خوشی سستے میں

گاڑی ایسی تیز دوڑ رہی تھی جیسے اندھیرے سے فرار ہو کر روشنی کی طرف گامزن ہو، صبح کا وقت تھا، اندھیرا دن کے ٹھیکیدار کی آمد کا سن کر بس تحلیل ہوا جا رہا تھا، دور کہیں پہاڑوں کے اوٹ سے روشنی کی کرنیں آسمان کی طرف بلند ہوتی نظر آ رہی تھیں، گاڑی روشنی پھیلنے سے پہلی ہی شہر کی حدود سے نکل چکی تھی اور ایک قصبہ نما علاقے کی طرف رواں تھی۔
ڈرائیونگ سیٹ پر ایک نوجوان بیٹھا تھا، جس کا موڈ ایسے آف تھا جیسے کسی نے زبردستی اٹھا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا ہو اور انکار کا پتا اس کے ہاتھ ہی میں رہ گیا ہو۔ اس کے پاس والی سیٹ پر ایک بڑی عمر والے شخص بیٹھے اپنے ناک کی نوک پر چشمہ سجائے موبائل پر میسج لکھ رہے تھے اور اسی دوران کار کے اندر پچھلے پندرہ بیس منٹ سے چھائے ہوئے سناٹے کو توڑ کر نوجوان نے کہا ”بابا! ریٹائرمنٹ کے بعد آج آپ پہلی دفعہ اتنے جلدی اٹھ کے باہر کسی کام کے لئے نکلے ہیں، اور وہ بھی اسی دن جب ڈرائیور بھی چھٹی پر ہے، شاید کوئی بہت ہی ضروری کام ہے“ ۔
باپ نے گھور کر بیٹے کو دیکھا، جس کی آنکھیں سڑک پر اور ہاتھ سٹیئرنگ پر جمے ہوئے تھے، اور بولا ”تمھاری اماں اصرار کر رہی تھی، تمھیں لے جاؤں، ورنہ مجھے بھی آتا ہے گاڑی چلانا“ ۔
چند لمحوں کے سکوت کے بعد پھر سے بیٹے نے پوچھا، ”کیا واقعی کوئی ضروری کام ہے، جو ہم اتنے سویرے اتنی دور آ نکلے ہیں؟“ ۔
”ہاں بہت ضروری کام ہے“ جواب دے کر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے، اور پھر کہا ”آج کافی عرصے بعد مجھے احساس ہو رہا ہے، کہ میں بھی کسی کام کا ہوں، ابھی بھی اس دنیا والوں کو میری ضرورت ہے، بیکار نہیں ہوا ہوں، جوانی اور طاقت کا احساس ہو رہا ہے مجھے“ اس کے غصے نے مسکراہٹ کی چادر اوڑھ لی، اور چند لمحے چپ رہنے کے بعد بیٹے کی طرف دیکھا کر کہا، ”اور سنو! آج کے دن کے مجھے 15000 روپے بھی مل رہے ہیں، کوئی مفت کا بیگار نہیں ہے۔“
سٹیئرنگ گھماتے اس کے بیٹے نے ہونٹ بھینچ کر کہا ”بابا لاکھوں میں تو آپ کی پینشن ہے، پھر 15000 کے لئے یہ خواری کیوں؟“
اس دفعہ بڑے میاں کو غصہ آ ہی گیا لیکن ساتھ ہی تھوڑا سوچ میں پڑ گئے اور پھر اچانک نیم غصے کی حالت میں بولے ”تنخواہ اور پنشن چاہے لاکھوں میں ہو یا کروڑوں میں لیکن معمول سے ہٹ کر اگر آپ کو کسی کام کے 100 روپے بھی اضافی ملتے ہوں نا، تو اس کی خوشی معمول میں ملنے والے لاکھوں روپوں سے زیادہ ہوتی ہے، (اس نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا) لیکن یہ بات ابھی تمھاری سمجھ میں نہیں آئے گی۔“ ۔ (یعنی لاکھوں کی خوشی ہزاروں میں۔ )

