علمائے کرام کا اصل میدان عمل
دسمبر 2021 ء میں ماسکو میں ایک سالانہ پریس کانفرنس کے دوران صدر ولدیمیر پوتن کا یہ کہنا بہت خوش آئند ہے کہ اظہار آزادی کے نام پر پیغمبر عالم ﷺ کی گستاخی و بے ادبی کسی بھی طرح ( artistic freedom) فنکارانہ اور جمالیاتی حق میں شامل نہیں ہے بلکہ یہ مذہبی آزادی کا غلط اور ناجائز استعمال ہے بلکہ انھوں نے مزید کہا کہ یہ اسلام پر کاربند لوگوں کے جذبات اور احساسات کو ٹھیس اور تکلیف پہنچانا ہے بھی۔
فنکارانہ یا جمالیاتی حقوق کے بھی حدود و قیود ہیں اور یہ حقوق دوسروں کے آزادی کو متاثر نہ کرے۔ اس بیاں پر مسلم ممالک نے اسے بہت سراہا یہاں تک کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے یہ کہا کہ ہم مسلمانوں اور بالخصوص لیڈروں کو یہ بات غیر مسلم دنیا کو باور کرانے کی ضرورت ہے تاکہ اسلاموفوبیا کو جڑ سے کاٹ ڈالیں۔ ان بیانات کو گزرے تقریباً دو مہینے ہونے کو ہیں لیکن علمائے کرام کا ابھی بھی اس حوالہ سے کوئی منظم علمی اور دینی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔
یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ علمائے کرام اور دانش ور حضرات دنیا کو اسلام کے حقیقی تعلیمات سے آگاہ کریں اور اسلام کی پرامن تعلیمات کو دنیا کے دیگر کونوں تک پہنچائیں تاکہ آئندہ کے لیے راہ ہموار ہو۔ لیکن علمائے کرام ایسے کاموں میں الجھے ہوئے ہیں جن کا بیاں یہاں ناممکن ہے۔ اس لیے کچھ تحقیقی حقائق آپ کے پیش گزار کرتا ہوں۔
ورلڈ و میٹرز (worldometers) انٹرنیٹ پہ ایک ایسا ویب سائٹ ہے جس پر ہر معلومات کو جو دنیا سے اور انسانوں سے متعلق ہے، حسن ترتیب سے اعداد و شمار کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ ورلڈو میٹرز (worldometers) کا مطلب ہے، دنیا کا حقیقی وقتی اعداد و شمار (real time world statistics) ۔ اس ویب سائٹ پر تمام معلومات کو ایسے رکھا گیا ہے کہ ہاتھوں کی انگلیوں پر گنتی ہو سکتی ہے۔ مثلاً آج کے دن تک کتنی انرجی کا استعمال ہوا ہے، پوری دنیا میں گیس اور تیل کتنا نکالا گیا اور کتنا خرچ ہوا، تعلیم، صحت اور فوجی و جنگی معاملات پر اخراجات کا تناسب کیا رہا، پانی کتنی مقدار میں استعمال ہوا، صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے کتنے افراد کی موت واقع ہوئی، اس سال کتنے لوگ پیدا ہوئے، بلکہ آج کے دن پوری دنیا میں کتنے افراد کی پیدائش ہوئیں اور آج کے دن کتنی اموات ہوئیں اور اس سال کتنے لوگ دار فنا سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔ کرونا وائرس، سگریٹ، کینسر اور ایڈز کی وجہ سے جو افراد لقمہ اجل بنے ان کی تعداد بھی مذکورہ ویب سائٹ پر رقم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور بیش بہا معلومات کو تقریباً تعیین کے ساتھ اس ویب سائٹ پر اپ ڈیٹڈ رکھا گیا ہے۔
انہی معلومات میں سے ایک اہم واقعہ دنیا میں مذہب کے اعتبار سے لوگوں کی تقسیم ہے اور یہ کہ کتنے لوگ کس کس مذہب سے جڑے ہوئے ہیں، ان کی تعداد اور اس کا تناسب کیا کچھ ہے اور 2050 ء تک ان کی تعداد کتنی رہے گی۔ اس ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کو دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے، دیگر ویب سائٹس اور ریسرچ پیپرز میں بھی تقریباً یہی اعداد و شمار مذہبی تقسیم کے حوالے سے رقم ہوا ہے۔ اس ویب سائٹ کے حساب سے عیسائی مذہب کے ماننے والوں کا تناسب اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد اسلام کے متبعین کی تعداد ہے، پھر ایسے لوگوں کی کثیر تعداد ہے جو کسی بھی مذہب سے جڑے نہیں یعنی لادین و لا مذہب والے۔ انہی معلومات کو پیو ریسرچ سنٹر واشنگٹن ڈی سی امریکہ (Pew Research Center) نے بھی تناسب کی صورت میں اسی ریسرچ ویب سائٹ پر آویزاں کیا ہے۔
ایک اللہ کو اور خاتم النبین ﷺ کو ماننے والوں کا تناسب مجموعی طور پہ کتنا کم ہے اس کا اندازہ آپ مذکورہ چارٹ سے لگا سکتے ہیں۔ ہجری سال 1443 ہے، یعنی اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی مسلماں کم اور اہل کتاب، عیسائی مذہب کو ماننے والے زیادہ ہیں۔
مذکورہ بالا ریسرچ کے مطابق 2050 ء میں بھی عیسائی عددی اعتبار سے سر فہرست رہیں گے۔ اس کے بعد بڑی تعداد ان کی ہے جو سرے سے مذہب ہی کے قائل نہیں۔ پھر ہندوؤں اور بدھ مت کی تعداد بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس ریسرچ کو بتانے کا مقصد عددی برتری دکھانا نہیں ہے بلکہ دور حاضر کے مسلمانوں سے یہ سوال ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی دعوت دین کے کام کو ایک بڑے پیمانے پر پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی یہاں تک کہ قم فانذر و ربک فکبر (المدثر 2۔
3 ) اور بلغوا و لو عنی آیة (صحیح البخاری 3461 ) کو تقریباً بھلا دیا گیا ہے۔ اگر انفرادی طور پر تو کوشش ہو رہی ہے تو کیا یہ کافی و شافی ہے؟ لیکن ایک عالمی دعوت کا اہتمام اجتماعی طور پہ نظر نہیں آتا، نہ کہ جدید تقاضوں کو استعمال کرتے ہوئے دعوت دین کے کام کو عزم صمیم کے ساتھ آگے بڑھانے کی خواہش مسلمانوں میں نظر آتی ہے۔ ہم تو گروہی نظریات اور آپس کے سازشی خیالات سے اپنے ذہنوں کو پاک نہ کر سکے، غیر مسلموں تک دین کی دعوت کو بڑے پیمانے پر پہنچانا تو ابھی دور کی بات اور دور کا کام ہے۔ لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ یہ اہم ترین دینی ذمہ داری ہم سب پر انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے ہر حال میں قائم رہے گی۔ ہم لوگوں نے آج کے دور میں اس کا خصوصی اہتمام تو نہیں کیے اور نہ ہی اس کے لئے اہل علم اور اہل ثروت و اہل قوت کو کوئی فکر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے، کہ دعوت دین کے لئے جو آزادی آج کی دنیا میں ریاستی اور عالمی سطح پر مانا گیا ہے اس سے با الاستیعاب فائدہ اٹھائیں جیسے عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights ) کے آرٹیکل 19 میں صریح الفاظ لکھا ہے کہ آزادی اظہار نظریہ کا حق بغیر مداخلت کے ( right to freedom of opinion and expression without interference ) کو ہر وقت مد نظر رکھا جائے اور اس حق کو تسلیم کیا جائے یوں مسلمان اپنی بات، اپنا نظریہ اور اپنی فکر کو دوسروں تک پہنچائیں بغیر تشدد اور انتہا پسندی کے۔
اور ساتھ ہی دعوت دین کو ان علاقوں، نخلستانوں اور ملکوں میں مکالمہ کی صورت میں عام کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ قرآن مبین اور رسول اللہ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے ہدایت اور صراط مستقیم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اس وقت علمائے اسلام کے لیے سب سے اہم کام کرنے کا یہ ہے کہ دنیا کے لیڈروں تک ایسی اسلامی کتب پہنچائی جائیں جس میں واضح طور پر جدید اسلوب نگارش اختیار کی گئی ہوں اور قرآن و سیرت سے اس طرح استدلال کی گئی ہوں جس سے ہر پڑھنے والے کو وضاحت کے ساتھ اسلام کی حقیقت تک رسائی ہو۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کے ساتھ مکالمہ کے لیے ماحول کو مزید ہموار کیا جائے تاکہ غیر مسلم دنیا اسلامی تعلیمات کی حقانیت کو زیادہ وسیع پیمانے پر جاننے لگے۔



جناب بڑی ہی خام خیالی میں مبتلا ہیں آپ۔
خام خیالی سے ہی ابتداء کر رہے ہیں ، چلیں کوئی خیال تو گوشہ ذہن مٰیں موجود تو ہے حضرت،،، بہر حال رہنمائی درکار رہے گی۔
مولانا وحید الدین خان کے دعوہ لڑیچر کا مطالعہ فرمائے۔
مولانا وحید الدین خاں کی کتب کے مطالعے ہی سے ذہن کا انتقال دعوت کی طرف ہوا ہے۔
جزاک اللہ خیرا بھائی