچھ ضروریات مہیا کر کے اس پر راج کرنے لگتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ کچھ جذباتی ضروریات بھی ہوتی ہیں۔ آپ کو کیا کہا جائے؟

Facebook Comments HS