سفارتکاری میں شکوے شکایتیں اور امریکی استعمال کا الزام
سفارتکاری میں شکوے شکایتیں پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں رکھتے ہیں اور نا ہی یہ لیلی مجنوں کے قصے کے مانند کوئی پریم کہانی ہوتی ہے کے سب کچھ تیاگ دیا جائے۔ عمران خان نے بیان دیا کہ ”امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو استعمال کیا“ سوال یہ ہے کہ ہم اتنے نادان کیوں تھے کہ ہر بار استعمال ہو گئے؟ اور کیا ہم ہمیشہ ہر معاملے میں امریکہ کے ساتھ اس کے ہمنوا بنے رہے ہیں؟ اگر گفتگو صرف اینٹی امریکن ازم کے تحت کرنی ہے کہ تمام ملبہ امریکا پر ڈال دیا جائے تو اور بات ہے مگر اگر حقیقت کو سامنے رکھنا ہے تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان نے ہر معاملے میں امریکہ کے ساتھ ہم نوالہ ہم پیالہ بننے کا طریقہ کار اختیار نہیں کیا تھا۔
اور یہ بالکل درست بھی تھا کیوں کہ ہر ملک ہر خطے کے ساتھ آپ کی مختلف ضروریات وابستہ ہوتی ہیں اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہیں مختلف معاملات میں سفارت کاری کی جاتی ہے۔ یہاں یہ تاثر قائم کر دیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے وقت سے ہی امریکن بلاک کا حصہ بن گیا تھا اور ہر بات پر آمنا صدقنا کہہ رہا تھا۔ حقیقت یہ نہیں ہے شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان رحمتہ اللہ علیہ نے آزادی کے تین دن بعد نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خد و خال بیان کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ”پاکستان دنیا کے دو بلاکوں کی نظریاتی کشمکش میں کسی کی طرف جھکاؤ نہیں رکھے گا“ انہوں نے نا صرف ایسا کہا بلکہ عملی طور پر ایسا کر کے بھی دکھایا ان کے روس کا دورہ نہ کرنے اور امریکہ کے دورے پر جانے کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے اس لئے مختصر طور پر وضاحت کر دوں کہ امریکہ نے 1949 میں پنڈت نہرو کو دورے کی دعوت دی مگر اس وقت پاکستان کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔
وزیراعظم نے تہران کا دورہ کیا جہاں پر روسی سفیر سے بھی ملے اس کے فوراً بعد سوویت یونین نے ماسکو کے دورے کی دعوت بھجوا دی۔ شہید ملت رحمۃ اللہ علیہ نے قبول کرلی۔ دورے کی دعوت پاکستان کے یوم آزادی کے دنوں میں دی گئی تھی پاکستان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ دورے کی تاریخ میں تبدیلی کر دی جائے مگر اس کے بعد ماسکو کی طرف سے خاموشی اختیار کر لی گئی۔ اسی دوران امریکی صدر ٹرومین نے دورے کی دعوت دی اور مئی 1950 میں وزیر اعظم لیاقت علی خان امریکہ دورے پر گئے مگر امریکی سرزمین پر اترنے کے ساتھ ہی اس تصور کو پنپنے نہ دیا کہ ان کا دورہ، پاکستان کا امریکی بلاک میں شمولیت کرنا ہے۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ وہ ماسکو کے دورے کے لئے بھی دلچسپی رکھتے ہے خیال رہے کہ وہ یہ امریکہ کے پہلے دورے پر امریکی سرزمین پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے۔ کوریا کی جنگ کے دوران امریکی خواہش تھی پاکستان کی فوج امریکہ کے شانہ بشانہ ہو مگر پاکستان نے اس سے انکار کر دیا۔ اس معاملے پر امریکی سفارتکاری، اس کی کوششوں کو جاننا ہو تو رابرٹ ایف کینیڈی کی کتاب ”سچے دوست بہادر دشمن“ پڑھ لیجیے۔ امریکی خواہش کی انتہا اور پاکستان کا اپنے مفاد میں انکار صاف نظر آئے گا۔
ہاں پاکستان سفارتی طور پر شمالی کوریا کے جنوبی کوریا پر حملے کا مخالف اور جاپان سے امن معاہدے کا حامی تھا حالانکہ سابقہ سوویت یونین ان معاملات میں مخالفت کر رہا تھا۔ امریکہ کی مخالفت کے باوجود پاکستان نے فوری طور پر ماسکو سے سفارتی تعلقات قائم کیے اپنا سفیر وہاں تعینات کر دیا اسی دوران چینی انقلاب جیسا بڑا واقعہ ہمارے پڑوس میں پیش آ گیا۔ امریکا چین کی سابقہ چیانگ کائی شیک حکومت کا حامی اور سرخ انقلاب کا مخالف تھا مگر پاکستان نے جنوری 1950 میں انقلاب کو تسلیم کر لیا اور ستمبر انیس سو پچاس میں چینی سفیر بھی پاکستان آ گیا۔
چین کو انقلاب کے فوری بعد تبت کا مسئلہ درپیش ہوا امریکا کی مخالفت کے باوجود پاکستان چین کا ہم خیال تھا۔ چین کی اہمیت اور اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی خارجہ پالیسی کی جہتیں جن پر ہماری خارجہ پالیسی کی عمارت کھڑی ہے لیاقت علی خان رحمتہ اللہ علیہ کے دور کی ہے۔ پاکستانی ایک دوسرا رویہ اختیار کیا کہ عالم اسلام میں اپنے مفادات حاصل کی جائے اس سبب سے 1949 میں انٹرنیشنل اسلامک اکنامک کانفرنس کا انعقاد پاکستان میں کروایا گیا۔
اس کانفرنس پر سابقہ سوویت یونین کے معروف رسالے ”نیو ٹائمز“ نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کے ”یہ کانفرنس اس میدان کو تیار کرنے کے لئے منعقد کی گئی ہے کہ مسلمانوں کا فوجی اور سیاسی بلاک کا قائم ہو جائے۔ مگر پاکستان نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے اور فروری 1951 میں موتمر عالم اسلامی کا اجلاس منعقد کروا دیا۔ اس سب کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ابتدائی سالوں پاکستان خارجہ حکمت عملی کسی کی مکمل حمایت یا مخالفت کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار نہیں کر رہا تھا بلکہ اپنے مفادات کے پیش نظر تھے۔
اسی سبب سے سابقہ سوویت یونین نے 1957 تک پاکستان کے خلاف ویٹو کا استعمال نہیں کیا تھا۔ امریکا کے لئے جنگ ویت نام بہت اہمیت کی حامل ہے امریکہ پاکستان کے فوجی قدم وہاں بھی چاہتا تھا مگر پاکستان نے انکار کر دیا۔ انقلاب ایران امریکہ کے لئے صدمہ تھا مگر پاکستان نے انقلابی حکومت کو فوراً تسلیم کر لیا۔ اور بھی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ امریکا سے تعلقات رکھنے سے پاکستان فوائد بھی حاصل ہوتے رہے عسکری معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے شہری زندگی میں بھی پاکستان کو امریکہ کی مدد حاصل رہی آزادی کے وقت لاہور کی بجلی بھارت سے آتی تھی۔
ہر وقت دھڑکا لگا رہتا تھا کہ بھارت لاہور کو تاریکیوں میں ڈبو دے گا۔ امریکہ کی مدد سے ہی لاہور میں ٹرانسمیشن لائنیں اور ان کا نظام قائم ہوا پاکستان کو ابتدا میں قحط سالی تک کا اندیشہ تھا اس حوالے سے امریکہ کی ہی مدد کام آتی تھی۔ یقینی طور پر امریکہ کی اپنی ضروریات تھیں اور ہیں اور اسی سبب سے وہ پاکستان کے کام بھی آ رہا تھا۔ پاک بھارت جنگوں میں پاکستان کے لیے ہتھیاروں کی بندش یا امریکی مداخلت نا ہونے کا کہا جاتا ہے جب ہم نے اس سے معاہدہ ہی ان بنیادوں پر کیا تھا کہ یہ اسلحہ صرف کمیونسٹ خطرے کے لئے ہیں تو پھر غیر متوقع کیا تھا؟
اس کا بحری بیڑہ نہیں آیا تو کیا اس کا بیڑہ آنے کا کوئی معاہدہ تھا جواب نفی میں آئے گا۔ افغانستان میں نائن الیون کے بعد جو کچھ ہوا اس میں فرنٹ لائن اتحادی کا فخریہ طور پر کہا جانے لگا۔ کیا ہم نے اس سے قبل امریکہ سے معاہدہ کیا تھا کہ پاکستانی مفاد کا تحفظ کیا جائے گا اور افغان سرزمین کسی صورت ہمارے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ حالیہ امریکی انخلاء کوئی اچانک ہوا؟ طویل مذاکرات کے بعد افغان طالبان، امریکہ امن معاہدہ ہوا مگر ہم صرف شکوے شکایتیں کرنے تک رہ گئے۔
میرا مقصد امریکہ کی تعریف یا برائی کرنا نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کو اس کے حقیقی معنوں میں پیش کرنا ہے کیوں کہ ان شکایتوں سے معاملات نہیں سدھریں گیں بلکہ مزید خرابی حالات کی طرف جا سکتے ہیں پھر موجودہ پاکستانی حکومت نے امریکی انتخابات میں اپنا“ کردار ”ادا کرنے کی کوشش کی جس کو وہاں پر سخت ناپسند کیا گیا ہے مگر یہاں کسی کو اس کی سمجھ ہی نہیں تھی کہ کسی کی نقل مناسب نہیں۔ پاکستان کا استعمال کرنے کا بیان دے کر قومی توہین بھی ہے اگر ہم سمجھیں تو۔

