یوکرین کو امریکی ضد لے ڈوبی


جنگیں تباہی لاتی ہیں، درد لاتی ہیں۔ ایسا درد جو آج کل یوکرین کے لوگ محسوس کر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر یوکرین کی ایک ماں کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، یہ ماں سڑک کنارے اپنے بچوں کے ساتھ حسرت و یاس کی تصویر بنی کھڑی ہے، اسی طرح یو کرین کے فوجیوں کی اپنے پیاروں سے جدائی کی ویڈیوز بھی کئی آنکھوں میں پانی برسا رہی ہیں۔

پوری دنیا کی نظریں اس وقت روس یوکرین تنازعہ پر لگی ہوئی ہیں۔ مغرب کی یوکرین کو اپنے اتحاد میں شامل کرنے کی ضد سرد مہری کا باعث بنی، یہ ضد اب عسکری تصادم میں بدل چکی ہے۔ یہی ضد ایک وقت میں افغانستان، عراق کی تباہی کا باعث بنی، سوال یہ ہے کہ اصل تنازع ہے کیا؟ معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا؟ جلتی پر تیل کا کام کس نے کیا؟ امن کے پیامبر غفلت کی نیند کیوں سوتے رہے؟

یوکرین کو امریکیوں نے مروا دیا ہے، یوکرین کے صدر بیچارگی سے مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن مدد کو کوئی نہیں آ رہا۔ 1991 میں یہی یوکرین ایٹمی پاور تھا، امریکا کے کہنے پر اس نے اپنا جوہری پروگرام رول بیک کر دیا تھا، یوکرین کو خواب دکھائے گئے تھے ہم آپ کی معیشت کو بہتر کریں گے، آپ کے ملک کو چار چاند لگا دیں گے، آج جب اسے مدد کی ضرورت پڑی تو امریکا ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سینگ۔ شکر ہے کہ پاکستان نے امریکا کی یہ بات نہیں مانی، ورنہ آج ہم بھی اسی بے بسی میں ہوتے۔

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ برے وقت میں کوئی کسی کی مدد کو نہیں آتا۔ امریکا کی تاریخ تو بے وفائی کی تاریخ ہے، جس نے بھی مدد کی اس کے ساتھ امریکا نے بے وفائی کی۔ امریکا افغانستان کا دوست بن کر آیا، جب بھاگا تو پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، عراق میں ان کے عوام کا خیر خواہ بن کر آیا تھا پھر کیا ہوا دنیا نے دیکھا۔ شام میں بھی ایسا ہوا۔

امریکا نے باتیں کر کر کے یوکرین کو آگ میں جھونک دیا۔ سوویت یونین ٹوٹ گیا، برلن کی دیوار گر گئی، امریکیوں کو اور کیا چاہیے تھا، روس سے اب کیا چاہیے؟ روسی صدر پیوٹن جب 1999 میں وزیر اعظم بنے تب اس کے پاس کوئی تجربہ نہیں تھا، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، بیرونی قرضوں پر ملک جی رہا تھا، مغرب اس کو بے عزت کرتا رہا۔ اس کا ٹھٹہ اڑایا جاتا رہا۔ امریکیوں کو کہیں تو لائن کھینچنی چاہیے کہ اب بس ہو گیا، یا پھر پوری دنیا کو ہی نیٹو میں شامل کرنا ہے؟

یہ جارجیا کو نیٹو میں شامل کرنا چاہتے تھے، روس نے 2007 میں اس پر حملہ کر دیا۔ روس نے یوکرین کو نیٹو کا حصہ بننے سے روکا تھا جو باز نہیں آیا۔ یوکرین تینوں اطراف سے روس کے گھیرے میں آ گیا ہے، پیوٹن یوکرین پر قبضہ نہیں چاہتے لیکن وہ اپنی حکومت چاہتے ہیں، یوکرین کے صدر منتخب ہو کر آئے ہیں، ماضی میں یہ ایک کامیڈین رہے ہیں۔ اب اپنی عوام کو اپنے مسخرے پن کی وجہ سے مروا رہے ہیں۔ روسی صدر کا دعویٰ درست ہے کہ یوکرین کے حصوں پر ان کا حق ہے۔ روس یوکرین کی علیحدگی ہضم کر گیا تھا، امریکہ نے ہلہ شیری دے کر پھر جگا دیا ہے۔ روس کوئی چھوٹا ملک نہیں، اب پھر ایک طاقتور ہو گیا، اقتصادی پابندیوں سے زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

دنیا میں طاقت کا توازن تو بگڑے گا لیکن اس وقت پہلے والی سرد جنگ کا ماحول نہیں، اس وقت مختلف قسم کی صورتحال ہے، امریکا یہ سچ نگلنے کو تیار نہیں کہ اس کی وہ طاقت نہیں رہی جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ہوئی تھی۔ امریکا اب انٹرنیشنل نظام کو اپنی مرضی کے مطابق تشکیل نہیں دے سکتا۔ روس نہیں چاہتا کہ یوکرین، جارجیا وغیرہ کسی مغربی اتحاد یا نیٹو کا حصہ بنیں۔ نیٹو نے یوکرین کو اشارہ دیا کہ وہ بھی اتحاد میں آ جائے، اس کی وجہ سے یہ ماحول پیدا ہوا ہے۔ پولینڈ میں امریکی افواج موجود ہیں، کریمیا کے لوگ روس میں شامل ہونا چاہتے ہیں، اسی طرح یوکرین کے اور بھی لوگ ہیں جو روس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔

حالات اس وقت بہت گمبھیر ہیں، نیٹو کے ایک عرصہ سے عزائم تھے کہ یوکرین کو اپنا حصہ بنایا جائے۔ 2014 میں روسی نواز صدر وکٹر کے خلاف امریکا نے تحریک چلوائی، ان کی حکومت ختم ہوئی، سوال یہ ہے کہ بحران کتنا بڑھ سکتا ہے؟ یورپ نے فی الوقت روس سے گیس کی امپورٹ روک دی ہے، یورپ کو روس کی گیس کی ضرورت پڑے گی۔ روس کو عالمی معاہدوں سے نکالتے ہیں تو عالمی نظام میں گڑ بڑ پیدا ہو جائے گی۔ امریکا نے اپنے سات ہزار فوجی پولینڈ بھیج دیے ہیں۔

امریکا چھوٹی ریاستوں کو بچانا چاہتا ہے۔ مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہو گا۔ فی الحال بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔ روس اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر واپس نہیں لوٹے گا۔ طاقت کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب اپنی مرضی کا امن چاہتے ہوں۔ روس اور امریکا اپنا اپنا امن چاہتے ہیں۔ امریکا اعلان کردے کہ ہمارا یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تو یہ ٹینشن ختم ہو جائے گی۔ امریکا یہ بات کہنے کو تیار نہیں۔ اقتصادی پابندیاں زیادہ کام نہیں آئیں گی۔

Facebook Comments HS