پی ایس ایل 7: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کراچی کنگز کے خلاف 23 رنز سے فتح
دو اوورز باقی تھے اور کراچی کنگز کو 13 گیندوں پر 38 رنز درکار تھے اور ان کی چھ وکٹیں بھی باقی تھیں مگر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بولرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت کراچی کنگز کو 23 رنز سے شکست دے دی۔
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے اپنے آخری لیگ میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقرررہ 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 166 رنز بنائے۔
گلیڈی ایٹرز کو پہلا نقصان تیسرے اوور میں 21 رنز پر ہوا جب شنواری کی گیند پر وِل سمید آؤٹ ہوئے، انھوں نے صرف دس رنز بنائے۔ لیکن ان کے ساتھ موجود اوپنر جیسن روئے نے جم کر کھیلا یہاں ان کا ساتھ جیمز ونس نے دیا اور دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے دوسری وکٹ کے لیے 90 رنز کی شراکت قائم کی۔
ممجموعی سکور 111 تھا اور 13واں اوور چل رہا تھا کہ جیمز کو گریگرے نے آؤٹ کر دیا وہ 29 رنز بنا پائے۔ ابھی گلیڈی ایٹرز اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ گزشتہ میچ میں تیز رفتار نصف سنچری بنانے والے عمر اکمل اگلے ہی اوور میں صرف دو رنز بنا عماد وسیم کا شکار ہوئے۔
آخری اوور میں امیر حمزہ کی گیند پر اوپنر جیسن روئے آؤٹ ہوئے۔ انھوں نے 11 چوکوں کی مدد سے 82 رنز بنائے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹر نے مقرررہ 20 اوورز میں 166 رنز بنائے اور کراچی کنگز کو میچ جیتنے کے لیے بظاہر ایک آسان 167 رنز کا ہدف دیا۔ کوئٹہ کے سکور میں ایک بڑا حصہ جیسن روئے کا تھا۔
کراچی کنگز کی جانب سے عماد وسیم، میر حمزہ، عثمان شنواری اور لوئس گریگوری نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
کراچی کنگز نے ہدف کے تعاقب میں اننگز کا اچھا آغاز کیا اور کنگز کے اوپنرز نے گزشتہ میچوں کی نسبت اس مرتبہ اپنی ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کرتے ہوئے 87 رنز کی شراکت قائم کی۔ لیکن میچ ان کے ہاتھ سے آخری پانچ اوورز میں نکل گیا۔
کنگز کو پہلا نقصان اس وقت پہنچا جب بابر اعظم 34 گیندوں پر 36 رنز بنانے کے بعد خرم شہزاد کی وکٹ بن گئے۔
یہ بھی پڑھیے
ملتان سلطانز کی جیت کا سفر جاری، ’یہ رضوان کی لیگ ہے اور ہم بس اسی میں جی رہے ہیں‘
پی ایس ایل: ملتان کو ایک بار پھر کوئی نہ روک سکا، زمان خان نے آخری اوور میں قلندرز کو جتوا دیا
’سلطانز کو اب آسٹریلیا ہی آ کر ہرائے، پی ایس ایل ٹیموں کے بس کی بات نہیں لگ رہی‘
شرجیل خان نے آتے ہی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے دو چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 16 رنز بنائے لیکن خرم نے انھیں بھی چلتا کر دیا۔ کراچی کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب مزید دو رنز کے اضافے سے نصف سنچری بنانے والے جو کلارک محمد عرفان کی بولنگ پر وکٹیں محفوظ نہ رکھ سکے، انھوں نے 39 گیندوں پر 52 رنز بنائے۔
اس کے بعد کراچی کا کوئی بھی بلے باز گلیڈی ایٹرز کے بولرز کی نپی تلی بولنگ کے سبب کھل کر بیٹنگ نہ کر سکا اور ایک ایک کر کے سب وکٹیں گنواتے رہے۔
قاسم اکرم نسیم شاہ کی گیند پر سمیڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، انھوں نے مجموعی سکور میں نو رنز کا اضافہ کیا۔ 17واں اوور بغیر کسی ہٹ کے گزر گیا اور 18ویں اوور میں بھی نسیم نے روحیل نذیر کو آؤٹ کر دیا۔
اب میچ کا پانسہ تو پلٹ ہی چکا تھا۔ لیکن خرم نے شاندر بولنگ کرتے ہوئے گریگرے اور لیمن بے کو بولڈ کیا۔ اس وقت کراچی کنگز کا سکور 139 تھا جبکہ ہدف 167 تھا۔ آخری اوور کی پہلی بال پر گنگز کی آٹھویں وکٹ بھی گر گئی۔
20 اوورز میں کراچی کنگز ہدف کے تعاقب میں صرف 143 رنز ہی بنا سکی اور یوں کوئٹہ کو کراچی کے خلاف 23 رنز سے کامیابی مل گئی۔
مین آف دی میچ کا ٹائٹل خرم کو ملا جنھوں نے چار اوورز میں 22 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔
آج خرم نے گلیڈی ایٹرز کی جانب سے دوسرا میچ کھیلا اور مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے انھوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’جب بھی کھیلا ہوں اللہ نے عزت دی ہے۔‘


