این جی مجمدار قتل کیس، ایک معمہ

برصغیر کے آثار قدیمہ کے معروف ماہر، قدیم سندھ کے ایکسپلورر اور کتاب ’ایکسپلوریشنس ان سندھ‘ کے مصنف نونی گوپال مجمدار المعروف این جی مجمدار دراصل بنگالی تھے۔ موہنجو دڑو کی دریافت کے بعد انگریز سرکار نے 1926 ء میں اسے سندھ میں مزید کھوج کے لیے بھیجا اور اس نے وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کے 63 قدیم مقامات دریافت کیے ۔
این جی مجمدار نے وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی کھوج دو حصوں میں کی تھی۔ پہلی بار 1926 ء سے 1930 ء تک کی اور اس نے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے بہت قدیم مقامات دریافت کیے ۔ جن میں کاہو جو دڑو، چانہیوں جو دڑو، کوٹ ڈیجی، روہڑی، لوہم جو دڑو، واہی پاندھی کے ٹیلے، غازی شاہ دڑو، گورانڈی کے ٹیلے، جھکر کے ٹیلے، علی مراد دڑو، ٹنڈو رحیم ٹیلہ، منچھر جھیل کے کناری پیر لاکھیو دڑو، پیر مشاخ، لہڑی، ٹہنی کے ٹیلے، نئیگ وادی میں لکھمیر کا ٹیلہ، آمری تہذیب کے ٹیلے، سندھ کے کوہستان میں ڈمب بھٹی، مول اور باران برساتی ندیوں میں آثار، سندھ ضلع ٹھٹہ میں واقع تھارو پہاڑی کے آثار اور سیہون کے قریب جھانگارا قدیم آثار ذکر لائق ہیں۔
مذکورہ مقامات میں سے اس نے ہڑپہ یا موہنجودوڑو کی تہذیب یا اس سے بھی قدیم تہذیب کے آثار دریافت کیے ۔ اس نے ان مقامات پر کئلکولیتھک دور کے آثار، میسوپوٹیمیا اور سمیرین تہذیب کے علاوہ بلوچستان کی نال اور دوسری تہذیبوں کے آثار بھی معلوم کیے جو اس کی کتاب ’ایکسپلوریشنس ان سندھ‘ میں شامل ہیں۔ دوسری مرتبہ 1938 ء میں کھوجنا کے لئے سندھ میں آئے۔ اس نے سندھ میں دوسرے مقامات کی دریافت کے بعد سندھ کے موجودہ ضلع دادو میں کھوجنا کے لئے آئے۔ اسی دوران این جی مجمدار اپنی ٹیم کے ساتھ ضلع دادو کی تحصیل خیرپور ناتھن شاہ میں گاج ندی کے کنارے کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں قدیم بستی ’روہیل جی کنڈ‘ کے آثار کی کھوج میں مصروف تھا کہ اس پر ڈاکؤں گے گروہ نے حملہ کیا جس میں مجمدار قتل ہو گئے تھے۔
این جی مجمدار 83 سال پہلے 11 نومبر 1938 ء کو قتل ہوئے تھے۔ ان کے قتل، لاش اور ایف آئی آر کی اصل حقیقت معلوم کرنے کے لیے میں نے ان کے رشتے داروں سے ایمیل کے ذریعے رابطہ کیا۔ ان کے رشتے داروں نے اہم انکشاف کیا ہے جو آج تک تاریخی رکارڈ پر نہیں۔ این جی مجمدار کے نواسے انجن مکھرجی اپنا ایک مضمون بھیجا ہے جس میں اس نے انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈاکؤں نے اسے دولت کی تلاش میں سمجھ کر اچانک حملہ کیا اور اسے قتل کر کے اس وقت قلات ریاست میں پناہ لی جو برطانوی راج کے ماتحت نہ تھی۔ قلات ریاست آزاد تھی۔ انجن مکھرجی لکھتے ہیں کہ کہ این جی مجمدار قتل ہوئے ان کے ساتھی اور واقعے کے عینی گواہ کرشن دیو کا بازو ضائع ہوا اور مسٹر چیترجی سخت زخمی ہوئے۔ جن کا فوری طور پر علاج دادو شہر کی ہسپتال میں کیا گیا تھا۔
انجن مکھرجی کا کہنا ہے کہ پہاڑوں میں سے این جی مجمدار کی نعش یا لاش لاتے وقت ضلع انتظامیہ کو بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پہاڑوں میں سے ان کی میت بمشکل کاچھو کے میدانی علاقے میں گاج ندی کے کناری گاج بنگلوز تک لائی گئی۔ اس وقت دادو ضلع کے ایس پی لاش بگاج نگلوں تک لا کر اس وقت ضلع دادو کے کلیکٹر کے۔ بی محمد بخش کو واقعے کی اطلاع دی جس نے ڈپٹی کلیکٹر دادو کو بھیجا۔ ڈپٹی کمشنر اور ایس پی دادو این جی مجمدار کی لاش دادو شہر کی ہسپتال میں لائے اور ضروری کارروائی کے بعد مقامی انتظامیہ نے سندھ سرکار، مرکزی دہلی سرکار اور این جی مجمدار کے رشتے داروں سے رابطہ کیا۔ سب کے اجتماعی فیصلے کے مطابق ہندو مذہبی رسومات کے تحت این جی مجمدار کی لاش کا اگنی سنسکار دادو شہر میں کیا گیا اور راکھ ان کے رشتے داروں کو بھیجی گئی۔
بعد میں انگریز سرکار قلات ریاست کے خان آف قلات سے رابطہ کیا اور دباؤ ڈالا کہ ڈاکو گرفتار کر کے ہمارے حوالے کیے جائیں۔ خان آف قلات پر انگریز سرکار کے دباؤ کے تحت کوششیں کیں۔ آخرکار خان آف قلات نے ڈاکؤں کو پکڑنے کے لیے ان کا گھیراؤ کروایا جس میں ایک ڈاکو مارا گیا اور 6 گرفتار ہوئی جنہیں انگریز سرکار کے حوالے کیا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان ڈاکؤں کا پتہ تھا یا پھر انگریز سرکار کے دباؤ میں ان کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور معلوم ہوتے ہی ان گرفتاری کے لیے گھیرا تنگ کیا۔
بہرحال ان ڈاکؤں کو گرفتار کر کے دادو شہر لایا گیا۔ ڈاکؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور مختیارکار / مجسٹریٹ دادو کی کورٹ میں کیس چلایا گیا۔ کیس چلا اور ڈاکوؤں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ این جی مجمدار قتل کا مقدمہ کتنے عرصے تک چلا؟ ڈاکوؤں کے نام کیا تھے؟ ان کا تعلق کس قبیلے سے تھا؟ کیا واقعی ڈاکووؤں نے دولت کی تلاش سمجھ کر این جی مجمدار کا قتل کیا؟ یا اس کے پس منظر میں کوئی اور بات تھی؟ سوال یہ بھی ہے کہ ڈاکوؤں نے خود اقرار جرم کیا تھا یا شواہد کی شاہدی کی روشنی میں سزا دی گئی؟ اگر شواہد کے بیانوں کے تحت سزا دی گئی تو شاہدوں کے نام کیا تھے؟ ان سب سوالوں کے جو بات این جی مجمدار کے قتل کے معمے سے پردہ اٹھا سکتے ہیں۔
یہ جوابات موجودہ سول ہسپتال دادو، مختیارکار دادو اور ڈپٹی کمشنر آفس دادو کے آفس رکارڈ میں سے مل سکتے ہیں۔ اگر یہ رکارڈ مل جاتا ہے تو یہ تاریخی معمہ بھی حل ہو جائے گا اور تاریخ کی درستگی بھی ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں امید کرتے ہیں کہ رکارڈ مہیا کیا جائے گا جس سے این جی مجمدار کے قتل پر دکھی سندھ کے درد کی شدت میں کمی آ جائے گی۔



