آواز مسعود للہ ڈنکے کی چوٹ پر


مسعود اسلم للہ صاحب اپنی آپ بیتی میں فرماتے ہیں کہ ”تیسری کلاس میں ایک سرکاری سکول میں داخلہ ہوا تو میں نے فرمائش رکھ دی کہ میں پہلے روز سکول میں ایسے ٹرک پر جاؤں گا جسے مکمل سجایا گیا ہو اور اس میں اونچی آواز میں گانے بھی چلتے ہوں“ جو لوگ للہ صاحب کو جانتے ہیں وہ اس واقعہ کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ للہ صاحب ہر کام ایسے ہی ڈھول باجے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور بہت سی خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک خاص چیز للہ صاحب کو عام لوگوں سے منفرد بناتی ہے۔

آواز مسعود للہ میں اس طرح کے بہت سے منفرد واقعات آپ کو ملیں گے۔ میں اس آرٹیکل میں وہ بات شامل کرنا چاہتا ہوں جو پنجاب یونیورسٹی میں ہونے کی وجہ سے مجھ پر بھی گزری ہے۔ وہ ہے پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت کا جبر و تشدد اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوششیں۔ یہ بات للہ صاحب کی کتاب سے یہاں پیش کر رہا ہوں۔

جمعیت کے متعلق کچھ یوں لکھتے ہیں ”۔ جمعیت کو سرکاری طور پر سرپرستی حاصل تھی کیونکہ اس زمانے میں جب ملک پر ضیا الحق قابض تھے پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ قابض تھی اور جامعہ پنجاب کو مفتوحہ علاقہ سمجھتی تھی۔ انٹرنیشنل ایجنسیوں کی طرح جمعیت والے اپنے تربیت یافتہ ساتھی بھائی داخل کراتے چاہے وہ میرٹ پر ہوں یا نہ ہوں۔ ذہنی پسماندگی کا شکار یہ جماعتیے خود ساختہ خلافت بنا کر یونیورسٹی کے باقی طلبہ و طالبات کو یرغمال سا بنا لیتے۔ دراصل یہ طالبان کی وہ پنیری تھی جو بعد میں بعد میں ایک فصل کے طور پر تیار کی گئی۔“

مزید لکھتے ہیں کہ ”۔ لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ بیٹھنا، گھومنا پھرنا حتی کہ ہنس کر بات تک کرنا جمعیت کی نظر میں ایک قبیح جرم تھا۔ کلاس کے سوشل یا ہردلعزیز سٹوڈنٹس (جو کہ للہ صاحب تھے ) یا پوزیشن ہولڈرز جو جمعیت کے نظریات کے ساتھ متفق نہ ہوتے تھے وہ ناپسندیدہ افراد کی لسٹ میں شامل کر دیے جاتے اور ان کی آزادانہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی۔ ان جرائم کے علاوہ میرا ایک جرم یہ بھی تھا کہ میں سرگودھا سے ایم ایس ایف کا لیڈر ہونے کا لیبل بھی ساتھ لے کر آیا تھا۔“ یعنی کہ پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت والے کسی اور طلبہ تنظیم کے لیڈر کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ بہت خوف کی فضا تھی لیکن مسعود اسلم للہ نے ڈر کر خاموش رہنے کی بجائے جمعیت کے ساتھ سینگ پھنسائے رکھے اور اپنا وقت خوب گزارا۔ اس کا احوال آپ کو اس کتاب میں ملے گا۔

للہ صاحب کو یاری دوستی اور ڈیرہ داری پسند ہے۔ انہوں نے کینیڈا میں بھی اپنا ڈیرہ بنا رکھا ہے۔ یاری دوستی کے اتنے پکے ہیں کہ کینیڈا میں رہ کر بھی پاکستان میں رہنے والے دوستوں کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ ملاقاتیں کرتے ہیں جتنی پاکستان میں رہنے والے ان کی عمر کے دوست آپس میں کرتے ہیں۔

للہ صاحب ایک نڈر آدمی ہیں اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہیں۔ کینسر جیسے موذی مرض کے ساتھ ان کی لڑائی اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے اس موذی مرض کا سامنا اس دلیری سے کیا کہ ان ڈاکٹرز، ہسپتال کا دوسرا عملہ اور مریض ان سے حوصلہ لیتے ہیں۔ کینیڈا میں ان کے ہسپتال والے انہیں موٹیویشنل سپیکر کے طور پر بلاتے ہیں تاکہ وہ باقی مریضوں کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔ یہ سب احوال آپ اس کتاب میں پڑھیں گے۔

للہ صاحب کے ساتھ میری بھی تین دہائیاں پرانی دوستی ہے، باوجود کئی نظریاتی اختلافات کے۔ ہیپی ریڈنگ!

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik