روس یوکرین کشیدگی


گزشتہ سال کے آخر میں روس کی یوکرین کی جانب پیش قدمی اب اس حد تک پہنچ چکی ہے دنیا ایک بڑی ہولناک جنگ کی تباہ کاریوں پہ بحث کر رہی ہے۔ روس نے یوکرین کی بارڈر پہ ڈیڑھ لاکھ کی تعداد میں فوج کھڑی کر دی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس اتنی بڑی فوج نے ایک دفعہ پھر خطے میں جنگ کے بادل بکھیر دیے ہیں۔ امریکی صدر بے بسی سے کہہ رہے ہیں کہ جنگ کسی وقت بھی شروع ہو سکتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا کہہ چکے ہیں۔

روس نے اپنی فورسز کو پیچھے ہٹانے کا اعلان کر کے مزید فورسز بڑھا دی ہیں اور لگاتار آگے ہی بڑھ رہا ہے۔ یوکرین پہ سائبر اٹیک شروع ہو چکے ہیں جو بڑی جنگ کا پیش خیمہ ہے۔ پوری دنیا کی نظریں صدر پیوٹن پہ لگی ہیں کہ وہ یوکرین پہ کس لیول کا اٹیک کریں گے۔ اگر واقعی جنگ چھڑی تو کیا روس یوکرین کے کچھ سٹریٹیجک علاقوں پہ قبضہ کرے گا یا اہم راستوں پہ قبضہ جما کر یوکرین کو یورپ سے کاٹے گا۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ روس پورے یوکرین پہ حملہ کر دے گا جس سے پچاس ہزار سے زائد انسانی جانیں جا سکتی ہیں جبکہ مہاجرین کی تعداد پانچ ملین تک بھی جا سکتی ہے جس کے خطے پہ سخت سیاسی اور اقتصادی اثرات مرتب ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ آخر صدر پیوٹن کو اتنا بڑا قدم کیوں اٹھانا پڑا؟ ان کے لیے اس وقت ہی اتنا سخت قدم اٹھانا کیوں ضروری ہے؟

سب سے پہلے یوکرین اور روس کے درمیان اصل تنازعے کی وجہ سمجھ لیجیے۔ یوکرین اور روس کے قدیم ثقافتی اور سماجی تعلقات ہیں۔ یہاں تک کہ دونوں ممالک کی زبانیں بھی ایک ہی ہیں۔ 9 ویں صدی سے دونوں کے تعلقات قائم ہیں۔ 1654 میں روس اور یوکرین اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ کبھی ایک ساتھ اور کبھی الگ رہے ہیں۔ تھوڑی جدید تاریخ کی طرف آئیں تو 1918 میں یوکرین کو روس سے آزادی ملی تھی لیکن پھر 1921 میں لینن کی فوج نے یوکرین پہ قبضہ کر لیا تھا۔

1922 میں USSR کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا تھا جس میں یوکرین کے علاوہ دیگر چودہ ریاستیں بھی شامل تھیں۔ یوکرین میں ایک طبقہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے جو یوکرین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پہ دیکھنا چاہتا ہے۔ روس نے اپنی طاقت میں بدمست ہو کر دسمبر 1979 میں افغانستان پر حملہ کر دیا تھا جو افغانستان کی تباہی کا باعث تو بنا لیکن فروری 1989 میں روس کی شکست پہ منتج ہوا۔ اتنی بی جنگ روس سہ نہ پایا اور معاشی طور پہ انتہائی کمزور ہو گیا۔

بالآخر روس کے 12 ٹکڑے ہو گئے جس میں یوکرین بھی شامل تھا جو آزاد ریاست بنا۔ اس کے بعد روس پہ اس وقت افراد پڑی جب 1997 میں اس کے اردگرد ریاستوں نے نیٹو کو جوائن کرنا شروع کر دیا۔ 1999 میں وارسا پیکٹ میں شامل روس کے اردگرد ریاستوں ہنگری، سیزچ اور پولینڈ بھی باقاعدہ طور پہ نیٹو کی ممبر بن گئیں۔ اس کے بعد سات دیگر ریاستوں نے بھی نیٹو کو جوائن کر لیا جس پہ روس مخالفت کے سوا کچھ نہ کر سکا۔

مشرقی یورپ میں نیٹو نے اپنا قبضہ جمایا ہوا ہے۔ روس کے اردگرد کی ریاستوں پہ نیٹو آن بیٹھا ہے اور روس ان ریاستوں میں گھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایسٹونیا، لٹویا، لتھونیا جیسی ریاستیں بیلاروس کی جانب سے جب کہ رومانیہ اور بلگاریہ جیسی ریاستیں کرائیمیا کی طرف سے روس کے دروازے پہ ہیں۔ یوکرین کے ساتھ براہ راست پولینڈ، سلوویکیا، ہنگری اور رومانیہ موجود ہیں جو سب نیٹو ممبر ہیں۔ اب اگر یوکرین بھی نیٹو کے ہاتھ چلا گیا تو روس کے لئے ایک بڑا دھچکہ ہو گا کیونکہ اس کی روس کے ساتھ 2295 کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔

ادھر روس میں صدر پیوٹن سمیت ایک بڑا طبقہ یوکرین کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ روس اپنی سلامتی کے پیش نظر ایک کاؤنٹر پلان کر رہا ہے جس کا اظہار وہ 2014 میں کر چکا ہے جب اس نے روسی نواز یوکرینی صدر کو ہٹانے پہ اور یوکرین کو نیٹو کے ہاتھوں جاتا دیکھ کر یورپ میں گھس کر کریمیا پہ حملہ کر دیا تھا اور پوری دنیا نے دیکھا کہ یوکرین کے اس حصے پہ اپنی فوجیں اتار دیں تھیں۔ یہاں تک کہ روس نے 27000 مربع کلومیٹر رقبے اور 2.4 ملین آبادی کے حامل کریمیا پہ قبضہ جما لیا تھا جو تاحال قائم ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

1997 کے بعد سے روس کی سلامتی کو خطرہ لاحق تھا مگر صدر پیوٹن نے حملے کے لیے یہی وقت کیوں چنا؟ اس وقت حملے کے کیا مقاصد ہیں؟ یہ جاننا بہت اہم ہے۔

صدر پیوٹن نے گزشتہ سال سے یوکرین پہ حملے کی پلاننگ کر رہے ہیں اور دنیا کو خبردار کر رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت تمام اہم ممالک کے راہنما ان سے مل چکے ہیں۔ روس یہ چاہتا کہ اسے گارنٹی دی جائے کہ نیٹو یوکرین کو ممبرشپ نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ وہ 1997 کے بعد نیٹو میں شامل ہونے والی ریاستوں کی وجہ سے بھی سخت خفا ہے اور نیٹو سے کوئی ایسے ممکنہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے جس سے یا تو ان ممالک کی نیٹو ممبرشپ ختم کی جائے یا پھر نیٹو ان کے لیے رولز میں مناسب بدلاؤ لائے۔

نیٹو کے تمام تیس ممالک کے سربراہان ان شرائط کو مسترد کر چکے ہیں اور یوکرین کے سیکورٹی کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایسے میں صدر پیوٹن مزید ایگریسو ہوئے ہیں۔ اب اگر وہ بغیر کسی نتیجے کے پیچھے ہٹتے ہیں تو اس سے ان کی دنیا میں اور اپنے ملک میں امیج کو زبردست نقصان پہنچے گا اور یہ تاثر جائے گا کہ روس نے امریکہ و یورپ سے ڈر کر قدم پیچھے ہٹائے ہیں۔ اس کے پاس آپشن محدود ہیں۔ وہ کسی فیئر ڈیل کے چکر میں ہیں۔ اگر وہ مل جاتی ہے تو ٹھیک ورنہ وہ یوکرین کے کچھ علاقوں پہ قبضہ کر لیں گے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ پورے یوکرین پہ حملہ آور ہو جائیں۔

روس کے بالکل بارڈر پہ نیٹو کے اسٹونیا میں 1150، لیٹویا میں 1650، لیتھونیا میں 1100، پولینڈ میں 1060 فوجی تعینات ہیں جبکہ دوسری جانب کرائیمیا کی جانب رومانیہ میں چار ہزار جبکہ بلغاریہ میں دو سو فوجی تعینات ہیں۔ امریکہ نے بلغاریہ میں دو سو، رومانیہ میں ایک ہزار، پولینڈ میں 5400 اور لیتھونیا میں پانچ سو مزید فوجی بھیجے ہیں۔ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہ ظاہری تعداد ہے تاہم ان میں سے کسی بھی ملک پہ کوئی حملہ کرے گا تو نیٹو کے تیس ممالک مل کر اس پہ حملہ آور ہوں گے۔ یوں روس کو اپنی سلامتی کے لیے خدشات لاحق ہیں۔ اس کے بارڈر کے ساتھ دیگر ریاستوں میں نیٹو بیٹھ چکی ہے۔ اب صرف یوکرین بچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس یورپ کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ مشرقی یورپ میں اپنی فوجی ایکٹویٹی کم کرے بصورت دیگر سب نقصان اٹھائیں گے۔ اسی کے کاوئٹر کے لئے روس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1997 کے بعض روس کے گرد 13 ممالک نے نیٹو جوائن کی۔ روس ابھی کیوں اتنا ایگریسو ہوا۔ دراصل روس نے بکھرنے کے بعد سے ہی نیٹو کی ان حرکتوں کی مخالفت شروع کر دی تھی لیکن افغانستان کی تھکا دینے والی لڑائی کے بعد روس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کسی ریاست پہ حملہ آور ہو جائے۔ 2008 میں یوکرین جب نیٹو کی جانب جانے لگا تو روس نے دھمکیاں شروع کر دیں۔ اس کے بعد معاملات خراب ہوتے گئے یہاں تک کہ 2014 میں روس نے کریمیا پہ حملہ کر دیا اور پورا کرائیمیا ہتھیا لیا۔

اس وقت ستمبر 2014 میں روس اور یوکرین کے درمیان بارہ نکاتی معاہدہ طے پایا جس کو Minsk معاہدے کا نام دیا گیا جس میں سیز فائر کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی واپسی اور انسانی بنیادوں پہ باہمی امداد جیسی باتیں تھیں جن کی دونوں جانب سے کھلم کھلا خلاف ورزی ہوئی۔ پھر فروری 2015 میں یورپ کی مدد سے ایک تیرہ نکاتی معاہدے پہ سائن ہوئے جس کو Minsk دوم کہا جاتا ہے جس میں سیز فائر کے ساتھ ساتھ باہنی تعلقات کی بحالی کے لیے معاہدے اور دنباس کے علاقوں کی سپیشل اسٹیٹس دینے اور ریفرنڈم کیا شقیں شامل تھیں۔ یہ ایک دفاعی اور سیاسی ڈیل تھی جس کی خلاف ورزیاں ہوتی آئی ہیں۔ روسی صدر پیوٹن کو اس بات پہ غصہ ہے کہ اس ڈیل کو پورا نہیں کیا گیا اور اس کی سیکورٹی ڈیمانڈ پہ عمل درآمد نہیں ہو پایا۔

کرونا وائرس کے دوران جب دنیا اپنے معاملات میں مصروف تھی تب آذربائجان نے آرمینیا پہ حملہ کر دیا اور اپنے علاقے واپس لے لیے۔ اس موو سے پیوٹن متاثر ہوئے۔ اس سے پہلے روس کو نئے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے کافی امیدیں تھی۔ یہ شخص ایک کامیڈین تھا جو ایک ٹی وی پروگرام میں صدر کا مزاحیہ کردار ادا کرتا تھا اور بعد ازاں 2019 کے الیکشن میں سچ مچ صدر بھی بنا۔ یہ روس سے براہ راست بات چیت اور اچھے تعلقات کا خواہاں تھا جس کا اظہار یہ الیکشن مہم میں کرتا رہا۔

روس چاہتا تھا کہ وہ روسی نواز متنازعہ علاقوں کو سپیشل اسٹیٹس دینے کے بجائے واپس یوکرین کا حصہ بنا لے اور یوکرین کو نیٹو سے دور رکھے۔ یوکرینی صدر اپنی سلامتی کے تقاضوں کے تحت دونوں باتیں نہ مان پائے جس پہ پیوٹن پیش میں آ گیا لیکن وہ اس وقت کوئی خاص قدم نہ اٹھا سکا۔ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکی حکومت کے کچھ فیصلوں نے اس کی ہمت بندھائی مثلاً ٹرمپ نے امریکی مفاد کی خاطر یورپی یونین کو ناراض کیا۔ نئی جو بائیڈن انتظامیہ نے بھی چند غلطیاں کیں مثلاً آسٹریلیا کے ساتھ نیوکلیئر سب میرین ڈیل سے فرانس کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

پیوٹن امریکہ اور یورپی ممالک میں بڑھتی اس دراڑ کا بروقت فائدہ اٹھانے جا رہے ہیں۔ افغانستان سے امریکہ کی بدترین شکست کے بعد امریکہ کی کمزوری واضح ہوئی ہے۔ امریکہ اب اپنے مفادات کو مقدم رکھتا ہے۔ اس سے یورپی ممالک امریکہ پہ اعتماد کم کرنے لگے ہیں۔ جرمنی میں سولہ سال تک انجیلا مرکل چانسلر رہی ہیں لیکن اب اولاف شولز آ چکے ہیں جو روس سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک روس سے نیچرل گیس امپورٹ کرتے ہیں۔ فرانس میں اپریل میں الیکشن ہیں لہذا صدر میکرون روس سے پنگا لیں گے تو قیمتیں بڑھیں گے جو ان کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچائے گی۔ پیوٹن نے اس سب صورتحال کا بروقت فائدہ اٹھاتے ہوئے یوکرین کی جانب پیش قدمی کی ہے۔ اللہ کرے کوئی پرامن حل نکل آئے۔

Facebook Comments HS