شبنم ڈکیتی کیس اور مجرموں کی معافی

کتاب ”کیا کیا نہ دیکھا“ سے آج حاجی حبیب الرحمٰن صاحب کا بیان کردہ ایک اور واقعہ یہاں اپنے الفاظ میں بیان کر رہا ہوں۔
مجھے انسپکٹر جنرل پنجاب کا عہدہ سنبھالے ابھی کچھ عرصہ ہی ہوا تھا۔ ایک دن مارشل لاء ہیڈ کوارٹر لاہور سے اطلاع آئی کہ اداکارہ شبنم کے گھر ڈکیتی ہوئی ہے۔ برگیڈیئر صاحب نے کہا اسے ذرا ذاتی طور پر دیکھ لیں کیونکہ سنا ہے کہ فنکار شاہ نور اسٹوڈیو کے باہر جمع ہو کے احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں جلد ہی شبنم کے گھر پہنچ گیا۔ اس وقت تک ڈی ایس پی گلبرگ، انسپکٹر سی آئی اے اور انسپکٹر کرائم برانچ وہاں پہنچ چکے تھے۔ واردات کے بارے میں ان تینوں کی اپنی اپنی رائے تھی۔ میں نے کسی سے اختلاف نہ کیا اور ہر ایک کو کہا کہ وہ اپنی اپنی لائن پر تفتیش کرے۔
میں نے موقع کا تفصیلی ملاحظہ کیا۔ گھر کا فون واردات کے وقت کاٹ دیا گیا تھا اور شبنم کے بیٹے کو ایک کمرے میں باندھ دیا گیا تھا۔ ڈکیتوں کی تعداد چار تھی۔ وہ اپنے ساتھ زیورات، خوشبوئیں اور میک اپ کا سامان لے گئے تھے۔ مجھے ڈی ایس پی گلبرگ نے بتایا کہ آپ کی پوسٹنگ سے کچھ عرصہ پہلے اداکارہ زمرد کے ہاں بھی ڈکیتی ہوئی تھی۔ وہاں بھی چلے جائیں وگرنہ پراپیگنڈہ کیے جانے کا امکان ہے کہ ہیرؤئن کے گھر تو گئے لیکن نسبتاً کم مشہور اداکارہ کے ہاں نہیں گئے۔ میں نے اس کی رائے سے اتفاق کیا اور اطلاع دلوا کے زمرد کے گھر چلا گیا۔ مجھے وہاں پا کر زمرد کی والدہ نے عجیب بات کی۔ بولی، اللہ کرے ہمارے گھر روز ڈکیتی ہو کہ آئی جی ہمارے گھر آئے۔
اگلے دن گورنر پنجاب جنرل سوار خان کے سٹاف افسر بریگیڈیر مختار احمد بھی شبنم کے گھر گئے اور اسے تسلی دی۔
مشہور تھا کہ ڈاکوؤں نے شبنم کے ساتھ زیادتی بھی کی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس کا جواب نفی میں تھا۔
اس کے تین دن بعد خواجہ طفیل ڈی آئی جی نے مجھے آدھی رات کو فون کیا کہ ایک ڈاکو پکڑا گیا ہے۔ صبح میں ان کے دفتر چلا گیا اور اس لڑکے کو دیکھا۔ میں نے سب کو کہا کہ وہ ذرا باہر چلے جائیں۔ میں نے اس لڑکے کو بغور دیکھنے کے بعد اس سے پوچھا کہ اگر تم نے ڈکیتی کی ہے تو لوٹا ہوا مال کہاں ہے۔ اس پہ اس نے کہا درحقیقت میں نے یہ کام نہیں کیا لیکن چونکہ پولیس والے مجھے مار پیٹ کر رہے ہیں اس لیے میں نے جان بچانے کے لیے یہ ڈکیتی اپنے سر لی ہے۔
اسی طرح بعد میں مجھے زمرد کی خالہ شمشاد بیگم نے بتایا کہ چند لڑکوں کو مار پیٹ کر کے پولیس والوں نے تسلیم کرایا کہ واردات انہوں نے کی تھی جبکہ اصل ڈکیت اور تھے جو کچھ عرصہ بعد گرفتار ہو گئے۔
خیر ہم نے مختلف ٹیمیں خبر گیری کے لیے نکالی ہوئی تھیں۔ ہمیں یقین تھا کہ لڑکے مسروقہ مال کو ضرور بازار میں لائیں گے۔ یہ ٹیمیں تمام ممکنہ مقامات کی نگرانی کرتی رہیں۔ ایک رات مقامی ایس ایچ او والی ٹیم ہیرا منڈی گئی اور ایک کوٹھے پہ گانا سننے بیٹھ گئی۔ وہاں موجود تماش بینوں میں شامل ایک لڑکے نے رقاصہ سے خوش ہو کر اس پہ ایک ہار نچھاور کیا۔ وہ ہار شبنم کا تھا۔ چنانچہ اس لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا اور اسی کی نشاندہی پر باقی بھی اسی رات گرفتار ہو گئے۔ تمام لڑکے جن میں سینئر سول سرونٹ ایف کے بندیال کا بھتیجا بھی شامل تھا گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم تھے۔ ایف کے بندیال اپنے بھتیجے کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ بندیال صاحب گورنر سوار خان کو بھی ملے۔ انہوں نے رعائت تو کیا کرنی تھی جیل میں ان لڑکوں کو بی کلاس بھی نہ ملنے دی۔
ایف کے بندیال صدر ضیاءالحق کے کافی قریب تھے۔ صدر صاحب ان کی بیٹی کی شادی میں بھی اسی عرصہ میں آئے۔ دولہا دلہن باقی فیملی ممبران کے ہمراہ سٹیج پر صدر صاحب کے ساتھ بیٹھے تھے۔ فوٹو سیشن ہو رہا تھا۔ صدر صاحب نے بندیال صاحب کو کہا، آئیں میرے ساتھ بیٹھیں۔ انہوں نے جواب دیا، نہیں سر میرا مقام تو آپ کے قدموں میں ہے۔ یہ اسی چرب زبانی کا نتیجہ تھا کہ صدر صاحب نے ان کے داماد کو کینیا میں سفیر لگا دیا۔ وہاں سے واپسی پر اسے سیمنٹ کارپوریشن کا چیئرمین لگایا گیا تھا۔
چاروں لڑکوں کے والدین/ رشتہ داروں نے شبنم کو بڑی رقم آفر کر کے صلع کی کوشش کی جسے میں نے کامیاب نہ ہونے دیا۔
جب کیس ٹریس ہو گیا تو اداکار محمد علی فلم ایسوسی ایشن کے وفد کے ہمراہ شکریہ ادا کرنے آئے۔ وہ ایک چیک دینا چاہتے تھے جو میں نے قبول نہیں کیا۔ اسی طرح شبنم بھی اپنے بیٹے کے ہمراہ میرے گھر شکریہ ادا کرنے آئی۔
ملزمان کے خلاف مارشل لاء کی عدالت میں مقد مہ چلا۔ سب کو سزا ہوئی لیکن بعد میں گورنر غلام جیلانی خان نے ان کی سزا معاف کر دی۔ وہ خود ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ مجھے مکمل یقین ہے کی انہوں نے ایسا صدر ضیاءالحق کے کہنے پہ کیا تھا۔

