جو ان کی تمنا ہے ”پیکا“۔


جب رات اپنی زلفیں بکھیرتی ہے تو رات کی سیاہی اور بھی سیاہ ہوجاتی ہے، اس سیاہی میں چمکتے چاند اور ٹمٹماتے ستاروں میں اتنا دم نہیں ہوتا کہ وہ سیاہ رات کو روشن کر سکیں لیکن ان کی جدوجہد جاری رہتی ہے جب آخری ستارہ ڈوبتا ہے چاند غروب ہوتا ہے صبح سانس لیتی ہے اس وقت رات بھر کے ٹمٹماتے ڈوب جانے والے ستاروں اور چاند کی جدوجہد رنگ لاتی ہے سورج نمودار ہوتا ہے اس کی کرنیں سیاہی کو چیرتی ہوئی ہر طرف اجالا کر دیتی ہیں اور سیاہ رات کو روشن دن میں بدل دیتی ہیں۔

قارئین کرام، یہ قدرت کا نظام ہے، رات دن میں اور دن رات میں بدلتا رہتا ہے، تبدیلی کا یہ عمل جاری رہتا ہے، کبھی ظلم کی سیاہ رات طویل تر ہوتی ہے تو کبھی امن کے پیامبر دن کے اجالے کا راج ہوتا ہے لیکن اس عمل کے دوران برسر پیکار منفی اور مثبت قوتوں کے درمیان کشمکش بھی جاری رہتی ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں جاری حالیہ حکومتی، سیاسی اور صحافتی کشمکش کو ایک اور سیاہ رات کا سامنا ہے، اس میں تازہ ترین اضافہ امتناع الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 پیکا آرڈیننس میں صدارتی آرڈیننس کے تحت کی جانے والی ترمیم ہے جس کے تحت ”کسی بھی شخص، کمپنی، جماعت، تنظیم، اتھارٹی اور حکومت کے قائم کردہ کسی بھی ادارے کی تضحیک قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے دیا گیا ہے“ ، آرڈیننس کے تحت الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 میں پیمرا کے لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو حاصل استثنا ختم کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد ٹیلی وژن پر کسی بھی فرد کے بارے میں فیک نیوز یا تضحیک بھی الیکٹرانک کرائم کے زمرے میں آئے گی۔

فیک نیوز سے متعلق بھی کئی آراء موجود ہیں کہ ان کے محرک بھی با اثر افراد اور ادارے ہوتے ہیں اور وقت آنے پر بیان بھی بدل ڈالتے ہیں اور اس کا خمیازہ ٹی وی چینلز، اخبارات و جرائد اور صحافیوں کو بھگتنا پڑتے ہیں، سنسر شپ، زبان بندی، سنگین دھمکیاں، جان لیوا حملوں سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ کسی بھی فرد کے بارے میں تضحیک بہرحال قطعاً نہیں ہونی چاہیے جبکہ اداروں کا احترام تو ہر حال میں واجب ہے لیکن تنقید یا تعریف سے مبرا نہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ”یہ قانون حکومت اور ریاست سے اختلاف اور ان پر تنقید کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کے لیے استعمال ہو گا جو کہ جمہوری اقدار کے منافی ہے“ ۔

صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیکا کے قانون میں ترمیم ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب حال ہی میں معروف صحافی محسن بیگ کے ایک اظہاریہ پر وفاقی وزیر مراد سعید کی جانب سے ایک کیس کر دیا گیا اور معاملہ دہشت گردی کی دفعات تک جا پہنچا اور تاحال اس کشمکش کا انجام باقی ہے۔

علاوہ ازیں حکومت کو درپیش حزب اختلاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد اور لانگ مارچ بھی اس قانون میں ترمیم کی ایک کڑی ہیں کہ ان حالات میں ایسی تمام آوازوں کو خاموش کیا جا سکے جو کانوں میں رس نہ گھول سکیں بلکہ بے ہنگم موسیقی کی بے سری تانوں کا شور شرابا ہی کانوں تک پہنچتا رہے تاکہ کسی کو کانوں کان یہ خبر بھی نہ ہو سکے کہ ملک میں کرپشن ختم ہوئی یا نہیں، مہنگائی کے جن پر قابو پایا جا سکا یا نہیں، تعلیم کو عام کر دیا گیا یا ابھی بھی ”حیات آباد کا بچہ سکول کی بجائے ریڑھی پر پھل فروٹ سبزی بیچنے پر مجبور ہے یا اب کسی شاہراہ پر کھڑا دو وقت کی روٹی کی بھیک مانگ رہا ہے (اس واقعہ کا تذکرہ ایک سابق سفیر پاکستان کے حالیہ کالم میں موجود ہے )“ ۔

اس قانون میں تازہ ترمیم ہونے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ ان پر تنقید ہو رہی ہے لیکن اس تنقید کے ردعمل میں بجائے اپنا عمل درست کرنے کے حکومت تنقید نگاروں پر حملہ آور ہونے جا رہی ہے، ایسے میں تصادم کی راہ ہموار ہوگی۔

کاش کہ ”حکومت اچھے کام کرے اور ان پر تنقید کرنے والے ان کی تعریف کرنے لگیں اور ایسی پابندیوں کی ضرورت بھی پیش نہ آئے اور پاکستان میں آزادی اظہار رائے کو اتنا فروغ ملے کہ دنیا بھی اس پر رشک کرے“ ، لیکن موجودہ صورتحال میں ہم اسے ”دیوانے کا خواب“ ہی کہیں گے لہذا ”جو ان کی تمنا ہے برباد ہو جا، تو اے دل محبت کی قسمت بنا دے“ ۔

بقول فیض ”جو لوح ازل میں لکھا ہے، ہم دیکھیں گے“ ، دعاء ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں سورج کے اجالے کا راج ہو اور وہ فصل گل اترے جسے اندیشۂ زوال نہ ہو جس کی خواہش احمد ندیم قاسمی نے کی تھی۔

Facebook Comments HS