چھوٹا سا پاکستان اور گلوبل ویلج
یہ ایک چھوٹا سا پاکستان تھا، جو شور شرابے اور ماحولیاتی صوتی آلودگی سے پاک تھا، صاف اور چمکیلی دیواریں تھیں، وہاں ہم نے راستوں پر پان تھوکنے کے دھبے دیکھے اور نہ ہی گٹکے کے داغ دھبے، کوئی بھکاری بھی نہیں ملا، فٹ پاتھ پر سویا ہوا کوئی بے گھر بھی نہیں دیکھا، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر بھی نظر نہیں آئے، پبلک مقامات پر کوئی پیشاب کرتا ہوا بھی نہیں دیکھا، گندگی، جس سے بیسیوں بیماریاں جنم لیتی ہیں بھی نظر نہیں آئی، راستوں پر کھیلتے ہوئے مسٹنڈے بھی نہیں دیکھے، عورتیں بہت تھیں، مگر انہیں چھیڑنے اور ہراساں کرنے والا کوئی بھی نظر سے نہیں گزرا، بچے بھی محفوظ تھے اور بچیاں بھی خوشی خوشی گھوم پھر رہی تھیں، چوریاں اور ڈکیتیاں بھی نہیں ہو رہی تھیں،
قانون شکن بھی کوئی نہیں ملا، اردو، پشتو، پنجابی اور سندھی وغیرہ میں لکھی گئیں ناپاک تحریریں بھی در و دیوار پر نظر سے نہیں گزریں اور امن وامان بھی بھر پور طریقے سے قائم تھا، یہ چھوٹا سا پاکستان حد سے زیادہ پیارا اور خوبصورت تھا شاید اس لیے کہ لوگ بھی مہذب اور باشعور تھے اور حکومتی رٹ بھی قائم تھی، یہاں جیالے تھے، نہ یوتھی اور پٹواری اور نہ ہی ان کے لیڈرز اس کو لیڈ کر رہے تھے بلکہ ایک ترقی یافتہ ملک کے مدبر اور دور اندیش حکمران اسے لیڈ کر رہے تھے، جو وعدے کم مگر کام ہماری سوچ سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔
کیونکہ وہ اپنے عوام سے سے مخلص ہیں، انہیں دھوکے میں نہیں رکھتے، انہیں فقط دعووں کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور نہ ہی آسمان سے تارے توڑ لانے کا وعدہ کرتے ہیں، وہ ”گھبرانا نہیں“ کا صرف راگ نہیں الاپ رہے بلکہ گھبراہٹ کے اسباب کا خاتمہ کر کے گھبرانے دیتے بھی نہیں ہیں۔ وہ اپنے عوام سے ٹیکس لیتے ضرور ہیں لیکن پیسہ ان کی فلاح و بہبود پر ہی لگاتے ہیں، اس میں کرپشن نہیں کی جاتی، عوام کو بھی پختہ یقین ہوتا ہے کہ ان کا پیسہ حکمرانوں کی شاہ خرچیوں پر ضائع نہیں کر دیا جائے گا، بلکہ عوام سے جمع کیے گئے ٹیکس کے بدلے نہ صرف یہ کہ ان کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ سہولیات بھی ایسی فراہم کی جاتی ہیں کہ جو ان کی سوچ سے بھی بڑھ کر ہوتی ہیں۔
جی ہاں! یہ بہت ہی پرسکون اور پیارا سا چھوٹا پاکستان تھا لیکن یہ وہ نہیں تھا جو آپ سوچ رہے ہیں بلکہ یہ وہ پاکستان ہے جسے ہم نے کچھ عرصہ پہلے ایکسپو 2020 میں دیکھا تھا اور ابھی چند دن پہلے گلوبل ویلج دبئی میں جس کا وزٹ کیا تھا۔ اس گلوبل ویلج میں جو متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں سب سے پہلے 1996 میں کھوکھوں اور کیبنوں پر مشتمل ایک چھوٹے سے میلے سے شروع ہوا تھا، جو اب ایک منفرد فیسٹیول کی شکل اختیار کر گیا ہے اور جسے آج دنیا گلوبل ویلج کے نام سے جانتی ہے۔
گلوبل ویلج دبئی میں مشہور شاہراہ شیخ محمد بن زائد روڈ پر واقع ہے، اور اسے دنیا کا سب سے بڑا سیاحتی، خریداری، ثقافتی اور تفریحی منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں سیاحت کی غرض سے دنیا بھر کے مختلف ممالک سے آنے والے شرکت کرتے ہیں۔ دبئی کے اس غیر معمولی فیسٹیول میں جہاں تفریح اور خریداری سے ایک ساتھ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے وہاں ایک ہی جگہ پر دنیا کی مختلف تہذیبوں، اور ان کے رسم و رواج کو بھی اپنی آنکھوں سے آسانی کے ساتھ دیکھا جاسکتا۔
گلوبل ویلج ہر سال اکتوبر کے آخر میں اپنی مختلف سرگرمیوں اور تقریبات کا آغاز کرتا ہے اور یہ سلسلہ اگلے سال اپریل تک چلتا رہتا ہے۔
دنیا کے اس رنگارنگ فیسٹیول میں 26 ممالک کے دلکش اور پرتعیش پویلین بنائے گئے ہیں، جو تقریباً 75 سے زیادہ شہروں کی مقامی مصنوعات کی نمائش کرتے ہیں اور چونکہ ہر پویلین اس ملک کے لیے مخصوص سامان پیش کرتا ہے جس کی وہ نمائندگی کرتا ہے اس لیے یہاں دنیا کے مختلف ممالک کی بہترین مصنوعات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گلوبل ویلیج کے اس میلے کا مقصد مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دنیا کے مختلف ممالک کی ثقافت کو جاننے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اس فیسٹیول میں جہاں دیگر بہت سے ممالک کے خوبصورت پویلینز بنائے گئے تھے وہیں ترکی کے بازو میں وہ چھوٹا سا پاکستان بھی جگمگا رہا تھا جس کا ذکر مندرجہ بالا سطور میں آپ کے سامنے کیا گیا۔ ”کاش اپنا بڑا پاکستان بھی ایسا ہو جائے“ میں دل ہی دل میں یہ کہہ کر چھوٹے سے پاکستان کو الوداع کہتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔


