تحریک اعتماد کا ”خطرناک“ کھیل
سیاسی حلقوں میں پچھلے دو ہفتوں سے وزیر اعظم کے خلاف ”تحریک عدم اعتماد“ کا شور شرابا سننے میں آ رہا ہے تاحال صورت حال واضح نہیں سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا لیکن جس تیز رفتاری سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے حکومتی اتحادیوں سے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے آنے والے دنوں میں کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا عدم اعتماد کا ”خطر ناک“ کھیل جہاں حکومت کی چھٹی کرا سکتا ہے وہاں ناکامی کی صورت میں اپوزیشن کی سیاست کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے اب تو پی ڈی ایم میں ”عقاب“ بھی یہ خطرناک کھیل کھیلنے کی حمایت کر رہے ہیں مریم نواز بھی کہہ رہی ہیں ہیں موجودہ حکومت سے نجات دلانے کے لئے ہمیں تحریک عدم اعتماد کا رسک لینا چاہیے شہباز شریف نے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے کمیٹی قائم کر دی ہے کمیٹی ناراض حکومتی ارکان سے تحریک عدم اعتماد میں تعاون بارے بات چیت کرے گی پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی جنہوں ابھی تک اپنی مٹھی نہیں کھولی نے کہا ہے سیاسی بادل جلد چھٹ جائیں گے اور مطلع صاف ہو جائے گا جب کہ ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے کہہ دیا ہے حکومت کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے تمام آپشن اوپن ہیں بظاہر وزیر اعظم اپنی ”باڈی لینگوئج“ سے مشکل صورت حال میں مطمئن دکھائی دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی حکومت کا ”تختہ“ الٹنے کی کوشش پر خاموش بیٹھے نہ رہ سکے ان کے حالیہ بیانات ”گھبراہٹ“ کا اظہار کر رہے ہیں
غالباً 2009 کی بات ہے ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کو قریب تر کرنے اور چوہدری برادران اور شریف خاندان کے درمیان فاصلے ختم کرنے کے لئے جاتی امرا میں ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا لیکن چوہدری نثار علی خان نے چوہدری برادران اور اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثر کے درمیان خفیہ ملاقاتوں کے بعد ظہرانہ ہی منسوخ کروا دیا جس کے بعد چوہدری برادران اور شریف خاندان جو کبھی ایک دوسرے کی طاقت کا باعث تھے کے درمیان ایسی خلیج حائل ہوئی جسے کئی سال تک عبور نہیں کیا جا سکا لیکن سیاسی منظر ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کی خواہش نے میاں شہباز شریف کو 14 سال بعد جرات مندانہ اقدام کر نے پر مجبور کر دیا ان کے اس اقدام سے دونوں اطراف برف ضرور پگھلی ہے طویل جدائی ختم ہونے کے بعد شہباز شریف اور چوہدری پرویز الہی نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔
اس ملاقات میں کیا زیر بحث آیا فی الحال شہباز شریف کچھ بتانے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی چوہدری برادران کی طرف سے کوئی بات سامنے آئی ہے جو بڑی خبر بن سکے چوہدری برادران سے عمران خان کے سیاسی مخالفین کی ہونے والی ملاقاتوں پر بنی گالہ کے ”مکین“ نے ضرور تشویش کا اظہار کیا ہے اس تشویش کو دور کرنے کے لئے چوہدری برادران نے وفاقی وزیر آبی وسائل چوہدری مونس الہی کے ذریعے جو پیغام بھجوایا گیا اس سے وزیر اعظم عمران خان کا حوصلہ بڑھا ہے چوہدری مونس الہی نے نپے تلے الفاظ میں کہا کہ ”گھر آنے والوں کو ملنا اور انہیں خوش آمدید کہنا ہمارا کام ہے ہم سیاسی لوگ ہیں، وزیراعظم اپنے ساتھیوں سے بھی کہہ دیں گھبرانا نہیں۔ سیاسی لوگ تعلقات بناتے اور نبھاتے ہیں”۔
چوہدری مونس الہی نے بین السطور وزیر اعظم کو چوہدری برادران کا پیغام تو پہنچا دیا لیکن دو ٹوک الفاظ میں یہ بات کہنے سے گریز کیا ہے کہ“ موسم گرم ہو یا سرد ان کی جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے ”چوہدری برادران کی طرف سے وزیر اعظم کو نہ گھبرانے کا جو مشورہ دیا گیا ہے اس سے ان کا مورال بلند ہوا ہے جس کے بعد وزیر اعظم نے بھی چوہدری مونس الہی کی تقریر کے جواب میں کہا ہے کہ“ گھبرائی ہوئی اپوزیشن کو ایک دم چوہدری شجاعت کی صحت کا خیال آ گیا چوہدری شجاعت حسین بہترین انسان ہیں اور ان کا سیاست کا بہترین تجربہ ہے ہمیں مسلم لیگ (ق) اور چوہدری برادران پر پورا اعتماد ہے ”انہوں نے کہا ہے کہ“ مونس الہی کام کو جہاد سمجھ کر کر رہے ہیں ”وزیر اعظم کی طرف سے اپوزیشن رہنماؤں کی سرگرمیوں کا نوٹس لینے سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ وہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں سے غافل نہیں لیکن پریشان ہیں
”تحریک عدم اعتماد“ کے ”غلغلہ“ میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی طرف سے الگ الگ شروع ہونے والے ”لانگ مارچ“ قدرے پس منظر میں چلے گئے ہیں اپوزیشن جماعتوں نے اپنی تمام تر توجہ ”تحریک عدم اعتماد“ کی کامیابی پر مرکوز کر دی ہے اس وقت اپوزیشن جماعتوں کی اولیں ترجیح تحریک عدم اعتماد بن گئی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دوسری بار سٹنگ پرائم منسٹر کے خلاف لائی جا رہی ہے اسی طرح کی ایک تحریک عدم اعتماد بے نظیر بھٹو کے خلاف لائی گئی تھی اس وقت کے صدر غلام اسحق خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کی تائید کے باوجود ناکام ہو گئی یہ تحریک اپوزیشن کے ہاتھوں ہی پیش ہونے سے پہلے ناکام بنا دی گئی
میرا صحافتی تجربہ ہے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتے دیکھی تو وہ اپوزیشن کے ہاتھوں شکست قبول نہیں کریں گے بلکہ قومی اسمبلی تحلیل کرنے پر ترجیح دیں گے اس کے لئے انہوں نے فیصلہ کر رکھا ہے پنجابی کی کہاوت ہے ”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیواں گے (کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے“ یعنی ”گتھی“ کو ہی خراب کر دیں گے اپوزیشن کو عمران خان کی جانب سے ہر ممکن اقدام کی توقع ہے عمران خان کی یہ دھمکی کہ انہیں اقتدار سے نکالا گیا تو وہ اپوزیشن کے لئے خطر ناک ہوں گے ” اپوزیشن کے پیش نظر ہے
قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی ہیئت ترکیبی کچھ اس طرح بنائی گئی ہے کہ دونوں اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی حکومتیں اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہیں اس لئے پی ٹی آئی پاکستان مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور باپ کے ناز نخرے اٹھانے پر مجبور ہے ان کی ناراضی مول لینا افورڈ نہیں کر سکتی پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کچھ اضلاع میں پوری طرح با اختیار بنا دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ق) گاہے بگاہے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر کے اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہے تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں جہاں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے اور ملاقاتیں ہو رہی ہیں وہاں حکومت کی اتحادی جماعتوں کو راضی رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تحریک عدم اعتماد بارے میں اپوزیشن کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے مسلم لیگی قیادت سے ناراضی کے باوجود جہاں آصف علی زرداری شہباز شریف کے ہاں حاضری دینے پہنچ گئے وہاں آصف علی زرداری نے چوہدری برادران سے تحریک عدم اعتماد میں مدد مانگ لی ہے
کہا جا رہا ہے شہباز شریف کی 14 سال بعد چوہدری برادران سے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد بارے کوئی بات نہیں کی البتہ اس ملاقات میں دونوں اطراف پائی جانے والی ”سرد مہری“ کا ”گرمجوشی“ میں تبدیل ہونا ہی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے ۔ ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علما اسلام کی قیادت بھی چوہدری برادران اور مسلم لیگی قیادت سے ملاقات کر چکی ہے ان ملاقاتوں کے نتیجہ تاحال کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی چوہدری برادران میدان سیاست کے تجربہ کار شہسوار ہیں انہوں نے ان رابطوں اور ملاقاتوں کے نتیجے میں کوئی بات منظر عام پر نہیں لائی ان کی طرف سے مکمل خاموشی سے یہ ظاہر ہوتا ہے وہ دیگ میں ”کھچڑی“ پکنے کا انتظار کر رہے ہیں کسی کو کچھ علم نہیں کہ انہوں نے ”سوالیوں“ کے دامن میں کچھ ڈالا بھی ہے یا خالی ہاتھ واپس بھیج دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں سے ملاقاتوں کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس مرکزی سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ کی زیرصدارت منعقد ہو چکا ہے جس میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی، سینیٹر کامل علی آغا اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد مختصر اعلامیہ جاری کیا گیا کہ تمام ارکان اسمبلی نے چودھری پرویزالٰہی کو فیصلوں کا اختیار دے دیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی و ناکامی میں جہانگیر ترین گروپ کا بڑا رول ہو گا۔

