فرسٹ ائر کا سٹوڈنٹ جو کسی بزرگ سے بیعت ہو جانے کے بعد خود کو خوش نصیب سمجھتا ہے
کچھ عرصہ پہلے ایک فرسٹ ائر ایف ایس سی کا اسٹوڈنٹ کوچنگ کے سلسلہ میں میری اکیڈمی آیا جب اسے پڑھتے ہوئے کچھ عرصہ بیت گیا تو اس کے ساتھ میری کچھ آشنائی سی ہو گئی کیونکہ وہ بچہ بہت مودب اور ذہنی طور پر تھوڑا روٹین سے الگ تھا مثلاً نمازی تھا اور تبلیغی جماعت سے کافی گہری وابستگی رکھتا تھا۔ اکثر چھٹیاں کرتا تھا اور وجہ پوچھنے پر وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ وہ سہ روزہ لگا کر آیا ہے یا کوئی روحانی بزرگ آئے ہوئے تھے تین دن ان کے حلقہ ذکر میں شامل ہوتا رہا۔
اکثر اس کے چہرہ پر ایک الگ طرح کی بے چینی یا احساس جرم کا احساس جھلکتا رہتا تھا۔ ایک دن پوچھنے پر پھٹ پڑا کہنے لگا سر میرے والدین کا خواب ہے کہ میں ایف ایس سی اچھے نمبروں سے کر کے ایک کامیاب ڈاکٹر بنوں مگر جب سے میں نے تبلیغی جماعت میں شمولیت اور بزرگوں کی محافل ذکر میں شرکت کرنا شروع کی ہے تو مجھے ایک طرح کا روحانی سکون نصیب ہونے لگا ہے اور ہر قسم کی دنیا داری حتٰی ڈاکٹری پیشہ کو بطور پروفیشن چننا تک چند دن کی خوشی اور فریب نگاہ سے زیادہ میری نظروں میں ان کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔
میری سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ میں نے ایک بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اور انہی بزرگ کے مریدین کا یہ کہنا ہے کہ یہ بزرگ بہت پہنچے ہوئے ہیں اور میرا ہاتھ بیعت کی غرض سے ان کے ہاتھ میں آجانا میری مقبولیت کی سب سے بڑی سند ہے۔ سر اب میرا پڑھائی میں دل نہیں لگتا اور اب میں اپنے مرشد کی صحبت میں رہ کر سلوک کی منزلیں طے کر کے خالق حقیقی کو پہچاننا چاہتا ہوں۔ میں نے اس سے سوال پوچھا کہ جب تم نے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا تو اس وقت تمہاری زندگی کا کیا خواب یا مشن تھا؟
جواب میں کہنے لگا کہ میں ڈاکٹر بننا چاہتا تھا اور یہی میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد اور میرے والدین کی خواہش تھی۔ میں نے پوچھا کہ آخر اچانک سے ایسا کیا ہو گیا کہ تمہارے ذہن کا نقشہ بالکل ہی تبدیل ہو گیا؟ اس کا کہنا تھا کہ ایک دن دروازے پر دستک ہوئی سامنے تبلیغی جماعت کے بندوں کو کھڑا پایا جو منت سماجت کر کے مسجد لے گئے اور میری خوب آؤ بھگت کی اور مجھے سہ روزہ لگانے کے لیے تیار کر لیا۔ کچھ عرصہ ان کے بیچ رہنے کے بعد احساس ہوا کہ ہم دنیا کے لئے بہت کچھ کرتے ہیں مگر آخرت کے لئے کچھ بھی نہیں جبکہ حقیقت تو آخرت ہے اور دنیا دراصل مایا اور فریب نگاہ ہے۔
بس پھر میری ترجیحات بدلنا شروع ہو گئیں حتیٰ کہ مجھے دینی اور دنیاوی تعلیمات میں واضح تضادات نظر آنا شروع ہو گئے، مذہبی کتابیں انسانی ارتقاء کے متعلق کچھ اور بتا رہی ہیں جبکہ سائنس کچھ اور۔ جب میں نے ان تضادات کا تذکرہ اپنے رابطے میں چند علماء سے کیا تو انہوں نے فوری طور پر کہا کہ سائنس سو فیصد غلط اور مذہب سو فیصد درست ہے۔ اس کے بعد میں نے سائنس کو سمجھ کر پڑھنے کی بجائے صرف پاس کرنے کی نیت سے رٹا لگا کر پڑھنا شروع کر دیا اور اب بھی یہی ڈرامہ چل رہا ہے۔
میں نے اس سے پوچھا کہ اب تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ اس کا کہنا تھا کہ اب میں بہت زیادہ کنفیوز ہو چکا ہوں، دو قسم کے تعلیمی نظاموں اور دو قسم کے اساتذہ کی سوچ کے درمیان منقسم ہو چکا ہوں جس کا اثر میری تعلیم پر پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اب میں اپنے لیے تو نہیں مگر والدین کا خواب سمجھ کر پورا کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ والدین کا مجھ پر پورا حق ہے اور انہی کی وجہ سے مجھے یہ حیات ملی ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ اپنی بات کی تھوڑی تشریح کر دو تاکہ تمہاری ذہنی تصویر مجھ پر واضح ہو سکے؟
سر میرے کہنے کا مطلب ہے کہ جب میں اپنے مذہبی پیشواؤں یا مرشد کی صحبت میں بیٹھ کر علم سیکھتا ہوں تو مجھے وہ ہنڈرڈ پرسنٹ درست لگنے لگتا ہے مگر جب میں اپنے ایف ایس سی کے سائنسی مضامین کی کوچنگ کی خاطر اپنے سائنسی اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں تو مجھے دونوں تعلیمات میں بہت زیادہ تضادات محسوس ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ سے میرے اندر ایک طرح کا احساس جرم کا عنصر بہت تیزی سے پیوست ہونے لگا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ ان ڈاوٹس کی وجہ سے میری عاقبت خراب ہو، اس لئے پریشان ہوں اور آپ سے راہنمائی کا طلب گار ہوں۔
یقین مانیں ایک ذہین اور شاندار قسم کا ذہنی و تعلیمی کیریئر رکھنے والے سٹوڈنٹ کی یہ رجعت پسندانہ باتیں سیدھی میرے دل پہ لگیں اور سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ ایک ایسا ذہن جس کی ذہنی کلی ابھی پوری طرح سے نہیں کھلی تھی اسے پہلے ہی مسلنے والے میدان میں آ چکے تھے اور کھلنے سے پہلے ہی مرجھانے کا بندوبست ہو چکا تھا اس ڈر سے کہ کہیں پوری طرح کھلنے کے بعد سوچ کا بٹن نہ آن ہو جائے۔ میں نے سمجھانے کی خاطر اس سے چند سوال پوچھے
1۔ سائنسی علم کیا ہوتا ہے اور اسے کیوں حاصل کرنا ضروری ہے؟
2۔ تھیوری آف ایوولوشن کیا ہے اور اس تھیوری کو رد کرنے کی وجہ میں کوئی تین طاقتور قسم کی منمطقی مثالیں پیش کرو؟
3۔ جب سے آپ نے کسی بزرگ کی بیعت کی ہے اس وقت سے آپ کی شخصیت میں کوئی غیر معمولی قسم کی تبدیلی رونما ہوئی؟ اور جب آپ نے بیعت نہیں کی تھی اس وقت آپ کے اندر کیا کمی تھی؟
4۔ مذہب کو آپ نے کتنا پڑھا ہے؟ کیونکہ اس کی بنیاد پر آپ نے سائنس کی حقیقت کو بالکل رد کر دیا ہے؟
5۔ آپ کے اس سے جنونی فیصلہ کے پیچھے آپ کی ذہنی کاوش کا کتنا ہاتھ ہے یا سب کچھ سنا سنایا ہے؟
6۔ اپنی حیات کے متعلق اتنے بڑے فیصلے آپ نے عقلی بنیادوں پر لیے ہیں یا جذباتی بنیادوں پر
یہ سوالات سننے کے بعد وہ کافی دیر تک چپ بیٹھا رہا اور کافی سوچ بچار کے بعد کہنے لگا کہ سر ابھی میں نے اتنا کچھ تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا جتنا آپ نے پوچھ لیا ہے۔ ابھی اتنا گہرا سوچنے کی مجھ میں اہلیت نہیں ہے ”ہاں۔“ اتنا جانتا ہوں کہ میں نے اب تک جو فیصلے لیے ہیں وہ دماغ کی بجائے دل سے لئے ہیں۔ دماغ میں تو دنیاوی تعلیم کی وجہ سے بہت کچھ چلتا رہتا ہے مگر استغفار کہہ کر جھٹکتا رہتا ہوں۔ میں نے اسے بڑے بڑے علماء کے متعلق بتایا کہ ان کے بیٹے بیٹیاں بیرون ملک میں تعلیم حاصل کر کے اپنا نام کما رہے ہیں اور تمہاری زندگی کا ابھی آغاز ہوا ہے پڑھ لکھ کر پہلے کسی مقام پر پہنچ جاؤ پھر تسلی سے بیٹھ کر سوچنا کیونکہ اس وقت تک آپ زمانے کا سرد گرم خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے ہوں گے۔
زندگی کے اس فیز میں جو تم فیصلہ لو گے وہی تمہارا اپنا فیصلہ ہو گا ابھی تک آپ دوسروں کے فیصلوں و خیالات پر ٹکے ہوئے ہو۔ جب وہ بچہ رخصت ہوا تو میں سوچنے لگا کہ نہ جانے ہمارا کتنا ذہین میٹریل صحیح سمت راہنمائی یا آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے رل جاتا ہے اس میں والدین کا سب سے زیادہ قصور ہوتا ہے جو اپنے معصوم بچوں کی صحیح راہنمائی نہیں کرتے اور ان کے ذہنوں میں اپنا آبائی عقیدہ ان کے میچور ہونے سے پہلے ہی ان کے ذہن میں انڈیلنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم پر پوری توجہ دینے کی بجائے فکری طور پر بہک جاتے ہیں۔
اسی انتشار ذہنی کے اثرات ان کے معصوم ذہنوں پر گہرے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ میں ایسے بہت سے بچوں کو جانتا ہوں جو ایف ایس سی کرنے کے ساتھ ساتھ مغرب تا عشاء شارٹ قسم کے مذہبی بلکہ فرقہ کورسز بھی والدین کے اصرار پر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے ڈائریکٹ اثرات ان کے ذہنوں پر پڑتے ہیں اور وہ بچپن سے ہی انتشار خیالی کا شکار ہو کر دوہرے رویوں والے روبوٹ بن جاتے ہیں جن کا معاشرے میں کردار ”یس مین“ کے سوا کچھ بھی نہیں بچتا جب تک ہم جس بندے کا دماغ ہے اسے اپنے طور پر آزادانہ حیثیت میں استعمال کرنے کا موقع نہیں دیں گے تو یہ ایک طرح کا ذہنی استحصال کہلائے گا اور معصوم ذہنوں کے ساتھ یہ کھلواڑ ایک ایسا جرم ہے جس کی قیمت انہیں اپنی آنے والی زندگی میں چکانا پڑتی ہے۔



ستار صاحب میں مستقل اپ کے مضامین پڑھ رہا ہوں کیا ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ حالات بہتر ہو جائیں۔
ایک انتہائی اہم موضوع جس پر مزید بہت کچھ لکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ میری رائے میں شناخت کے بحران کا معاملہ ہے۔
ہمیشہ کی طرح بہترین تحریر۔ جو سوالات آپ نے بچے کو دیئے بہت حقیقی تھے ۔ بچے کے جوابات لے کر وہ بھی اس کالم میں شائع کرلیتے یا ایک اور کالم میں ضرور شائع کرلیں۔ بہت بہت شکریہ