میلوڈی کوئین اور ڈونگر پور کا شہزادہ
آج سے تقریباً پانچ سو سال پرانی بات ہے، 17 مارچ 1527 کی صبح دہلی 40 کلو میٹر کے فاصلے پر بھرت پور کے مقام پر خانوا کے میدان میں بابر کی مغل فوج اور رانا سانگا کی اتحادی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا ہیں بابر کی
فوج میں پچاس ہزار جوان اور رانا سانگا کے لشکر میں 500 ہاتھیوں کے ساتھ ایک لاکھ لڑاکا سپاہی ہیں۔ لیکن بابر کو ٹکنالوجی کی برتری حاصل ہے کہ اس کی فوج ہلکی توپوں سے بھی لیس ہے۔ صبح نو بجے جنگ کا آغاز ہوتا ہے، جو تھوڑی ہی دیر میں گھمسان کے رن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں عددی برتری کی وجہ سے رانا سانگا کی اتحادی فوجوں کا پلہ بھاری نظر آتا ہے لیکن جب بابر کی توپیں گولا بارود اگلنا شروع کرتی ہیں اور بابر کی فوج میں شامل تیر انداز تیروں کی بارش برساتیں ہیں تو رانا سانگا کی کے سپاہیوں کے قدم اکھڑ نے لگتے ہیں اور اس کے لشکری ہاتھی توپوں کی گھن گرج سے سراسیمہ ہو اپنی فوجوں کی طرف پلٹ کر اپنے ہی سپاہیوں کو روندنے لگتے ہیں۔ رانا سانگا کے اتحادی لشکر میں راول اودے سنگھ بھی اپنے فوجی دستوں کے ساتھ شامل ہیں راول اودے سنگھ ایک راجپوت ریاست وگاد کے راجہ ہیں۔ اچانک دشمن کا ایک تیر ہوا میں تیرتا ہوا نمودار ہوتا ہے اور چشم زدن میں راجہ راول اودے سنگھ کے سینے میں پیوست ہو جاتا ہے اور وہ وہیں ڈھیر ہو جاتے ہیں۔
اس جنگ میں بابر کو فتح حاصل ہوتی ہے۔ مرحوم راجہ راول اودے سنگھ کی ریاست وگاد دو حصوں میں بٹ کر ان کے دو بیٹوں میں تقسیم ہو جاتی ہے ایک ریاست کا نام ڈونگر پور اور دوسری ریاست کا نام بانس واڑہ رکھ دیا جاتا ہے
موجودہ ہندوستان کے صوبہ راجھستان میں واقع ڈونگر پور کی ریاست سن 1947 میں ہندوستان کی آزادی تک قائم رہی آزادی کے وقت ریاست ڈونگر پور پر سر لکشمن سنگھ بہادر حکومت کر رہے تھے اور ان کے بیٹے، شہزادہ راج سنگھ ڈونگر پور تھے۔ 1947 میں ریاست ڈونگر پور انڈین یونین میں ضم ہو گئی اور صوبہ راجھستان کا حصہ بن گئی۔ شہزادہ راج سنگھ ڈونگر پور 1935 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اندور کے ڈلی کالج سے گریجویشن کیا اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے بمبئی چلے گئے۔ وہاں ان کی ملاقات لتا منگیشکر کے بھائی ہریدیناتھ سے ہوئی دونوں ہی کرکٹ کھیلنے کے شوقین تھے جلد ہی یہ دونوں بے تکلف دوست بن گئے
شہزادہ راج سنگھ ڈوگر اکثر ہریدیناتھ کے ساتھ ان کے گھر بھی چلے جاتے تھے اس طرح یہ دوستی خاندانی مراسم کی شکل اختیار کر گئی گھر پر لتا منگیشکر بھی ان دونوں کی بیٹھک میں شریک ہونے لگیں۔ لتا کرکٹ کی شیدائی اور راج سنگھ ڈونگر پور موسیقی کے دلدادہ۔ گھر کی بیٹھک میں یہ ملاقاتیں جن میں عام طور پر کرکٹ کے کھیل اور موسیقی کے اسرار و رموز پر گفتگو ہوتی تھی جلد ہی ایک دوسرے کی شخصیت میں دلچسپی لینے کا باعث بن گئیں۔ کرکٹ اور موسیقی کے اس تال میل کو دیکھتے ہوئے کیوپڈ کے دیوتا کو تیر چلانے کا موقع فراہم کر دیا اور یہ تیر ان دونوں کو گھائل کر گیا
بیکانیر کی شہزادی راج شری جو راج سنگھ ڈونگر پور کی بھانجی ہیں نے اپنی سوانح عمری ’پیلیس آف کلاؤڈز۔ اے میموئیر‘ میں اپنے ماموں اور لتا منگیشکر کے درمیان تعلقات کے بارے میں لکھا ہے۔ اپنی یادداشت میں وہ لکھتی ہیں کہ دونوں کی ملاقات ہریدیناتھ منگیشکر کے ذریعے ہوئی جو لتا منگیشکر کے چھوٹے بھائی ہیں۔ کتاب میں لکھا ہے کہ ان کی ابتدائی دوستی بعد میں محبت میں بدل گئی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد راج سنگھ ڈونگر پور واپس آئے اور اپنے خاندان کے ساتھ لتا منگیشکر سے شادی کرنے کے اپنے ارادوں پر بات کی۔
راج شری لکھتی ہیں کہ شاہی خاندان نہیں چاہتا تھا کہ راج سنگھ کسی غیر شاہی خاندان میں شادی کریں۔ راج سنگھ ڈونگر پور کو خاندانی دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا اور آخر کار اس شادی کا ارادہ ترک کرنا پڑا تاہم انہوں نے زندگی بھر سنگل رہ کر اپنی محبت کی کہانی کو امر کر دیا۔ دوسری طرف لتا جی نے بھی زندگی بھر شادی نہیں کی راج شری کی خود نوشت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ راج سنگھ ڈونگرپور لتا منگیشکر کو پیار سے ’مٹھو‘ کہتے تھے۔
آج بی سی سی آئی دنیا کا سب سے طاقتور کرکٹ بورڈ ہے اور ہندوستانی کھلاڑی دنیا کے امیر ترین کھلاڑیوں میں شامل ہیں لیکن صورتحال ہمیشہ ایسی نہیں تھی، خاص طور پر 1980 کی دہائی میں جب ہندوستان نے اپنا پہلا ورلڈ کپ 1983 میں جیتا تھا۔
اس وقت، بورڈ کے پاس اپنے ان کھلاڑیوں کو انعام دینے کے لیے فنڈز نہیں تھے جو 1983 کا ورلڈ کپ جیت کر وطن واپس آئے تھے۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے بورڈ کے حکام خاصے پریشان تھے اس صورتحال سے نبٹنے کے لئے راج سنگھ جو ورلڈ کپ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کے مینجر تھے لتا منگیشکر سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ رقم اکٹھا کر سکیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ لتا جی کرکٹ سے کتنی محبت کرتی ہیں۔ انہوں نے لتا جی سے پوچھا کہ کیا وہ نئی دہلی کے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں مفت کنسرٹ کر سکتی ہیں۔ منگیشکر نے فوراً ہی رضامندی دے دی اور بورڈ جو اپنے کھلاڑیوں کو صرف 2,000 یومیہ الاؤنس ادا کرتا تھا وہ 14 کھلاڑیوں میں سے ہر ایک کو جمع شدہ رقم سے 1 لاکھ روپے کا انعام دینے میں کامیاب رہا۔
یہ دونوں شادی کے بندھن میں تو نہیں بندھ سکے لیکن راج سنگھ، لتا کے ساتھ دنیا بھر میں کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے ہمیشہ ان کے برابر والی نشست پر پائے گئے، لتا جی کی جینٹلمینز کے کھیل کرکٹ سے محبت کہہ لیں یا کرکٹ کے جینٹلمین سے محبت کا شاخسانہ، لتا کو کرکٹ سے دلچسپی بھی والہانہ عشق میں تبدیل ہو گئی اور شاید یہ ہی وہ ازلی درد تھا جو لتا جی کی رگوں میں سرایت کر گیا جس کا اظہار انہوں نے مشہور شاعر اور فلمی کہانیوں کے لکھاری جاوید اختر کو انٹرویو دیتے ہوئے اس طرح کیا اس طرح سے کیا کہ ”میں اگلے جنم میں لتا نہیں بننا چاہوں گی کیونکہ لتا کے درد لتا ہی جانتی ہے۔


