چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
تعلیم کا کسی بھی معاشرے کے معاشی، معاشرتی اور اخلاقی تربیت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ایک بہتر اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے نظام تعلیم کے معیار کا بلند ہونا ضروری ہے۔ تعلیم جہالت کے اندھیروں میں روشنی کی کرن کا کام کرتی ہے۔ تعلیم محبت کے آداب سکھاتی ہے، کردار میں نکھار پیدا کرتی ہے اور سوچ میں انقلاب برپا کرتا ہے۔ تعلیم جہالت کے اندھیرے میں خوف اور وحشت کی فضاؤں میں روشن ہو کر اطمینان اور سکون کا سامان مہیا کرتی ہے۔ تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اقدامات کریں۔
یوں تو ہمارے ہاں بھی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر گلی کوچے میں تعلیم کے نام پر سکول کالج اور جامعات کھول رکھے ہیں۔ جو دعوے تو روشنی پھیلانے کے کرتے ہیں مگر حقیقت میں روشن چراغوں کو بجھانے کا کرتی ہے۔ تعلیم کے نام پر چلنے والے ان اداروں میں تخلیقی ذہنوں کو مار دیا جاتا ہے۔ قوم کے نام نہاد محسن تعلیم کے نام پر بچوں کے مستقبل کا سودا کرتے ہیں۔
تعلیم کے نام پر چلنے والے ان اداروں میں اچھا طالب علم وہی کہلاتا ہے جو استاد کا دیا ہوا سبق من و عن یاد کر کے کاغذ پہ اتارنے کا فن جانتا ہو۔ ان اداروں میں اساتذہ طالب علموں کو مضامین کے معانی اور مفہوم تو نہیں پڑھا سکتے مگر الفاظ کو حفظ ضرور کروا دیتے ہیں۔
ہمارے اکثر تعلیمی ادارے جنونی اور رٹا خوروں کی کھیپ تیار کرنے کی فیکٹری ہے۔ جہاں طالب علموں کی نہ تو ذہنی نشو نما ہوتی ہے اور نہ ہی اخلاقی تربیت یہی وجہ ہے کہ سالوں ان اداروں میں گزارنے کے باوجود نہ تو ہمارے رویوں میں کوئی تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی ہمارے سوچ میں کوئی انقلاب برپا ہوتا ہے۔
سوچ میں انقلاب کے لئے سوال ضروری ہے، مگر جن اداروں کی بنیاد ہی نفع پہ کھڑی ہو وہاں سوال کرنا بنیاد کو ہلانے کے مترادف ہو گا۔ شعور و آگاہی کا راستہ سوال سے ہی ہو کر گزرتی ہے، مگر جس استاد نے تعلیم کے مطلب کو لفظوں کو حفظ کرنا سمجھا ہو، اس کے حلقے میں سوال اور دلیل کی گنجائش ڈھونڈنا مشکل ہے۔ جہاں سوال کی گنجائش نہ ہو وہاں شعور کیسے پھیلے گا؟ جہاں کا استاد خود جنونی اور فرقہ ورانہ سوچ کا مارا ہو وہ بچوں کو محبت کے آداب کیسے سکھائیں گے؟ اور جس استاد کا مقصد ہی نفع کمانا ہو اس کو بچوں کے مستقبل اور آگاہی سے کیا لینا دینا۔
تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے مگر ہمارے حکمرانوں نے تعلیم کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے اور خود دور بیٹھے تماشا دیکھ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم کے نام پر دھندا عروج پر ہے۔ سڑکوں اور چوراہوں پر اشتہار کی بھر مار ہے، جہاں نمبروں کے دوڑ میں اول آنے والوں کی تصویر آویزاں کر کے اپنے اپنے تعلیمی اداروں کی اشتہار بازی کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ ہر ادارے کا دعوے ہوتا ہے کہ بچوں کے روشن مستقبل ان کے ہاتھ میں ہے۔
جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان اداروں کو جہالت کے اندھیروں نے ہر طرف سے گھیر رکھا ہے۔ جہالت کی ان تاریک راہوں کو روشن کرنے کے لئے علم کا دیا جلانا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے یہاں جن کے ذمے علم کا دیا جلانے کا تھا ان کی منزل تعلیم نہیں بلکہ منافع بن چکی ہے۔ یوں تاریک راہوں میں بھٹکنے والے طالب علموں کی ذہنوں کی آبیاری کرنے کے بجائے ان اداروں نے مقابلے کا بازار سجا رکھا ہے۔ جہاں ہر طالب علم انجان منزل کی طرف دوڑنے میں مصروف ہے۔ دوڑ میں شامل ان کھلاڑیوں کو نہ تو دوڑنے کی وجہ معلوم ہے اور نہ ہی دوڑنے کے اصول سے واقفیت، منزل اور راستوں سے بے خبر کھلاڑی روشنی کی تلاش میں دوڑے جا رہے ہیں کہ کہیں سے کوئی حکمت کے موتی ہاتھ آئے، مگر وہ جس سمت بھی سفر کرتا ہے، اندھیرا ہی پاتا ہے۔
اس اندھیر نگری میں جعلی استاد تعلیم کے نام پہ اچھے نمبروں کا چورن بیج کر اپنا منافع سمیٹ رہے ہیں۔ ملک کے ہر گلی کوچے میں جس طرح جعلی پیروں اور عاملوں نے اپنا جال پھیلا ہوا ہے بالکل اسی طرح جعلی استادوں نے بھی اپنا جال پھیلا رکھا ہے۔
جعلی محسنوں نے ٹیوشن سنٹر کے نام پر ہر جگہ آستانے کھول رکھے ہیں، جہاں محبوب کو قدموں میں لانے کے ٹوٹکے تو نہیں بکتے مگر مہنگے داموں علم ضرور بگتی ہے۔ جہاں کا طوطا قسمت کا حال تو نہیں بتاتا لیکن طوطا بن کر لفظوں کو یاد کر کے قسمت سنوارنے کا ہنر ضرور سکھاتا ہے۔
تعلیم کے نام پر چلنے والے ان اداروں میں آپ کو حکمت ڈھونڈ کر نہیں ملتی۔ یہ علم و تحقیق کے بجائے تجارتی مرکز بن چکی ہے جہاں ہر چیز کو منافع کے حساب سے پرکھا جاتا ہے۔
سکول اور جامعات قوم کے محسنوں کے کاروباری ادارے ہیں۔ جہاں سنہرے خواب دیکھا کر فیسوں کی مد میں لاکھوں روپے طالب علموں سے وصول کیا جاتا ہے۔ بھاری بھرکم فیس وصول کرنے کے باوجود یہ ادارے طلبہ کو معیاری تعلیم دینے اور ان کی کی تخلیقی صلاحیتوں نکھارنے میں بالکل ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن پھر بھی سنہرے خواب کی تکمیل کے لئے لوگوں کا رش لگا ہوا ہے۔ تعلیم کے نام پر دھندا عروج پر ہے اور دھوکہ دہی کا بازار گرم ہے۔
تعلیم کے نام پہ اپنے کاروبار چمکانے والے نام نہاد قوم کے محسنوں کا محاسبہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیکن ہماری روایات میں مقدس پیشہ والوں سے سوال کرنا تو گناہ سمجھا جاتا ہے، اور استاد تو قوم کا محسن ہوتا ہے لہذا اس مقدس پیشے سے منسلک لوگوں سے سوال کرنا اور ان کے احتساب کی بات کرنا بھی شاید گستاخی کے زمرے میں آئے۔
عدلیہ، فوج اور حکمرانوں پہ سوال اٹھانا تو ویسے بھی جرم کے زمرے میں ڈال دیے گئے ہیں۔ قوم کے محسنوں کو بھی قانون کے ذریعے تحفظ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاکہ گلشن کا کاروبار یونہی چلتا رہے۔
جعلی استادوں کے نام
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں،
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی


بھائی نے زبردست تحریر لکھی ہے ماشاءاللہ