سرکاری پرائمری اسکول ، محنت کش خواتین اور بچے
ایک شادی کے سلسلے میں بہت ہی مختصر مدت کے لئے کراچی جانا ہوا۔ کراچی میں ہمارا قیام بہن کے یہاں ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری پرائمری اسکول میں تدریس کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ”کل ساتھ چلنا۔ ہیڈ مسٹرس سے میں نے بات کی ہے۔ تمہیں مسائل کا اندازہ ہو جائے گا۔“
صبح جب ہم تقریباً سات دہائی قدیم عمارت میں داخل ہونے تو ہیڈ مسٹرس اور تین معلماؤں نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ گفتگو شروع ہوئی اور ہم حیرت کدہ میں اترتے چلے گئے۔
صوبائی حکومت کی ترجیحات میں پرائمری تعلیم کس درجے پر ہے، اس کا بھی بھید کھلا۔ گو کہ پچھلے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا گیا تھا لیکن خرچے کی مد میں دی جانے والی کل تیس ہزار روپے سالانہ ہمیں کچھ کم سی محسوس ہوئی۔ جاروب کش کی آسائش پرائمری اسکول کو فراہم نہیں کی گئی ہے تو سال بھر کی متاع اس تعیش کی نظر ہو جاتی ہے۔
پڑھانے والوں کی کمی کا حل کچھ یوں نکالا گیا ہے کہ ٹیچرز نے خود اپنی تنخواہ سے جزوقتی دو ٹیچرز ملازمت پر رکھیں ہیں تا کہ بچوں کی تعلیم میں خلل نہ آئے۔ بچوں کو عموماً تین سال کے بجائے پانچ سال کی عمر میں کے جی 1 میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ بچے پیمپرز نہیں خرید سکتے اور آیا کا انتظام اسکول انتظامیہ کے بس سے باہر ہے۔ سندھی زبان کی تعلیم تیسری جماعت سے لازمی ہے۔ ٹیچر نہ ہونے کے سبب فی الحال بچے اس سے محروم ہیں۔ ان بچوں کو سیکنڈری اسکول میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، حکومت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
پانی کی ٹنکی کی صفائی دس سال پہلے ہوئی تھی۔ باہمی تعاون سے دس ہزار جمع کیے گئے تا کہ بچے کچھ کم گدلا پانی پی سکیں۔ کلاس روم کی قلت ہے تو عارضی طور پر راہداری میں ایسبیسٹس کی چھت ڈال دی گئی ہے۔ کلاس ٹیچر نے فرش بنوا دیا ہے۔ لیکن اس کمبخت موسم کا بھلا کوئی کیا کرے جو ایک جانب دیوار نہ ہونے کی بناء پر سلاخوں سے جھانک تاک کرتا رہتا ہے۔ جاڑے میں سردی سے بچاؤ کے لئے ٹیچرز نے گھروں سے پرانے پردے لا کر در و دیوار کی ستر پوشی کی کوشش بھی کر ڈالی ہے کہ بچوں کو کچھ سہولت تو ہو۔
ہیڈ مسٹریس اور ٹیچرز نے پکی چھت اور ایک جانب کی دیوار بنانے کے لئے عزیزوں سے کہہ سن کر ایک لاکھ روپے کی رقم اکٹھی کر لی ہے۔ بتانے لگیں ”کل لاگت تین لاکھ روپے ہے۔ باقی کا انتظام بھی اللہ کہیں نہ کہیں سے کروا دے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ اگر ہمارے پاس فنڈز ہوں تو حکومت اجازت دے دیتی ہے۔“ ان کے لہجے میں شکوہ نہیں، امید ہویدا تھی۔
یہ سب مسائل تو بچوں کی تعلیم کے متعلق تھے۔ ہمارے استفسار پر ہیڈ مسٹرس نے مطلع کیا کہ یہاں آنے والے بچوں کی بیشتر تعداد گھر گھر جا کر کام کرنے والی خواتین کے بچوں کی ہے۔ ان خواتین کے شوہر رات رات بھر تاش اور لوڈو کھیلتے ہیں۔ مہینے کے شروع میں جب تنخواہ ملتی ہے تو اس خاتون کو اپنا نام دینے کی اجرت کے طور پر سب ہتھیا لیتے ہیں کہ بیڑی اور گٹکا کے لئے بھی تو پیسے چاہیے ہوتے ہیں۔ یوں سب سمجھ لیجیے کہ اسکول ڈے کیئر کا کام کرتا ہے۔ جب بچی نو دس سال کی ہو جائے تو شروع شروع میں تو ماں کے ساتھ کام کرنا سیکھتی ہے اور چھ مہینوں کے بعد اس کو اس کے والدین، بھیڑیوں کے معاشرے میں تنہا پیسہ کمانے بھیج دیتے ہیں۔
ہم نے اسکول کا دورہ بھی کیا اور مختلف جماعتوں کے طلباء کا مشاہدہ بھی۔ ہم کو ان بچوں میں ہمارے بچے دکھائی دیے۔ علی کی فطانت بھی نظر آئی، فاطمہ کی ذہانت اور حیدر میاں کی معصومیت بھی۔ بے اختیار ہمارا دل رو دیا۔ بچے تو ساجھے ہوتے ہیں۔ مواقع بھی تو یکساں ہونے چاہئیں۔ سرکار اگر اپنی ذمہ داری کسی بھی وجہ سے پوری نہیں کر رہی تو نہ کرے، ہم بحیثیت سول سوسائٹی خاص طور سے بیرون وطن رہنے والے پاکستانی اس سلسلے میں کیا کر رہے ہیں۔
پنجاب حکومت کی طرح، سندھ حکومت بھی ”ایڈاپٹ آ اسکول“ کا اختیار دیتی بے۔ بے شک شہزاد رائے کا زندگی ٹرسٹ اور سیما عزیز صاحبہ کا ”کیئر“ نا قابل یقین حد تک تعلیم کے لئے کام کر رہا ہے۔ کاش ہمارا سبز پاسپورٹ ہمارے دلوں کو بھی کچھ گداز کر دے اور ہماری زبانوں پہ جاری وطن سے محبت کے کچھ رنگ ہمارے بچوں کی تعلیم پر نظر آنے لگیں کہ وقت کی چاک تو مسلسل گردش میں ہے، گارا اور مٹی آنکھوں میں آس لئے کمہار کی توجہ کو ترس رہے ہیں کہ کب اس کے ہاتھ کی پوریں ان کو شاہکار بنا دیں۔ وطن کی محبت کا اگر کچھ قرض بنتا ہے تو شاید ہمیں اب اسے چکا دینا چاہیے۔


